اوراق غم مصنفہ ابوالحسنات سید محمد احمد قادری: - ردِ رافضیت…

اوراق غم مصنفہ ابوالحسنات سید محمد احمد قادری:

  محمد علی

صفحہ 7 از 7

4۔ اگر بالفرض روایات صحیح بھی ہوں ان کے بیان کرنے سے وہی رولانا اور غم زدہ کرنا ہے تو پھر بھی قبیح ہے۔ 

5۔ چونکہ روایات باطلہ ذکر کرنا حرام ان کا سننا حرام انہیں گانے اور سردر کے طور پر بیان کرنا حرام ہے اس لیے اس سے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اس کے محبوبﷺ کی بیزاری واضح ہے اس لیے ایسا وعظ کرنے والے اور خطاب دینے والے کو مسند و عظ و خطابت پر بٹھانا بھی شدید حرام ہے۔

6۔ ایسے واعظین اور خطباء کو بلانے والے ان کی حوصلہ افزائی کرنے والے سب جرم کے برابر کے شریک اور تمام کے مجموعی گناہ سے بڑھ کر واعظ و خطیب گناہوں کا بوجھ اٹھاتا ہے۔

 امام اہلِ سنت نے اپنے دور کے کچھ خطباء اور واعظین کی بات فرمائی ہم نے اس دور کے چند ممتاز علماء کی زیارت کی بھی اور ان کے خطابات کو سننے کا بھی شرف حاصل ہوا حضرت علامہ ابوالبرکات سید احمد محدث مفتی اعظمؒ پاکستان ابوالفضل محمد سردار احمد لائلپوری بحکیم الامت مولانا احمد یار خاں صاحبؒ گجراتی اور غزالی زمان مولانا احمد سعید صاحب کاظمیؒ ملتان یہ وہ حضرات تھے کہ ان کی تقاریر کا ایک ایک لفظ محتاط ہوتا لیکن آجکل جن خطباء اور واعظین کی شہرت ہے اگر انہیں اعلیٰ حضرت سن لیتے اور ان کے اندازِ خطابت و وعظ کو دیکھ لیتے تو آپ خود اندازہ فرمائیں آپ کیا فتویٰ دیتے؟ حاشا و کلا میرا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں نہ مخالفت برائے مخالفت ہے بلکہ اصل مقصد وہی ہے جیسے اعلیٰ حضرت نے بیان فرمایا ایسی محافل لوگوں میں جذبۂ شہادت پیدا کرنے کے لیے اور خاندان اہلِ بیت کی استقامت فی الدین اور مصائب میں صبر و ہمت دکھانے کے لیے ہوتی ہیں نہ کہ ان حضرات کی بےصبری اور لوگوں کو رُولانے اور غم زدہ کرنے کے لیے منعقد ہوتی ہیں میں نے اسی لیے جانبین کی کتب سے رونے رولانے اور پیٹنے وغیرہ کے ممنوع ہونے پر بہت سے حوالہ جات تحفہ جعفریہ جلد دوم میں ذکر کیے ہیں انہیں بیان کیا جائے۔ 

قارئین کرام میرا مقصد یہ تھا کہ میں ان تمام کتب کا حتی المقدور ذکر کر دوں جنہیں شیعہ لوگ اہلِ سنت کی معتبر کتاب کے عنوان سے پیش کر کے ان کے اقتباسات لکھتے اور عام سنیوں کو بہکانے کی کوشش کرتے ہیں اور میں نے اس کے لیے بہت سی کتب کا مطالعہ کیا ان کتب کے بارے میں لکھا کہ وہ اہلِ سنت کی ہیں یا نہیں؟ اگر ہیں تو معتبر بھی ہیں یا غیر معتبر؟ اس بحث کے اختتام پر ایک دن مرشدی بسیدی قبلہ سید محمد باقر علی شاہ صاحب مدظلہ العالی فرمانے لگے مولوی صاحب آجکل جو ہمارے واعظ اور خطیب واقعہ شہادت کے ضمن میں بیان کر رہے ہیں اور نت نئے مصنف جو اپنی تصانیف میں درج کر رہے ہیں جن سے عقائد اہلِ سنت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ ان کا بھی کچھ ذکر کرو اس بارے میں جو تحقیق ہے وہ پیش کرو یہ نہ دیکھو کہ کس کو رگڑا پھرتا ہے رافضیوں کی طرح ان رونے رولانے واعظین اور محافل میں رنگ جمانے کے لیے واقعات گھڑنے والے لوگوں کے لیے بھی کچھ اوراق لکھو میں نے سیدی و مرشدی کے حکم کے مطابق اس کا بھی بیڑا اٹھایا موجودہ دور کے تمام واعظین مصنفین کا میں نے ذکر نہیں کیا کیونکہ چند واقعات من گھڑت سب نے اپنی اپنی تصانیف میں لکھے جب اس واقعہ کی تردید اور حقیقت سامنے آئے گی یوں ان کی کتب کی تردید بھی ہو جائے گی مثلاً سیدہ سکینہ کا سیدنا عالی مقام کے گھوڑے کے کُھر پکڑنا سیدہ فاطمہ صغریٰ کا دردناک واقعہ سیدنا مسلم کے صاحبزادوں کے دل دکھا دینے والے واقعات فرضیہ سیدنا عالی مقام کے گھوڑے کا آپ کی شہادت کے بعد عجیب و غریب حالت دکھانا وغیرہ وغیرہ یہ سب واقعات چونکہ موضوع اور جھوٹ کے پلندے ہیں اس لیے جس جس کتاب میں ایسے باطل اور ممنوع واقعات درج ہیں ان کا کوئی حوالہ اور کوئی عبارت شیعہ پیش کر کے وہ اہلِ سنت کی معتبر کتاب کے حوالہ کے طور پر پیش کر کے اپنا باطل مقصد پورا کرنا چاہئے تو یہ قابل قبول نہ ہو گا کیونکہ ایسی کتابیں بالکل نامعتبر ہیں آخر میں یہ عرض کروں گا کہ میرا مقصد وہی ہے کہ عقیدہ اہلِ سنت کا تحفظ اور دفاع کرو اور حقانیت واضح کر دو یہی بات اعلیٰ حضرت کے پیش نظر تھی اگر میری کسی عبارت کو ناظرین کرام اعلیٰ حضرت کے مقصود و مدعا کے خلاف پائیں تو مجھے اس کی نشاندہی فرمائیں میں شکر گزار ہوں گا اور اگر ان سے متفق پائیں تو ان بدعات سے خود بچیں عوام کو بچائیں خدا ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ 

نوٹ: اس صدی کے مجدد اور ایسے محقق کامل کہ جن کی اپنوں غیروں میں کوئی مثال نہیں ملتی ان کے ارشادات آپ نے پڑھے ایسے ہی چند کڑوی باتیں ایک شیعہ مجتہد اپنے ذاکروں کے لیے بھی کہہ گیا ہے شیخ قمی اپنی تصنیف منتہی الآمال میں ذکر کرتا ہے اس وقت ہمارے زمانہ میں مجالس سیدنا حسینؓ میں جھوٹی روایات ذکر کی جاتی ہیں جیسا کہ سیدنا قاسم کی مہندی وغیرہ یہ اتنا عظیم جرم ہے کہ ایک بار جھوٹ بولنے والے پر فرشتے ستر ہزار بار لعنت بھیجتے ہیں اس کے منہ سے ایسی بدبو نکلتی ہے جو عرش تک جاتی ہے پھر عرش اٹھانے والے فرشتے اس جھوٹے پر لعنت بھیجتے ہیں اللہ تعالیٰ اس جھوٹ بولنے والے کے بدلہ ستر زنا لکھتا ہے ان میں کم ترین زنا اپنی ماں سے زنا کرنا ہے منتہی الآمال جلد اول صفحہ 545 اس کی تفصیل ہماری کتاب فقہ جعفریہ جلد سوم صفحہ 172 تا 181 پر ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔

خلاصہ کلام: یہ کہ شہادت سیدنا عالی مقام کی محافل و مجالس میں جھوٹی روایات موضوع حکایات سے اجتناب انتہائی ضروری ہے اور ہر صورت میں قرآن کریم اور احادیث مقدسہ کے ارشادات پیش نظر رہنے چاہئیں اہلِ بیت کی عقیدت اور ان کی استقامت فی الدین کو بیان کیا جائے ان کے صبر و ایثار اور جذبہ شہادت کو بیان کیا جائے ایسے خطابات اور واعظ سننے اور بیان کرنے سے اللہ اور اس کے محبوبﷺ اور آپ کی اہلِ بیت خوش ہوں گے ان کی خوشنودی ہی اصل سرمایہ ہے میں نے چند کُتب کا جو نام لیا وہ بھی صرف ان حضرات کی رضا جوئی اور اپنے پیر و مرشد کے ارشاد کی تکمیل کرتے ہوئے ایسا کیا ہے کسی کی دل آزاری نہ مقصود اور نہ یہ میرا معمول ہے۔ 

وما علينا الا البلاغ المبين


صفحہ 7 از 7