اوراق غم مصنفہ ابوالحسنات سید محمد احمد قادری: - ردِ رافضیت…

اوراق غم مصنفہ ابوالحسنات سید محمد احمد قادری:

  محمد علی

صفحہ 6 از 7

یونہی جبکہ اس سے مقصود غم پروری و تصنع حزن ہو تو یہ نیت بھی شرعاً محمود شرع مطہر نے غم میں صبر و تسلیم اور غم موجود کو حتی المقدور کو دل سے دور کرنے کا حکم دیا ہے نہ کہ غم معدوم بتکلف ولا درناہ کہ بتصنع و زور بنانا نہ کہ اسے باعثِ قربت و ثواب ٹھہرانا یہ سب بدعات شیعہ روافض ہیں جن سے سنی کو احترام لازم خاشاللہ اس میں کوئی خوبی ہوتی تو حضور پرنور سید عالمﷺ کی وفات اقدس کی غم پروری سب سے زیادہ اہم و ضروری ہوتی دیکھو حضور اقدسﷺ کا ماه ولادت و ماه وفات وہی ماه مبارک ربیع الاول شریف ہے پھر علماء امت و حامیانِ سنت نے اسے ماتم وفات نہ ٹھرانا بلکہ موسم شادی ولادت اقدس بنایا امام ممدوح کتاب موصوف میں فرماتے ہیں 

ايَاهُ ثم ايَاهُ أَن يَشْغلَهُ رَأَى يَوْمَ عَاشُورًا بِبدَعِ الرَّافِضَةِ وَنَحوهِم مِنَ الندْبِ والفيَاحَةِ وَالْحُزْنِ إِذْ لَيْسَ ذَالِكَ مِنْ أَخْلَاقِ الْمُؤْمِنِينَ وَالا لكَانَ يَوْمُ وَفَاتِهِﷺ أولى بذالك واحراى الخ۔ 

عوام مجلس خواں اگرچہ باالفرض صرف روایات صحیحہ بروجہ صحیحہ پڑھیں بھی تاہم جو ان کے احوال سے آگاہ ہے خوب جانتا ہے کہ ذکر شہادت شریف پڑھنے سے ان کا مطلب ہی بہ تصنع رونا بتکلف رلانا اور اس رونے رلانے سے رنگ جمانا ہے اس کی شناعت (یعنی برا ہونے) میں کیا شبہہ ہے (فتاویٰ رضویہ جلد دہم صفحہ 88 کتاب الحظر والا باخن مصفہ امام اہلِ سنت مولانا احمد رضا خاں قادری فاضل بریلوی شریف مطبوعه اداره تصنیفات امام احمد رضا کراچی)

قارئین کرام اعلیٰ حضرت عظیم البرکت احمد رضا خان کے اس جواب سے چند چیزیں ثابت ہوئیں۔ 

1: اس وقت اکثر روایات جو عوام میں رائج ہیں جن کو واقعہ کربلا میں بیان کیا جاتا ہے یہ بے اصل باطل محض چھوٹی موضوعہ روایات ہیں ان کا پڑھنا سننا قطعاً حرام اور ناجائز ہے۔

2: اگر ان سے عوام کے عقائد میں کچھ تزلزل پیدا ہو تو ایسی روایات کا ذکر کرنا زہر قاتل ہے یعنی عوام کے ذہن میں یہ بات بیٹھ جائے کہ ہمارے مقرر نے جس انداز میں بیان کیا ہے جس سے ساری دنیا چیخیں مار مار کر رو رہی ہی اس سے معلوم ہوا کہ سیدنا حسینؓ کا جو شیعہ ماتم کرتے ہیں اس کے جائز ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔

3: جن واعظین کا صرف مقصد غم پرور یرغم پروری تصنع بناوٹی رونا ہو تو اس طرح کرنا بھی شرعاً ممنوع ہے کیونکہ شرع نے صبر اور تسلیم کا حکم دیا ہے جو حتی المقدور دل سے درد کو دور کر دیتی ہے۔

4: مجلس خواں باالفرض صحیح روایات بھی بیان کریں لیکن سننے والے یہ جانتے ہیں کہ اس مجلس خواں کا مطلب بناوٹی رونا رلانا ہے اور اس رونے رلانے سے رنگ جمانا ہے اس کے برا اور قبیح ہونے میں کیا شک ہے۔

عبارت نمبر 2 فتاوٰی رضویہ: کتب شہادت جو آجکل رائج ہیں اکثر روایات موضوعہ و روایات باطلہ پر مشتمل ہیں یوں ہی مرثیے ایسی چیزوں کا پڑھنا سننا سب حرام ہے حدیث میں ہے۔ 

نَهَى رَسُولُ اللهِﷺ عن المراثي 

رسول اللہﷺ نے منع فرمایا۔

 رواة ابو داؤد والحاكم عن عبد الله ابی اوفیؓ ایسے ہی ذکر شہادت کو امام حجتہ الاسلام وغیره علماء کرام منع فرماتے ہیں۔ 

ما ذكره الامام ابن الحجر المكي في الصواعق المحرقة ۔ ہاں اگر صحیح روایات بیان کی جائیں اور کوئی کلمہ کسی نبی یا ملِک یا اہلِ بیت یا صحابی کی توہین شان کا مبالغہ مدح وغیرہ میں مذکور نہ ہو نہ وہاں بین یا نوحہ یا سینہ کوبی یا گریبان دری یا ماتم با تصنع یا تجدیدِ غم وغیرہ منوعات شرعیہ ہوں تو ذکر شریف فضائل و مناقب سیدنا حسینؓ کا بلاشبہ موجبِ ثواب و نزول رحمت ہے۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 10 صفحہ 114 کتاب الحظر رو الاباحته مطبوعه ادارہ تصنیفات احمد رضا کراچی)

عبارت نمبر 3 فتاوی رضویہ:

(ایک سوال کا جواب لکھتے ہوئے اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں) افعال مذکورہ سخت کبائر میں اور ان کا مرتکب سخت فاسق و فاجر مستحق عذاب یزدان غاضب رحمان اور دنیا میں مستوجب ہزاراں ذِلت و بتوان خوش آوازی خواه کسی علت نفسانی کے باعث اسے منبر و مسند پر کہ حقیقتاً مسند حضور پرنور سرکار دو عالمﷺ ہے تعظمیاً بٹھانا اس سے مجلس مبارک پڑھوانا حرام ہے تبیین الحقائق وفتح الله المبين وطلحطاوی علی مراقی الفلاح وغیرھا میں ہے کہ فی تقدیم الفاسق تعظیم وقد وجب عليهم اہانته شرعاً روایات موضوعہ پڑھنا بھی حرام سننا بھی حرام اور ایسی مجالس سے اللہ عزوجل اور حضور اقدسﷺ کمال ناراض ہیں ایسی مجالس اور ان کا پڑھنے والا اس حال سے آگاہی پا کر بھی حاضر ہونے والا سب وبال شدید میں جدا جدا گرفتار ہیں اور ان سب کے وبال کے برابر اس پڑھنے والے پر وبال ہے اور اس کا اپنا گناہ اس پر علاوہ اور ان حاضرین و قاری سب کے برابر گناہ ایسی مجلس کے بانی پر ہے کہ اور اپنا گناہ خود طره مثلاً ہزار شخص حاضرین مذکور ہوں تو ان پر ہزار گناہ اور اس کذاب قاری پر ایک ہزار ایک گناہ اور بانی پر دو ہزار دو گناہ ایک ہزار حاضرین کے اور ایک ہزار ایک اس قاری کے اور ایک فرد اپنا پھر یہ شمار ایک ہی بار نہ ہوگا بلکہ جس قدر روایات موضوعہ جس قدر کلمات نامشروعہ وہ قاری جاہل جری پڑھے گا ہر روایت ہر کلمہ پر یہ حساب و بال و عذاب تازہ ہوگا مثلاً فرض کیجیے ایسے سو کلمات مردودہ اس مجلس میں اس نے پڑھے توان حاضرین میں ہر ایک پر سو سو گناہ اور اس قاری علم و دین سیاری پر ایک لاکھ ایک گناہ اور بانی پر دو لاکھ دو سو گناه وقس على هذا۔

(فتاوٰی رضویہ جلد 10 صفحہ 244 کتاب المحظر والاباحة مطبوعہ ادارہ تصنیفات امام احمد رضا کراچی)

قارئین کرام! اس صدی کے مجدد اور اہلِ سنت کے امام اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا خاں صاحب قادری کے فتاویٰ رضوی سے میں اقتباسات ہم نے پیش کیے ان میں درج ذیل امور صراحتاً بیان فرما دیے ہیں۔ 

1۔ شہادت وغیرہ کے بارے میں روایات باطلہ، جھوٹ سے بھری پڑی حکایات بیان کرنا سننا مطلقاً حرام و ناجائز ہیں۔

2۔ عقائد حقہ اہلِ سنت پر جن حکایات و روایات باطل سے زد پڑے اور انہیں جڑ سے ہلا کر رکھ دیں ان کا ذکر کر نا زہر قاتل ہے۔ 

3۔ واعظین اور خطباء کا اگر مقصد بناوٹ کے طور پر لوگوں کو رونا اور غم واندوہ میں ڈالتا ہے تو ایسا خطاب و وعظ بھی شرعاً ممنوع ہے۔ 

صفحہ 6 از 7