اوراق غم مصنفہ ابوالحسنات سید محمد احمد قادری: - ردِ رافضیت…

اوراق غم مصنفہ ابوالحسنات سید محمد احمد قادری:

  محمد علی

صفحہ 2 از 7

ناسخ التواريخ: ذکر سیدنا حسن مثنیٰ کا خلاصہ یہ ہے کہ حسن مثنیٰ نے کربلا کے دن ابنِ سعد کے شکر کے ساتھ جہاد کیا اور کثیر زخم کھائے اور شہیدوں کے درمیان گر پڑے جبکہ سر تنوں سے جدا تھے اس وقت سیدنا حسن مثنیٰ کے جسم میں ابھی کچھ جان باقی تھی اسماء بن خارجہ بن عتبہ بن حسین بن حذافہ بن البدر فزاری جس کی کنیت ابو حسان تھی اس نے سیدنا حسن مثنیٰ کے بارے میں سفارش کی کہ تم اس کو چھوڑ دو میں خود اس کو پیش کر دوں گا یہ ابو حسان کی سفارش اس لیے تھی کہ سیدنا حسن کی والدہ سیدہ خولہ دختر منظور قبیلہ فزارہ سے تھیں جب عبید اللہ بن زیاد کو اس واقعہ کا علم ہوا اس نے کہا ابو حسان کو بھتیجا دیدو لہٰذا ابوحسان سیدنا حسنؓ کو کوفہ میں لے آئے اس کا علاج کیا یہاں تک کہ وہ صحت یافتہ ہو گئے پھر سیدنا حسن مثنیٰ مدینہ تشریف لے آئے مذکورہ حوالہ سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ حدیث دامادئ سیدنا قاسم بن حسن درد کربلا ترویج کردن حسین فاطمہ را باوازا کاذیب روایت است حسن راوو دختران را فزوں نہ بو دے یکے فاطمہ زوجہ حسن مثنیٰ وآں دیگرے سکینہ بود بعض گویندا ورا دختر دیگر بود که زینب نام داشت و اگر با غبارنا استوار متوصل شوند که اور فاطمہ دیگر بودو مابنپر پریم خواهیم گفت که او فاطمہ صغریٰ است و أود در مدینہ جائے واشت اور انتواں و قاسم بن حسن بست۔ (ناسخ التواریخ در احوال سید الشہداء جلد دوم صفحہ 222 تا 224 ذکر حال سیدنا حسن مثنیٰ مطبوعه تہران)

ترجمہ: سیدنا قاسم بن حسن کو سیدنا حسینؓ کا اپنا داماد بنانا اور سیدہ فاطمہ نامی لڑکی کا ان سے عقد کرنا میدانِ کربلا میں جھوٹی روایت ہے سیدنا حسینؓ کی صرف دو صاحبزادیاں ہیں ایک سیدہ فاطمہ جن کی شادی سیدنا حسن مثنیٰ سے ہوئی اور دوسری سیدہ سکینہ تھی بعض کہتے ہیں کہ ان کی ایک اور صاحبزادی سیدہ زینب نام کی تھی اور اگر غیر معتبر روایات سے یہ ثابت بھی ہو جائے کہ سیدنا حسینؓ کی ایک تیسری صاحبزادی تھی ہم اسے قبول بھی کر لیں اور اسے سیدہ فاطمہ صغریٰ کہا جائے جو مدینہ منورہ ہی پیچھے رہ گئی تھیں تو پھر اس کا سیدنا قاسم کے ساتھ نکاح کس طرح ہو گیا؟ 

قارئین کرام! ناسخ التواریخ کی مذکورہ عبارت کا کچھ ترجمہ تھا اور خاص مقصد کے لیے جو اصل عبارت تھی وہ فارسی میں ہی ذکر کی گئی ہے صاحب ناسخ التواریخ نے ایک تو یہ ثابت کیا ہے کہ سیدنا عالی مقام کی صرف دو صاحبزادیاں تھیں اور دوسری بات یہ لکھی کہ اگر تیسری صاحب زادی مان بھی لی جائے اور اس کا نام صُغریٰ بھی تسلیم کر لیا جائے اور اسے مدینہ منورہ ہی پچھے رہ جانا تسلیم کر لیا جائے تو ان تمام باتوں کے ہوتے ہوئے سیدنا عالی مقام نے ان کا نکاح قاسم بن محمد کے ساتھ کیا یہ کس طرح درست ہو سکتا ہے؟ اس لیے قاسم بن حسن کی شادی کو ایک جھوٹ اور ناممکن عمل قرار دیا۔

اصل حقیقت یہ ہے کہ سیدنا حسن مثنیٰ نے سیدنا حسینؓ کے ساتھ میدانِ کربلا میں یزیدیوں کے ساتھ جہاد کیا ان کی زوجہ سیدہ فاطمہ بھی کربلا میں موجود تھیں اسی سیدہ فاطمہ کو اگر سیدہ فاطمہ صغریٰ کہا جائے تو ان کے خاوند یعنی سیدنا حسن مثنیٰ کے ہوتے ہوئے کسی اور سے سیدنا حسینؓ کا نکاح کر دینا کس قدر بہتان عظیم ہے اور اگر کوئی بدبخت یہ کہے کہ سیدنا حسن مثنیٰ کے ہوتے ہوئے قاسم سے بنت حسین کا نکاح کر دیا تو کس قدر بہتان عظیم ہے اور اگر کوئی بدبخت یہ کہے کہ سیدنا حسن مثنیٰ کی وفات کے بعد یہ نکاح ہوا یہ بھی غلط ہے کیوں کہ تاریخ گواہ ہے کہ سیدنا حسن مثنیٰ واقعہ کربلا کے بعد کافی عرصہ تک زندہ رہے یعنی 37 سال تک کیونکہ ان کا وصال 97ھ میں ہوا۔

( عمدۃ الطالب کے حاشیہ پر صفحہ 10 پر ذکر سیدنا حسن مثنیٰؓ)

 اور سیدنا قاسم کی شہادت کربلا میں ہوئی تو جب سیدنا قاسم سیدنا حسن مثنیٰ کی موجودگی میں شہید ہوئے تو پھر الٹا یہ کہنا کہ سیدنا حسن مثنیٰؓ کے وصال کے بعد سیدنا قاسم کی سیدہ فاطمہ صغریٰ سے شادی ہوئی کتنا بڑا جھوٹ اور صریح بہتان ہے اور پھر کمال ڈھٹائی اور ہٹ دھرمی سے ان باتوں کی نسبت سیدنا عالی مقام کی طرف کی جارہی ہے ان اکاذیب کا جواب ان سنی واعظین وغیرہ محتاط مصنفین کے ساتھ ساتھ سیدنا حسین کی محبت میں مرنے والے شیعہ ذاکرین کو رب کے حضور کل قیامت کو ضرور دینا پڑے گا انہی اکاذیب کے پیش نظر مرزا تقی مزید لکھتا ہے کہ اگر سیدہ فاطمہ صغریٰ مدینہ میں تھیں اور سیدنا قاسم میدانِ کربلا میں تھے دونوں کا نکاح سیدنا حسین نے باندھا یہاں تک تو بات بنتی نظر آتی ہے لیکن نکاح کے بعد سیدنا قاسم اپنی بیوی کا ہاتھ تھامے کربلا میں کھڑے ہیں یہ بیان کیا جاتا ہے تو اس کا صاف صاف مطلب یہ کہ سیدہ فاطمہ صغریٰ بھی مدینہ کی بجائے کربلا میں تھیں اگر کربلا میں تھی تو سیدنا عالی مقام کا ان کا مدینہ میں نکاح پڑھانا کیا ایک ہے ان تمام باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ میدانِ کربلا میں سیدنا قاسم کی شادی کا واقعہ از اول تا آخر جھوٹ پر مبنی ہے۔

صفحہ 2 از 7