اوراق غم مصنفہ ابوالحسنات سید محمد احمد قادری: - ردِ رافضیت…

اوراق غم مصنفہ ابوالحسنات سید محمد احمد قادری:

  محمد علی

صفحہ 3 از 7

نوٹشیعہ ذاکرین اور سنی نام نہاد واعظین اس قسم کے قصہ جات بیان کرتے ہیں اور اپنی تصانیف میں ذکر کرتے ہوئے اس کا پس منظر کیا ہے؟ جب کہ دونوں طرف کی معتبر کتب تاریخ ایسے واقعات سے خاموش نہیں بلکہ تردید کرتی ہیں آئیے ہم آپ کو اس کا پس منظر بتاتے ہیں جس دور میں ایسے فرضی واقعات گھڑے گئے اس میں ذاکرین و واعظین نے لوگوں میں یہ مشہور کر رکھا ہے کہ جو ذاکر یا واعظ سیدنا عالی مقام کی مظلومیت بیان کرے گا وہ سیدھا جنتی ہوگا مظلومیت کے بیان کرنے کے لیے انہیں فرضی واقعات و حکایات کا سہارا لینا پڑا تاکہ عوام کو خوب رلائیں اور سیدنا عالی مقام کی مظلومیت ثابت کر کے خود کو جنت کا مستحق سمجھیں ایسے من گھڑت واقعات لوگوں نے سن سن کر یاد کر لیے پھر ایسے ذہن نشین ہو گئے کہ انہیں جب بھی وہ سنتے یا کسی کتاب میں رقت آمیز لہجے میں لکھے گئے پڑھتے تو خوب روتے جب عوام کے جذبات اس قدر پختہ اور آگے بڑھ چکے تھے تو راسخ علماء نے اسے ضرور بھانپا لیکن مخالفت کی وجہ سے انہیں بھرپور طریقے سے روک نہ سکے اور کچھ چپ سادھ لی پھر انہیں دیکھا دیکھی مختلف لوگوں نے ایسے واقعات فرضیہ کی کتابیں لکھ ماریں بعد میں آنے والے ذاکرین و واعظین کے لیے انہیں کتابوں کے واقعات و انداز بیان عوام سے داد وصول کرنے کے لیے بہترین سرمایہ تھے ایسے واقعات کو بیان کر کے سامعین کو رلانا اور نوحہ وغیرہ پر ابھارنا ان کی من پسند روش ہوگئی یہ سب کچھ کسی اور طریقہ سے ممکن نہ تھا پھر ایسا دور آیا کہ واعظین و ذاکرین میں سے انہی باتوں کو بیان کر کے روتا رلاتا ہے اس کی بکنگ دوسروں کی نسبت زیادہ ہوگئی اور جو زیادہ رقت بھرے انداز میں ایسے فرضی واقعات بیان نہیں کرتا اس کی بکنگ دوسروں کے مقابل میں کم ہوگئی اور یوں یہ لوگ اپنے مذموم مقصد میں کامیاب ہوئے اور ہو رہے ہیں سیدنا قاسم کی شادی سیدہ فاطمہ صغریٰ کا رونا اور واویلا کرنا گھوڑا اور اس کے پاؤں تھامنا وغیرہ ایسے ہی واقعات میں سے ہیں جن کی کوئی اصل نہیں بلکہ ایک کتاب بنام "روضۃ الشہداء" جو ملا حسین کاشفی کی تصنیف ہے اس میں یہ جھوٹی کہانیاں اور افسانے ایسے رنگین انداز میں لکھے جنہیں پڑھ کر قاری مضمون کے سمندر میں ڈوب جاتا ہے اور اس کی آنکھیں بےاختیار اشکبار ہو جاتی ہے ایسا شخص سنی کہلاتا ہے لیکن مسلکاً شیعہ یا اس کے قریب ہے اس کی صحیح حقیقت ہماری اسی کتاب میزان الکتب کے کئی مقامات پر واضح ہو چکی ہے ہم نے ان پیشہ وار واعظین و ذاکرین کا جو طرز عمل بیان کیا ہے اس کی ایک جھلک شیعہ مجتہد شیخ عباس قمی کی زبانی سنیے۔

منتہى الامال: ایک حدیث میں اس قسم کے لوگوں کا حال بیان کیا گیا ہے جو دنیا کو آخرت کے بدلے طلب کرتے ہیں ان کی اس قسم کی حرکات یہ ثواب عظیم سے محرومی کا ان کے لیے سبب نہیں کیونکہ شیطان پوری طرح تمام انسانوں کا دشمن ہے لہٰذا جس عمل میں وہ انسان کا نفع سمجھتا ہے تو شیطان اس کو فاسد کرنے کی طرف متوجہ کرتا ہے جیسا کہ سیدنا حسینؓ کے توسل سے حسبِ ضرورت دین اور ائمہ طاہرین کی اخبار و دنیا و آخرت میں نجات کا باعث ہے اور ہر عمل جو دنیا کے واعظ کا موجب ہو اس پر نااہلوں کی توجہ ماتم اور ہجوم عام ہوتا ہے جیسا کہ ذکر مصائب کو یہ ایک دنیاوی معاش کا معتبر ذریعہ ہے اور عبادت کی جہت اس میں بہت ہی کم ملحوظ ہے تو ان ذاکرین نے اس ذکر مصائب کو آہستہ آہستہ اس مقام پر پہنچا دیا کہ علماء مذہب کے مجمعوں میں انہوں نے صریح جھوٹے ان مصائب کا ذکر شروع کر دیا اور وہ علماء ان کو منع نہ کر سکے لہٰذا کچھ ذاکرین نے رلانے پٹانے کے لیے واقعات کی اختراع کی کوئی پرواہ نہ کی اور یہاں تک کہ انہوں نے یہ ظاہر کرنا شروع کر دیا کہ "من ابکی فله الجنة" جس نے رلایا پٹایا اس کے لیے جنت ہے جوں جوں زمانہ گزرتا گیا ان جھوٹے قصوں نے تالیفی صورت اختیار کر لی اور جب بھی کوئی فاضل اور امانت دار محدث اس طرح کی جھوٹی باتوں سے روکتا ہے کیسی مطبوع کتاب یا کسی مسموع کلام سے نسبت پکڑتا ہے یا حدیث پر مستقل دلائل سے تمسک کرتا ہے یا ضعیف روایات روکنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ بہت سی قوموں کی طرف سے ملامت اور توبیخ کا نشانہ بنتا ہے مثل ایسے جملوں کے جو کہ کتب جدیدہ میں مشہور واقعات کے بارے میں ہیں اور اہلِ علم الحدیث کے نزدیک ان واقعات کی کوئی اہمیت نہیں مانند عروسی قاسم در کربلا که در کتاب روضته الصفاء تالیف فاضل کاشفی نقل شدہ جیسے کہ قاسم کی شادی کربلا میں جوکہ فاضل کاشفی کی کتاب روضتہ الصفاء میں نقل کی گئی ہے۔ 

(منتهی الامال: جلد اول صفحہ 55 در نسخ و تکالیف سلسلہ جلیلیہ مطبوعہ تہران)

صفحہ 3 از 7