بازاروں پر چھاپہ مار حملے - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

بازاروں پر چھاپہ مار حملے

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 3

معرکہ بویب کے بعد مسلمانوں کے حالات مضبوط ہو گئے اور عراق کے سارے باشندے ان کے تابع ہو گئے۔ ادھر حضرت مثنیٰ رضی اللہ عنہ مزید فوجی کارروائی کے لیے دوڑ دھوپ کرنے لگے۔ قائدین کو تقسیم کیا، ہتھیاروں کو تیز کیا اور فارس و عرب کے اجتماعات و نفری ہجوم پر چھاپہ مار حملہ شروع کر دیا۔ خنافس نامی ایک بازار پر دھاوا بولا جہاں لوگ اپنی ضروریات کے سامان خریدنے آتے تھے، اور ربیعہ و مضر والے ان کی دیکھ بھال کرتے تھے۔ آپؓ ان پر اچانک حملہ آور ہوئے اور پورے بازار حتیٰ کہ سبزیوں کا بھی صفایا کر دیا۔

(ترتیب وتہذیب البدایۃ والنہایۃ: خلافۃ عمر: صفحہ 93) پھر وہاں سے تیزی سے آگے بڑھے اور اسی دن صبح سویرے ’’انبار‘‘ کے جاگیردار کسانوں پر یہ شعر پڑھتے ہوئے حملہ کیا:

صبحنا بالخنافس جمع بکر

وحیا من قضاعۃ غیر میل

’’خنافس بازار میں ہم نے بکر کے ہجوم اور قضاعہ کے ایک قبیلے پر صبح سویرے سیدھے وار کیے۔‘‘

بفتیان الوغی من کل حی

تباری فی الحوادث کل جیل

’’ہر قبیلے سے بہادر نوجوانوں کو لے کر، ہر گروہ لڑائیوں میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانا چاہتا تھا۔‘‘

أبحنا دارہم والخیل تردی

بکل سمیدع سامی التلیل

’’ہم نے ان کے گھروں پر حملہ کیا، اس حال میں کہ گھوڑے پوری پھرتی کے ساتھ شکار کو تیزی سے جھپٹ لینے والے شکاری کی طرح چھلانگ لگا رہے تھے۔‘‘

نسفنا سوقہم والخیل رود

من التطواف والشر والبخیل

(شعر کا مقصد یہ ہے کہ انہوں نے اطمینان سے بازار پر حملہ کیا تھا) ’’ہم نے ان کے بازار کا صفایا کر دیا حالانکہ گھوڑے سخت لڑائی اور کود پھاند کرتے سست رو ہو چکے تھے۔‘‘

پھر ’’انبار‘‘ کے جاگیرداروں سے مدد لی اور انہی میں سے کچھ کو راہنمائی کے لیے منتخب کیا اور پھر بغداد کے بازار کوتہ و بالا کرنے کے لیے منصوبہ بندی کی، چنانچہ دریائے دجلہ کو عبور کیا اور دوسرے دن سورج طلوع ہوتے ہی بغداد اور اس کے بازاروں پر حملہ کر کے سیف و سنان کے رعب کو ان کے دلوں میں گاڑ دیا اور کئی لوگ قتل کیے گئے۔ آپ کے ساتھیوں نے حسبِ منشا مال غنیمت سمیٹا، آپ نے ان کو پہلے ہی حکم دیا تھا کہ مفتوحہ بازاروں سے تم صرف سونا اور چاندی ہی لینا اور دیگر اموال غنیمت صرف اتنا لینا جسے تم اپنی سواری پر لاد سکو۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 296) حضرت مثنیٰؓ کے حملے سے بازار کے لوگ بھاگ کھڑے ہوئے اور مسلمانوں نے سونا چاندی اور من پسند اشیاء غنیمت سے اپنے دونوں ہاتھ بھر لیے۔

پھر وہ سب وہاں سے واپس لوٹے یہاں تک کہ جب نہر ’’سبلحین‘‘(احمد کمال کا کہنا ہے کہ میرے خیال میں اس سے نہر صرصر مراد ہے۔ الطریق الی المدائن: صفحہ 255) پہنچے جو بغداد سے تقریباً پینتیس 35 کلو میٹر دور ہے تو وہاں ٹھہر گئے اور کہا: اے لوگو! ٹھہرو، اپنی ضروریات پوری کر لو اور چلنے کے لیے تیار ہو جاؤ، اللہ کا شکر ادا کرتے رہو، اس سے عافیت کے طلب گار رہو اور بلاتاخیر اگلے نشانہ کے لیے نکل پڑو۔ چنانچہ آپ کے ساتھیوں نے ایسا ہی کیا اور یکے بعد دیگرے گھوڑوں کی پشت سے بازاروں پر چھاپہ مار حملے کرتے ہوئے تقریباً ساٹھ 60 کلو میٹر طے کیا۔ یہ ساری کارروائیاں ایک ہی مرحلہ میں ہوئیں، یعنی رات کے آخری حصے میں جب بغداد کے بازار پر حملہ کیا اور لوٹتے لوٹتے یہ سب کچھ کر گزرے۔ حضرت مثنیٰؓ نے سوچا کہ ان کے ساتھی اور گھوڑے تھک چکے ہیں اور اب انہیں آرام کی ضرورت ہے لیکن وہ لوگ اپنی اس زبردست کارروائی کے رد عمل میں دشمن کے ممکنہ خطرات کو اچھی طرح سمجھ رہے تھے۔ حضرت مثنیٰؓ اپنے ساتھیوں کے بیچ سے گزر رہے تھے کہ ان میں سے کسی سے آہستہ آہستہ کہتے ہوئے سنا: ’’شاید دشمن نے ہمارا پیچھا کر لیا۔‘‘ حضرت مثنیٰؓ نے یہ سن کر کہا: نیکی اور تقویٰ کی سرگوشی کرو، بدگمانی، گناہ اور سرکشی کی سرگوشی سے باز رہو، معاملات کا گہرائی سے جائزہ لو، پھر اندازہ لگاؤ اور پھر زبان سے کوئی بات کہو۔ تمہاری اس ہوش مندانہ کارروائی کی خبر ابھی ان کی بستیوں تک نہیں پہنچی اور اگر پہنچ بھی جاتی ہے تو ان کے اور تمہاری طلب و تلاش کے درمیان تمہارے رعب و دہشت کی دیوار حائل ہو جائے گی۔ بے شک ان چھاپہ مار حملوں کی دہشت پورا دن رات باقی رہتی ہے اگر پیچھا کرنے والے تمہیں اپنے سامنے دیکھ لیں تو بھی تمہیں نہیں پکڑ سکتے۔ اس لیے کہ تم اصلی اور عمدہ نسل کے گھوڑوں پر سوار ہو اور وہ کمزور و بوڑھے گھوڑوں پر ہوں گے۔ آرام و اطمینان سے چلو اور اپنے لشکر و جماعت میں شامل ہو جاؤ اور سنو! اگر وہ تم کو پا لیں تو بھی ڈرنے کی ضرورت نہیں، ہم ان سے اجر و ثواب اور فتح و نصرت کے لیے قتال کریں گے، لہٰذا ان سب اندیشوں کو بھلا کر اللہ پر بھروسا کرو اور اس کے ساتھ حسن ظن رکھو، بہت سارے مواقع پر اس نے تمہاری مدد فرمائی ہے حالانکہ دشمن تم سے زیادہ اور قوی تھے۔ میں اپنے عزائم اپنی جلد بازی اور پے در پے ان چھاپہ مار حملوں کے مقاصد سے تم لوگوں کو جلدی ہی آگاہ کرتا ہوں۔ خلیفۂ رسولﷺ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ہمیں نصیحت کی تھی کہ اس طرح کی کارروائیوں کے بعد ہم موقع پر صرف معمولی وقت ٹھہریں، تیزی سے زبردست حملہ کریں اور وہاں سے لوٹنے میں جتنی جلدی ممکن ہو اتنی جلدی کریں۔‘‘

(الطریق إلی المدائن: صفحہ 457) یہ ہے سیدنا مثنیٰ رضی اللہ عنہ کی جنگی و فوجی دانش مندی، آپ ٹھیک اندازے، منظم منصوبہ سازی اور گہرے ایمان و یقین کے ساتھ حرکت میں آتے تھے، ہر ہر معرکہ ان کی جنگی دانش مندی، تجربہ و مہارت اور فنون حرب و سپہ سالاری میں علم و معرفت کے اضافے کا سبب ہوتا تھا۔ مثنیٰ کی یہ کارروائیاں ہمارے لیے واضح کرتی ہیں کہ ان جنگی جواہر کو حاصل کرنے کے لیے جس شخصیت کے سامنے انہوں نے زانوئے تلمذ تہ کیا تھا وہ اس میدان کا یقیناً ایک بے نظیر انسان تھا، وہ کوئی اور نہیں سیدنا ابوبکر صدیقؓ تھے، جن سے مثنیٰؓ کو استفادہ کرنے کا بہت تھوڑا موقع ملا تھا۔

صفحہ 1 از 3