جنگ سے فرار کبیرہ گناہ ہے صحابہؓ دو بار فرار کے مرتکب ہوئے ایک اُحد کے دن دوسرا حنین میں۔
علامہ قاضی محمد ثناء اللہ پانی پتیؒجنگ سے فرار کبیرہ گناہ ہے صحابہؓ دو بار فرار کے مرتکب ہوئے ایک اُحد کے دن دوسرا حنین میں۔
جواب:
اُحد کے دن جنگ سے فرار اس بناء پر ہوا کہ اس وقت فرار کی وحی نازل نہ ہوئی تھی نیز حق تعالیٰ اسے معاف بھی فرما چکے ہیں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اِنَّ الَّذِيۡنَ تَوَلَّوۡا مِنۡكُمۡ يَوۡمَ الۡتَقَى الۡجَمۡعٰنِۙ اِنَّمَا اسۡتَزَلَّهُمُ الشَّيۡطٰنُ بِبَعۡضِ مَا كَسَبُوۡا ۚ وَلَقَدۡ عَفَا اللّٰهُ عَنۡهُمۡؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ حَلِيۡمٌ (سورۃ آل عمران 155)
ترجمہ: جو لوگ دو جماعتوں کی دو بھیڑ کے دن پیچھے پھر گئے تھے ان کو شیطان نے پھسلایا ان کی بعض کوتاہیوں کی وجہ سے اور اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر چکا بے شک اللہ معاف کرنے والا حوصلہ والا ہے۔
حنین میں قبائل عرب پیادہ اور سوار آئے تھے ان کے ساتھ ان کی اولاد عورتیں اور غلام سب ہی موجود تھے مسلمانوں نے دور سے سب کو لڑنے والی فوج سمجھا اور تصور کیا کہ یہ لوگ ہم سے 10 گنا زیادہ ہیں اس لیے پیچھے ہٹنے کو اس حکم ربانی کی بناء پر جائز سمجھا۔
اَلۡئٰـنَ خَفَّفَ اللّٰهُ عَنۡكُمۡ وَعَلِمَ اَنَّ فِيۡكُمۡ ضَعۡفًاؕ (سورۃالانفال 66)
اب اللہ نے تم پر تخفیف کر دی وہ جانتا ہے کہ تمہارے اندر کمزوری ہے۔
نیز کفار کے مُقَدِّمَہ الجَیش میں تیر انداز تھے جنہوں نے تیروں کی بوچھاڑ کر دی مسلمانوں نے ہلاکت کا یقین کر لیا اور واپس ہٹے درِ حقیقت مسلمانوں میں خود پسندی کے جذبات ابھرنے لگے تھے کہ اب ہم بہت زیادہ ہیں ہمیں کوئی طاقت شکست نہ دے سکے گی، حق تعالیٰ نے تادیب کے طور پر اسباب فرار قائم فرما دیے تاکہ معلوم ہو کے فتح کثرت لشکر سے نہیں بلکہ تائیدِ خداوندی سے ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ:
لَـقَدۡ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ فِىۡ مَوَاطِنَ كَثِيۡرَةٍ ۙ وَّيَوۡمَ حُنَيۡنٍ ۙ اِذۡ اَعۡجَبَـتۡكُمۡ كَثۡرَتُكُمۡ۔(سورۃ التوبہ 25)
امامیہ ابھی موت کے اندیشہ سے فرار کو جائز قرار دیتے ہیں ابوالقاسم بن سعید نے الشرائع میں اس کی تصریح کر دی ہے۔
جب سیدنا عباسؓ نے آوازا دی اور نصرتِ خداوندی نے ساتھ دیا تو پھر مسلمان واپس آگئے اور شدید لڑائی ہوئی فرار کے بعد رجوع کرنا اور لڑائی میں بھر پور حصہ لینا جرم کی تلافی اور توبہ ہے۔کتنا افسوس ہے یہ لوگ ایک ایسی جماعت کے حق میں طعن کرنا روا سمجھتے ہیں جنہوں نے تمام زندگی رسول اللہﷺ کی خدمت کی اپنے خون سے دین کے پودے کو سینچا اور کمال تک پہنچایا قرآنِ پاک انہیں ورع، شجاعت، شدت بر کفار، آپس میں ان کا مہربان ہونا اور ان کے زہد وغیرہ صفات سے متصف کرتا ہے اس جماعت پر کمزور اور لایعنی شبہات کی آڑ لے کر طعن کرتے ہیں اور تمام زندگی میں ایک بار یا دو بار کی کسی معمولی کوتاہی کا تذکرہ زبان پر جاری رکھتے ہیں اور آیاتِ مغفرت اور رضائے الہیٰ کی بشارتوں سے چشم پوشی کرتے ہیں کیا ان لوگوں پر قرآن پاک کا یہ حکم صادر نہ ہو گا؟
لِيَـغِيۡظَ بِهِمُ الۡكُفَّارَ ؕ
(سورۃالفتح 29)
صحابہ کرامؓ کے ذریعہ کفار کو غصہ دلاتا ہے۔