اوراق غم مصنفہ ابوالحسنات سید محمد احمد قادری: - ردِ رافضیت…

اوراق غم مصنفہ ابوالحسنات سید محمد احمد قادری:

  محمد علی

صفحہ 4 از 7

 قارئین کرام! شیخ عباس قُمی نے واقعہ کربلا کے ضمن میں رونے رلانے اور پیٹنے کے لیے من گھڑت واقعات کا پس منظر بڑی خوبی سے بیان کیا اور حقیقت بھی تقریباً یہ ہی ہے ابتداء شیعہ ذاکرین نے پیسے بٹورنے کی خاطر رونے پیٹنے کے واقعات گھڑے پھر زمانہ گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ من گھڑت واقعات کتابوں میں لکھے جانے گئے انہی واقعات میں سے ایک سیدنا قاسم کی میدانِ کربلا میں شادی کا واقعہ بھی ہے اس طرح ہر آنے والے نے من گھڑت واقعہ میں مزید اضافہ کیا اور بات کا بتنگڑ بنا دیا پھر شیعوں کی کتابوں مثلاً فاضل کاشفی سے جھوٹے واقعات اہلِ سنت واعظین نے بھی اسی غرض کے پیش نظر بیان کرنے اور لکھنے شروع کر دیے اور یوں ان نادانوں نے نادانستہ طور پر شیعیت کے اصول کو مضبوط کرنے میں بہت کردار ادا کیا اور خوب دنیا کمائی ان سنی واعظین نے مسلک اہلِ سنت کو نقصان عظیم پہنچایا شیعہ ذاکرین کی جگہ اب ان سنی واعظین نے لے لی اور خوب دنیا سمیٹ رہے ہیں ہم نے ان کی کُتب اور ان کے طرز خطابات کو اس لیے بیان کیا تاکہ بعد میں آنے والی نسلیں بھٹکنے سے بچی رہیں وہ یوں کہ اگر کوئی شیعہ رُلانے اور پیٹنے کے متعلق ان واعظین کے کیسٹ یا ان کی تصانیف پیش کر کے اسے ثابت کرے اور کہے کر دیکھو تمہارے سنی عالم نے یہ کہا ہے یہ لکھا تو ہم ان کے بارے میں صاف صاف لکھ دیتے ہیں کہ ایسے واعظ اور ان کی ایسی تصانیت مسلک اہلِ مختص کے ہاں معتبر نہیں ہیں اس لیے ان کا کوئی حوالہ ہمارے لیے قابل قبول نہ ہوگا۔

فاعتبروا يا اولى الابصار

مروجہ محافلِ محرم کے متعلق شیعہ مجتہد عباس قمی کا فتویٰ:
تنبيہ:

محافل حسین میں جو من گھڑت روایات بیان کی جاتی ہیں ان کا شرعی فیصلہ منتہی الامال مصنفہ شیعہ مجتهد شیخ عباس قمی کی طرف سے نقل کیا جاتا ہے درج ذیل فوٹو کاپی لف کی جارہی ہے ملاحظہ فرمائیں۔

منتہی الآمال کی عبارات:
عبارت 1: وبالجمله اخبار ایک باب بسیار است و ایں مختصررا گنجائش بیش ازیں نست پس شائسته است که شیعان و ذاکرین خصوصا متفت شده در این سوگواری رو عزاداری بروجہی سلوک کنند که زبان نواصب و رازنه شود و اقتصار بر واجبات و مستحبات کرده از استعمال محرمات از قبیس مناکۃ غالبا نوحہ ہائے لطمه خالی ازآں نیست و ازا کاذیب مفتعله و حکایات ضيفه مظنونة الكذب که درجمله ای از کتب غیر معتبره بلکه نقل از کتبی کہ مصنف آبها از متدینین اہل علم و حدیث نیست احتراز نماید و شیطان را درایں عبادت بزرگ که اعظم شعائر الله است راه تدهند و از معاصی کثیره که روحِ عبادت را میبرد پرہیز و خصوصاً ریاد کذب و غناء که درایں عمل ساری و جاری شده است و کم تر کسی از او مضمون است و صواب چنان است که درایں مقام چند خبری در بزرگی عقاب ہریک مذکور شود شاید اگر کیسی خدائے نخواسته مبتلا باشد مرترع شود۔  

(منتهی الأمال: جلد اول صفحہ 44 در ذکر پاره از احادیث اہلِ سنت و مذمت زیاد و دروغ و عذاب دردغگو مطبوعه تہران طبع جدید) 

ترجمہ: مختصر یہ کہ اس بارے میں روایات بہت سی ہیں اور اس مختصر کتاب میں اس سے زیادہ لکھنے کی گنجائش نہیں لہٰذا مناسب یہ ہے کہ تمام شیعہ حضرات اور خصوصاً ذاکرین حضرات توجہ کریں کہ سیدنا حسینؓ کی سوگواری اور عزاداری میں ایسا طریقہ اپنائیں جس سے خارجیوں کی زبان سے لعن طعن سے چھوٹ جائیں صرف واجبات اور مستحبات پر ہی اقتصار کریں اور محرمات کے استعمال سے بھی جیسا کہ گانا مرثیہ خوانی کرنا جو غالباً نوحہ جات سے خالی نہیں ہوتا اور من گھڑت حکایات اور ضعیف واقعات جن پر جھوٹ کا فن ہو جو ان کتابوں میں ذکر کی گئیں جو غیر معتبر ہیں بلکہ ان کتابوں سے انہیں نقل کیا گیا ہے جن کے مصنفین دین دار اہلِ علم اور حدیث کی سوجھ بوجھ رکھنے والے نہ تھے ایسی حکایات و واقعات کے بیان کرنے سے دریغ کرنا چاہیے اور شیطان کو اس عبادت میں جو اللہ تعالیٰ کے عظیم شعائر میں سے ہے داخل نہ ہونے دیں اور بہت سے ایسے معاصی سے جو عبادت کی روح کو ختم کر دیتے ہیں پرہیز کرنا چاہیے خاص کر ریاء جھوٹ اور گانا کہ یہ کام اب عام طور پر جاری وساری ہیں اور بہت کم مجلسیں ایسی ہیں جن میں یہ باتیں نہ ہوتی ہوں اور درست طریقہ یہ ہے کہ ایسے مقامات پر چند ایسی روایات بھی ضرور ذکر کرنی چاہئیں جو ان میں سے ہر ایک عذاب و سزا پر مشتمل ہوں کیونکہ خدا نخواستہ اگر کوئی ان کاموں کا عادی ہوچکا ہو تو وہ اپنا رویہ تبدیل کرے شیعہ مجتہد نے یہ واضح کر دیا کہ سیدنا حسینؓ کی تعزیت کی مجالس میں افعال حرام بہت سے داخل ہوچکے ہیں ان میں جھوٹی روایات مرثیہ خوانی اور نوحہ جات کا دور دورہ بھی ہے ان حرام کاموں کی وجہ سے وہ بجائے ثواب کے الٹا عذاب اور گناہ بن کر رہ گئیں لہٰذا ذاکرین اور شیعہ علماء کو ان محرمات کے بارے میں جن روایات و احادیث میں وعیدیں آئی ہیں انہیں ذکر کرنا چاہیے تاکہ ان کاموں سے محافلِ سیدنا حسینؓ پاک ہو جائیں جب تک ان محافل کو ان محرمات سے پاک نہیں کیا جاتا ان میں جانا گناہ ہے۔

صفحہ 4 از 7