بازاروں پر چھاپہ مار حملے - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

بازاروں پر چھاپہ مار حملے

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

(حرکۃ الفتح الإسلامی: شکری فیصل: صفحہ 78، تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 299) پھر حضرت مثنیٰؓ نے اپنے ساتھیوں کو روانہ ہونے، گھوڑوں پر سوار ہونے اور واپس چلنے کا حکم دیا، خود بھی ان کے ساتھ رہے اور اپنے راہنماؤں کو بھی ساتھ میں رکھا، صحراؤں سے گزرتے اور دریاؤں کو عبور کرتے ہوئے انبار پہنچے، انہیں دیکھ کر وہاں کے جاگیرداروں نے آپ کا پرتپاک خیر مقدم کیا اور حضرت مثنیٰؓ کی باسلامت واپسی پر مسرت کا اظہار کیا۔ کیونکہ آپ نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ اگر مجھے اپنی مہم میں حسبِ منشاء کامیابی ملی تو تم لوگوں کو احسان و اکرام سے نوازوں گا۔ خوشیوں سے جھومتے ہوئے ایک جاگیردار نے یہ اشعار پڑھنے:

وللمثنی بالعال معرکۃ

شاہدہا من قبیلۃ بشر

’’دریا کی بلندی پر مثنی نے ایسا اہم معرکہ سر کیا جسے قبیلہ کا ایک آدمی اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔‘‘

کتیبۃ أفزعت بوقعتہا

کسری، وکاد الإیوان ینفطر

’’ان کے چھوٹے سے فوجی دستہ نے اپنے حملہ سے کسریٰ کو ہلا دیا اور قریب تھا کہ اس کا ایوانِ حکومت زمیں بوس ہو جاتا۔‘‘

وشجع المسلمون إذ حذروا

وفی صروت التجارب العبر

’’خوف و ہراس کے موقع پر مسلمانوں نے دلیری کا مظاہرہ کیا اور سچ یہ ہے کہ گردش زمانہ کے تجربات میں عبرت و موعظت کی باتیں ہوا کرتی ہیں۔‘‘

سہل نہج السیر فاقتفروا

آثارہ والأمور تقتفر

(الطریق إلی المدائن: صفحہ 457)

’’اس مثنیٰ نے فتوحات کے سیلاب کا راستہ کھول دیا، تو لوگ بھی اس کے نشان پر چل پڑے اور بہتر معاملات وہی ہوتے ہیں جو آثار و نتائج دیکھ کر انجام پائیں۔‘‘

حضرت مثنیٰؓ نے اپنے چھاپہ مار حملوں کا دائرہ شمالی عراق تک وسیع کیا اور شمال سے لے کر جنوب تک کئی حملے کیے۔ ’’کباث‘‘ پر اپنے چھاپہ مار حملہ آوروں کو روانہ کیا، وہاں کے سارے باشندے بنو تغلب سے تعلق رکھتے تھے، وہ لوگ چھاپہ ماروں کے حملوں سے بھاگ کھڑے ہوئے اور پوری بستی خالی کر دی، مسلمانوں نے ان کا پیچھا کیا اور پیچھے رہ جانے والوں کو ہر طرح دبوچا، اسی طرح صفین میں بھی قبیلہ تغلب و نمر پر اپنے چھاپہ مار دستوں کو بھیجا

(الطریق إلی المدائن: صفحہ 458، تاریخ الطبری:جلد 4 صفحہ 300) معرکہ بویب کے بعد حضرت مثنیٰ رضی اللہ عنہ ہی ان تمام حملوں کے میر کارواں رہے، ان دستوں کے مقدمہ پر حذیفہ بن محصن غلفانی اور میمنہ و میسرہ پر نعمان بن عوف بن نعمان اور مطر شیبانی امیر مقرر تھے۔ آپ کے اس نوعیت کے حملوں میں ایک مرتبہ یہ واقعہ پیش آیا کہ آپ کی فوج نے دیکھا کہ تکریت میں دشمن کی ایک جماعت پانی میں ڈوب رہی ہے اور حملہ آور حسب منشا جانوروں کو لوٹنے میں لگے ہوئے ہیں، مال غنیمت کی اس قدر بہتات تھی کہ ایک سپاہی کو پانچ جانور، پانچ قیدی اور خمس مال حصہ میں ملا تھا۔ حضرت مثنیٰ رضی اللہ عنہ وہ سب اموال غنیمت لے کر انبار والوں کے پاس لوٹ آئے اور فرات بن حیان اور عتیبی بن نہاس کو یہ حکم دے کر صفین روانہ کیا کہ وہاں پہنچ کر تغلب و نمر کے عرب قبیلوں پر چھاپہ مار حملہ کریں، پھر انبار کے باشندوں اور اپنے مقدمۃ الجیش کے سپاہیوں پر عمرو بن ابو سلمیٰ ہجیمی کو اپنا نائب بنا کر خود بھی ان دونوں کے پیچھے نکل پڑے۔ جب فرات اور عتیبہ صفین کے قریب پہنچے تو حضرت مثنیٰؓ ان دونوں سے الگ ہو گئے۔ ادھر صفین کے لوگ حملہ کے خوف سے بھاگے اور دریائے فرات کو پار کرتے ہوئے جزیرے میں پناہ لی، فرار ہونے والوں میں نمر اور تغلب کے بھگوڑے شامل تھے۔ فرات اور عتیبہ نے دوڑا دوڑا کر ان کا پیچھا کیا، یہاں تک کہ ایک گروہ کو دریا میں چھلانگ لگانے پر مجبور کر دیا۔ دریا میں گرنے والے چیخ چیخ کر آواز لگا رہے تھے، بچاؤ بچاؤ، ہم ڈوب گئے ہم ڈوب گئے اور فرات و عتیبہ انہیں اندر دھکیل رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ آگ کے بدلے پانی۔ دراصل وہ دونوں دور جاہلیت کے اس سیاہ دن کی طرف اشارہ کر رہے تھے جس میں ان لوگوں نے بکر بن وائل کے ایک گروہ کو ایک جھاڑی میں گھیر کر انہیں نذر آتش کر دیا تھا۔ اس حملہ میں فرات اور عتیبہ نے ان لوگوں کو دریا برد کرنے کے بعد حضرت مثنیٰؓ کے پاس واپسی کا راستہ لیا۔ ادھر مدینہ میں سیدنا عمرؓ کوا س واقعہ کی خبر پہنچ گئی۔ کیونکہ ہر چھوٹے بڑے اسلامی لشکر میں آپ کا کوئی نہ کوئی مخبر ضرور ہوتا تھا، جو حالات کی پوری رپورٹنگ کرتا تھا۔ چنانچہ فرات بن حیان اور عتیبہ دارالخلافہ مدینۃ الرسول میں طلب کیے گئے اور سیدنا عمرؓ نے ان سے معاملہ کی پوری تحقیق کی۔ ان دونوں نے عذر پیش کرتے ہوئے کہا : امیر المؤمنین! ہم نے مثل کے طور پر یہ بات کہی تھی کہ آگ کے بدلے پانی۔ زمانہ جاہلیت کا انتقام ہمارا مقصود نہ تھا۔ آپؓ نے ان دونوں سے قسم لی اور انہوں نے قسم کھاتے ہوئے کہا کہ اس سے ہمارا مقصد صرف ایک مثل کا اعادہ اور اسلام کی سربلندی تھی۔ وہ دونوں سعد بن ابی وقاصؓ کے قافلہ کے حملہ کے ساتھ عراق واپس ہوئے۔

سیدنا عمرؓ کی یہ باز پرس بالکل برمحل تھی، کیونکہ آپؓ رعایا کے اخلاق و عادات کی اصلاح و حفاظت کے سخت حریص تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ فساد و بگاڑ کا شکار ہو جائے۔

(الخلفاء الراشدون: النجار صفحہ 132) حضرت مثنیٰؓ نے معرکہ بویب میں مسلمانوں کی حاصل کردہ قوت اور شان دار فتح سے فائدہ اٹھانے میں ذرا بھی غفلت نہ کی اور شمالی عراق میں پوری منصوبہ بندی کے ساتھ پے در پے چھاپہ مار حملے شروع کر کے دشمنوں کو دور بھگانے کے جنگی اصول کو عملی جامہ پہنایا۔ اس طرح اللہ کی توفیق سے اور پھر فوجی قیادت میں اپنی جوہری صفات کے باعث پوری طاقت اور عمیق سیاسی بصیرت کے ساتھ شمال میں تقریباً چار سو 400 کلو میٹر بلکہ اس سے بھی کچھ زیادہ آگے نکل گئے۔ جب کہ دوسری طرف مشرق، مغرب اور جنوب میں بھی اسی تیز رفتاری کے ساتھ بڑھتے اور پھیلتے چلے گئے۔

صفحہ 2 از 3