اوراق غم مصنفہ ابوالحسنات سید محمد احمد قادری: - ردِ رافضیت…

اوراق غم مصنفہ ابوالحسنات سید محمد احمد قادری:

  محمد علی

صفحہ 5 از 7

محافل حسین میں جھوٹی روایات اور من گھڑت کہانیاں:
عبارت 3:منتهى الأمال: در کافی مروی است از امام محمد باقرعلیه السلام کو فرمود اول کسی که تکذیب میکند دروغ گورا خدا وند عزوجل است پس ازآں دو فرشته کہ او مقرب اند بعد ازاں خودش که اشتباه ندارد و میداند دروغ گفته و هم در آنجا و در کتاب الاعمال از آنجناب مروی است که فرمود حق تعالیٰ برائے شروبدیها قفلها مقرر کردہ و کنید آں قفلہا را شراب قرار واده و دماغ بدتراز شراب و نیز در کافی از امیرالمؤمنین علیه السلام روایت شده که فرمود والله نخواہد چشید مزه و طعم ایمان راتا آنگاه که ترک کند دروغ راچه از روئی جدبا شده یا مزاح و خوش طبعی در جامع الاخبار از رسول خدا روایت کرده که فرمود هرگاه دروغ گوید مومن بدون عذر لعنت کند او راہفتاد ہزار ملک و ازدل او بوی گندی بیروں آید و بالا رود تابعرش رسد پس لعنت کند اوراحمله عرش وحق تعالیٰ بواسطه آں یک دروغ ہفتاد زنا براو تولید که آساں ترآنہا مثل آنست که کسی با مادرِ خود زنا کند و از حضرت امام حسن عسکری عیلہ السلام روایت است که تمام خبائث رادر خازای گزاشته اند و در دروغ راکلید آں قرار داده اند۔ 

(منتهی الامال جلد اول صفحہ 545)

ترجمہ: محمد باقر سے کافی میں مروی ہے کہ جھوٹے کی سب سے پہلے تکذیب کرنے والا خود اللہ تعالیٰ ہے پھر وہ دو فرشتے جو اللہ تعالیٰ کے نہایت مقرب ہیں پھر خود جھوٹا کہ جسے بلاشک و شبہ یہ معلوم ہے کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے اسی مقام پر کتاب الاعمال میں بھی سیدنا محمد باقر سے ایک اور روایت مذکور ہے فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے تمام شر اور برائیوں کے تالے مقرر کیے ہیں ان تمام کی کنجی شراب ہے اور جھوٹ تو شراب سے بھی بدتر ہے کافی میں بھی علی علیہ السلام سے روایت آئی ہے فرماتے ہیں خدا کی قسم جب تک کوئی شخص جھوٹ کو ترک نہیں کرتا وہ ایمان کا مزہ اور ذائقہ حاصل نہیں کر سکتا وہ جھوٹ چاہے بطور خوش طبعی مزاح یا جان بوجھ کر بولا جائے جامع الاخبار میں رسول اللہ سے مروی ہے آپ نے فرمایا جب کوئی ایمان دار بلا عذر جھوٹ بولتا ہے تو اس پر ستر ہزار فرشتے لعنت کرتے ہیں اور اس کے دل سے بد بود باہر نکلتی ہے اور عرش تک پہنچ جاتی ہے پھر عرش کو اٹھانے والے فرشتے اس جھوٹے پر لعنت کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اس جھوٹے کے ایک جھوٹ کے بدلے ستر زنا لکھ دیتا ہے ان میں سے کم ترین زنا ہے جو کوئی اپنی سگی ماں سے کرے سیدنا حسن عسکری سے روایت ہے کہ تمام خباثتوں کو ایک گھر میں بند کر کے رکھتے ہیں اور جھوٹ ان سب کی کنجی ہے۔ 

خلاصہ:  صاحبِ منتہی الامال یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ سیدنا حسینؓ کے نام پر منعقد کی گئی محفل میں اگر سچی حکایات و واقعات بیان کیے جائیں اور آپ کی شہادت کے متعلق صحیح روایات ذکر کی جائیں سیدنا حسینؓ کے اعمال واقوال بیان کیے جائیں اور کربلا کے میدان میں آپ کی استقامت علی الحق اور دین پروری کے سچے واقعات سنائیں جائیں تو یہ صرف جائز ہی نہیں بلکہ ثواب کا باعث بھی ہیں اور عوام کے لیے باعثِ ہدایات و تقلید بھی ہیں لیکن جو لوگ ان حقائق کی بجائے جھوٹی روایات من گھڑت قصے کہانیاں بیان کرتے ہیں (جیسا کہ سیدنا قاسم کی مہندی گھوڑے کا رونا وغیرہ) تو یہ اتنا عظیم جرم ہے جو ایک بار نہیں ستر بار زنا کرنے سے بھی زیادہ برا ہے جس کا ادنیٰ ترین گناہ اپنی سگی والدہ سے زنا کے برابر ہے یہ سے پھر اس راوغ گو پر اللہ کی لعنت ستر ہزار عام فرشتوں کی لعنت حاملین عرش مخصوص فرشتوں کی لعنت بھی ہوتی ہے اسی لیے اس مقام پر لکھتے لکھتے شیخ قمی یہاں تک لکھ گیا ایسی محفل میں ہرگز نہیں جانا چاہیے وہ لکھتا ہے کہ سیدنا جعفر صادق سے دریافت کیا گیا کہ۔ 

از قصه خوانان که آیا گوش دادن بایشاں حلال است حضرت فرمود حلال نیست 

ترجمہ: یعنی ایسی محفلوں میں جاکر ذاکروں سے غلط سلط روایات سنا جائز ہے آپ نے فرمایا جائز نہیں۔

 مزید فرمایا۔

 پس آن گوش کننده ابلیس را پرستیده ایسی غلط مرثیہ خوانی سننے والا دراصل شیطان کا پجاری ہے اور فرمایا۔

امامِ اہلِ سنت احمد رضا خاں بریلوی کی طرف سے محافلِ حسین کا شرعی فیصلہ:
عبارت نمبر 1 فتاویہ رضویہ مسئلہ ثالثہ: کیا ارشاد ہے علماء دین متین کا اس مسئلہ میں کہ مجالس میلاد شریف میں شہادت نامہ کا پڑھنا جائز ہے کہ نہیں؟ بینوا وتوجروا۔

الجواب: شہادت نامہ نظم نشر جو آجکل عوام میں رائج ہیں اگر روایات باطلہ و بے سروپا سے مملو اور اکاذیب موضوعہ پر مشتمل ہیں ایسے بیان کا پڑھنا سننا وہ شہادت نامہ ہو خواہ کچھ اور کتاب ہو مجلس میلاد مبارک ہو خواہ کہیں اور مطلقاً حرام و ناجائز ہے خصوصاً جبکہ وہ بیان ایسے خرافات کو متضمن ہو جس سے عوام کے عقائد میں زلل آئے تو اور بھی خطرناک ہے ایسے ہی وجوہ پر نظر فرما کر حجتہ الاسلام محمد غزالی قدس سترہ وغیرہ آئمہ کرام نے حکم فرمایا شہادت نامہ پڑھنا حرام ہے سیدنا علامہ ابنِ حجر مکی قدس سترہ المکی صواعق محرقہ میں فرماتے ہیں قال الغزالی وغیرہ یحرم علی

الْغَاعِظِ وَغَيْرِهِ رِوَايَةُ مَقْتَلِ الْحَسَنِؓ وَالْحُسَيْنِؓ وَحِكَايَاتِهِ الخ پھر فرمایا ما ذَكَرَ مِنْ حُرْمَةِ الرِّوَايَة القتل الحسينؓ وما بعده لا يُنَافِي مَا ذَكَرْتُهُ فِي هَذَا الْكِتَاب لان هذا البيان الحق الَّذِي يَجِبُّ اعْتِقَادُهُ مِنْ جَلَالَةِ الصِّحَابَةِ وَبَرَاء تِهِمْ مِنْ كُلِّ نَقْصٍ بِخِلَافِ مَا يَفْعَلُهُ الوعاظ الْجَھلَة فانهم يأتون باالاخبار الكاذبة والموضوعة ونحوها ولا يبتينون المحامل والحق الذى يجب اعتقادة الخ۔ 

صفحہ 5 از 7