Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

اسلامی فتوحات پر ایرانیوں کا رد عمل

  علی محمد الصلابی

ایرانی حکومت کے ہاتھوں سے عراق کے کئی علاقوں کا نکل جانا اور اسلامی فوج کے ہاتھوں بار بار ہزیمت اٹھانا، یہ سب ایسے معمولی واقعات نہ تھے کہ آئے اور گزر گئے اور فارس کی ایرانی حکومت میں اس کا کوئی رد عمل نہ ہو۔ نہیں، بلکہ بڑے بڑے ایرانی سردار اور عمائدین جمع ہوئے اور رستم و فیرزان سے کہا کہ: تم دونوں کا آپس اختلاف ہمیں کہاں تک لے جائے گا، تم لوگوں نے سارے اہل فارس کو ذلت و رسوائی کا منہ دکھایا اور ان کے دشمنوں کے حوصلے بلند کر دیے، اے حکمرانو! اللہ کی قسم! یہ رسوائی تمہارے علاوہ کسی دوسرے نے ہم پر مسلط نہیں کی، تم نے اندرون ملک خانہ جنگی پیدا کر دی ہے اور لوگوں کو ان کے حقیقی دشمن سے غافل کر رکھا ہے، بے شک تم دونوں نے اتنا شدید نقصان پہنچایا ہے کہ اب اہل فارس تمہارا اختلاف نہیں دیکھنا چاہتے اور ملک کو تباہ و برباد نہیں کرنا چاہتے۔ اللہ کی قسم! تم اب اس کے علاوہ اور کیا دیکھنا چاہتے ہو کہ اللہ کی طرف سے آفت آئے اور ہم سب ہلاک ہو جائیں۔ بغداد، ساباط اور تکریت گنوانے کے بعد مدائن کے علاوہ اب ہمارے پاس بچا ہی کیا ہے۔ تم دونوں ایک ہو جاؤ ورنہ کسی کی کوئی ملامت سننے سے پہلے ہم تمہارا ہی کام تمام کر دیں گے۔ اللہ کی قسم! اگر تمہیں قتل کر دینے میں ہماری ہلاکت نہ ہوتی تو ابھی اسی وقت پہلے تمہی کو قتل کرتے اور سنو! اگر تم لوگ اپنے اختلاف سے باز نہ آئے تو ہم پہلے تم لوگوں کو قتل کریں گے اور پھر خود بھی ہلاک ہو جائیں گے، اب ہم صرف تمہاری مصالحت دیکھنا چاہتے ہیں۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 301، الطریق إلی المدائن: صفحہ 467) اس کے بعد رستم اور فیرزان پوران کے پاس گئے اور اس سے کہا کہ کسریٰ کی بیویوں، لونڈیوں اور پورے اہل وعیال کے نام خطوط لکھوا کر سب کو جمع کرو، چنانچہ اس نے خط لکھ کر سب کو بلا بھیجا، وہ سب لائی گئیں اور ان لوگوں کے حوالے کر دی گئیں جو تکلیف دے دے کر ان سے پوچھتے تھے کہ اگر کسریٰ کی اولاد میں کوئی لڑکا ہو تو اسے بتا دیں، لیکن کسی کے پاس کوئی اولاد نہ ٹھہری، البتہ ان میں سے ایک نے بتایا کہ شہریار بن کسریٰ کی اولاد میں سے یزدگرد نام کا صرف ایک لڑکا بچا ہے اور اس کی ماں اہل بادوریا سے ہے۔ کارندے اس کے پاس بھی گئے اسے پکڑ لائے اور لڑکے کو حاضر کرنے کا مطالبہ کیا، جس وقت یزدگرد کے چچا شیرویہ نے کسریٰ کی بیویوں، لونڈیوں اور اہل وعیال کو قصر ابیض (white house )میں جمع کیا تھا اور آل کسریٰ کے تمام مردوں یعنی یزدگرد کے سترہ 17 بھائیوں کو قتل کروا دیا تھا تاکہ تخت فارس کا کوئی دعویدار نہ ہو سکے، اس وقت اسی قتل کے خوف سے یزدگرد کی ماں نے اسے غائب کر دیا تھا اور اصطخر میں یزدگرد کے ننھیال میں اسے چھپا کر رکھا تھا۔ شیرویہ نے جن لوگوں کو قتل کیا تھا ان میں اس کا بھائی اور اس یزدگرد کا باپ شہر یار بن کسریٰ بھی تھا جو کسریٰ پرویز کی سب سے چہیتی بیوی ’’شیرین‘‘ سے تھا۔

بہرحال کارندوں نے یزدگرد کی ماں پر دباؤ ڈالا اور اس نے لڑکے کا پتہ بتا دیا۔ پھر اسے لایا گیا اور چونکہ اس کے سوا بنو ساسان کی نرینہ اولاد نہیں بچی تھی، اس لیے اہل فارس نے اسے تخت حکومت پر لا بٹھایا، حالانکہ ابھی اس کی عمر صرف اکیس 21 سال تھی۔ اس کی حکومت پر سب نے اتفاق کر لیا۔ سارے اہل فارس اس سے مطمئن ہوگئے، اس کی مدد و فرماںبرداری کے لیے آگے بڑھے اور ماضی کے اقتدار کی جنگ سے چھٹکارا حاصل کرنے کا اسے بہترین حل سمجھا۔

(الطریق إلی المدائن: صفحہ 467) یزدگرد ثالث نے بھی رستم و فیرزان کی مدد سے اپنے اختیارات و قوت کو استعمال میں لانا شروع کیا، کسریٰ کے دور حکومت میں سرحدوں پر جو حفاظتی چوکیاں قائم تھیں انہیں دوبارہ قائم کیا اور ہر سرحدی چوکی کے لیے الگ الگ فوجی لشکر تشکیل دے کر ان کا نام رکھا، مثلاً یہ حیرہ کی فوج ہے، یہ انبار کی فوج ہے اور یہ ابلہ کی فوج ہے۔

(الطریق إلی المدائن: صفحہ 468)