شکست خوردہ فوجی دستوں کا تعاقب
علی محمد الصلابیاس معرکہ کی شان دار فتح کی خوشی نے مثنیٰ رضی اللہ عنہ کو ان کے اصلی مقصد سے رکنے نہ دیا، بلکہ جنگ ختم ہوتے ہی مجاہدین کو شکست خوردہ فوج کا پیچھا کرنے کے لیے جوش دلایا اور مقام مسیب تک ان کا پیچھا کرنے کو کہا۔ چنانچہ مجاہدین نے شکست خوردہ فوج کی بچی کھچی ٹکڑی کا پیچھا کیا، پیچھا کرنے والوں میں وہ لوگ بھی شامل تھے جو معرکہ جسر میں شریک تھے۔ یہ لوگ آگے بڑھتے اور دشمن کے علاقوں پر چھاپہ مار حملے کرتے، اس طرح انہیں کافی مقدار میں مال غنیمت ہاتھ آیا اور ’’ساباط‘‘ تک پہنچ کر پھر حضرت مثنیٰؓ کے پاس واپس لوٹ آئے۔ معرکہ بویب کی فتح کی اہمیت کو نمایاں کرنے کے لیے صرف یہ کہنا کافی نہ ہو گا کہ معرکہ جسر میں ہزیمت اٹھانے کے بعد مسلمان جس طرح مرعوب اور شکستہ دل ہو گئے تھے، اس کا اثر ان کے دلوں سے جاتا رہا، بلکہ اس معرکہ کی فتح یابی نے مسلمانوں کو پورے عراق پر فتح کا پرچم لہرانے کا موقع ملا۔ اس سے پہلے کے معرکوں میں وہ دریائے فرات سے آگے نہ جاتے تھے اور کبھی زیادہ آگے بڑھے بھی تو دریائے دجلہ و فرات کے درمیان رہے، لیکن معرکہ بویب کی فتح کے بعد دجلہ و فرات کے تمام علاقوں پر قابض ہو گئے اور ان دریاؤں میں بے خوف و خطر سیر کرتے اور انہیں پار کرتے، بویب کا یہ معرکہ شام کے معرکہ یرموک کے مشابہ ہے۔
(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 293)