Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

آغا خانیوں سے تعلقات


سوال: ہمارے علاقہ میں تقریباً 95 فیصد آبادی آغا خانیوں کی ہے، معاشرتی معاملات میں مسلمانوں کا آغا خانیوں کے ساتھ اختلاط اور اشتراک عمل ہوتا ہے، ان معاملات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جب کوئی آغا خانی مر جاتا ہے تو مسلمان ان کے لواحقین کے ہاں تعزیت کے لئے جاتے ہیں، اور جب کبھی مسلمان مرتا ہے تو آغا خانی بھی تعزیت کے لئے آتے ہیں۔ کیا مسلمانوں کا یہ طرز عمل صحیح ہے؟

نیز آغا خانی فاونڈیشن سے مساجد وغیرہ کو بجلی مفت دی جاتی ہے۔ کیا اس بجلی کا استعمال مسلمانوں کیلئے جائز ہے؟ نیز ہمارے علاقہ میں کچھ مسلمان ایسے بھی رہتے ہیں کہ ان کی خواتین آغا خانیوں کے جماعت خانہ میں جاتی ہیں۔ کیا ایسا کرنا جائز ہے؟

جواب: مشہور آغا خانی فرقہ کافر اور زندیق ہے۔ ان کے ساتھ نشست و برخاست، کھانا پینا، آمد و رفت، میل جول چونکہ ان کے ساتھ محبت کی علامت ہے، اور ان تعلقات کی خاصیت بھی یہ ہے کہ یہ دلی قرب پیدا کرتے ہیں، اس لئے اس قسم کے تعلقات رکھنا ناجائز اور حرام ہے۔ خاص کر ان کے عبادت خانوں میں جانا اور تعزیت و عیادت کے لئے جانا تو اور بھی زیادہ برا اور خطرناک ہے۔

مسلمانوں پر لازم ہے کہ ان سے مکمل قطع تعلق کریں۔ آغا خانی فاونڈیشن سے نقدی کی شکل میں یا کسی بھی صورت میں تعاون حاصل کرنا درست نہیں۔

البتہ اگر کسی آغا خانی کے راہِ راست پر آنے کی امید ہو تو کسی مضبوط عقیدے والے شخص کیلئے تبلیغ دین حق کی غرض سے بقدر ضرورت تعلق رکھنا جائز ہے۔ اسی طرح ضرورتِ شدیدہ کے وقت لین دین کا معاملہ کرنے کی بھی گنجائش ہے۔

(آپ کے مسائل کا حل: جلد، 1 صفحہ، 107)