Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا امیر معاویہؓ نے اس شرط کی خلاف ورزی کی کہ وہ اپنے بعد مسئلہ خلافت شوریٰ پر چھوڑ دیں گے

  مولانا محمد علی نقشبندی

سیدنا امیر معاویہؓ نے اس شرط کی خلاف ورزی کی کہ وہ اپنے بعد مسئلہ خلافت شوریٰ پر چھوڑ دیں گے

کتب شیعہ میں سیدنا حسنؓ اور سیدنا معاویہؓ کے مابین صلح نامہ کے شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی مذکور ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ اپنے بعد خلافت کا معاملہ مجلس شوریٰ پر چھوڑ دیں گے لیکن انہوں نے اس شرط کو پسِ پشت ڈال دیا اور اپنی زندگی میں ہی یزید کو ولی عہد بنا دیا۔

طعن کے الفاظ ملاحظہ ہوں۔

شیعہ کتاب چودہ ستارے:

شرائط صلح کا حشر مؤرخین کا اتفاق ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ جو میدان سیاست میں کھلاڑی اور مکر و زر کی سلطنت کے تاجدار تھے۔ سیدنا حسنؓ سے وعدہ اور معاہدہ کے بعد ہی سب سے مکر گئے۔ ولم یقف له معاویۃ لشئ مما عاھد علیه۔ تاریخِ کامل ابنِ اثیر، جلد 3، صفحہ 162 میں ہے کہ معاویہ نے کسی ایک چیز کی بھی پرواہ نہ کی۔ اور کسی پر عمل نہ کیا۔

(چودہ ستارے مصنف نجم الحسن کراروی،

صفحہ 193 مطبوعہ موچی دروازہ لاہور)

جواب اول: یہ شرط شیعوں نے گھڑی ہے۔

طعنِ مذکورہ میں سیدنا حسنؓ اور سیدنا معاویہؓ کے مابین طے پائے جانے والی شرائط میں سے جس شرط کا ذکر کیا گیا ہے۔ اہلِ سنت کی مشہور کتب تاریخ میں سرے سے اس کا کوئی ذکر ہی نہیں ہے۔ تاریخ طبری، البدایۃ والنہایہ اور کامل ابنِ اثیر میں اس کام کی کوئی شرط نہیں۔

رہا یہ کہ معترض نے کامل ابنِ اثیر کا بمع جلد اور صفحہ جو حوالہ نقل کیا ہے۔ تو وہ خود ساختہ ہے۔ کامل ابنِ اثیر میں تلاش کرنے پر نہ مل سکا۔ جب اس شرط کا اس کتاب میں وجود ہی نہیں تو پھر اس سے عہد شکنی اور بد عہدی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ چلو ذرا نجم الدین کراری ہی وضاحت کریں کہ جس شرط کا تمہارے بڑوں نے ذکر کیا ہے کہ سیدنا معاویہؓ اپنے بعد خلافت کا معاملہ شوریٰ پر چھوڑ دیں گے، کیا ایسا کرنا شیعہ عقیدہ کی رو سے درست ہے، اگر جواب یہ ہو کہ ایسا کرنا صحیح نہیں کیونکہ تمہارے نزدیک امامت و خلافت اصولِ دین میں ہونے کی وجہ سے منصوص من اللہ ہوتی ہے، شوریٰ کی صوابدید پر اسے چھوڑا نہیں جا سکتا اور نہ ہی کسی دوسرے کے اختیار میں یہ معاملہ جا سکتا ہے، تو پھر شوریٰ کے سپرد نہ کرنے سے سیدنا معاویہؓ پر کون سا الزام گیا کہ انہوں نے سیدنا حسنؓ کی مخالفت کی؟

اس سے بڑھ کر ایک اور خرابی بلکہ سیدنا حسنؓ کی ذات پر شدید اعتراض کہ انہوں نے تمہارے عقیدہ امامت و خلافت کے مطابق امر خلافت و امامت کو شوریٰ کے سپرد کر کے منصوص من اللہ ہونے کا عملی طور پر انکار کر دیا۔ اب بتلاؤ کہ سیدنا حسنؓ کو اس انکار پر کیا کہو گے؟ اگر وہ درست ہیں تو تمہارا عقیدہ غلط، اور اگر وہ غلطی پر ہیں تو ان کی امامت کیسی؟ یہ اس صورت میں ہوگا کہ تم اس کو درست تسلیم کر لو کہ واقعی یہ شرط تھی۔

تو معلوم ہوا کہ شرط مذکور کسی طور پر بھی درست نہیں۔ رہا یہ پہلو کہ سیدنا معاویہؓ نے ولی عہد کیوں مقرر کر دیا ایسا کرنا درست نہ تھا۔ اور اسلام میں اس کی اجازت نہ تھی۔

تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر ولی عہد سیدنا معاویہؓ کے لیے باعثِ الزام ہے تو یہی بات سیدنا علیؓ سے بھی ہوئی۔ آپؓ نے سیدنا حسنؓ کو ولی عہد مقرر کیا اور اس کی تائید و تصدیق تمہاری کتابیں بھی کرتی ہیں:

کشف الغمہ:

ان علیا علیه السلام اوھیٰ بھل الیه و افاض ردائھا علیه۔

(کشف الغمہ فی معرفت الآئمہ جلد اول، ذکر امامت و بیعته علیہ السلام مطبوعہ تبریز طبع جدید)

ترجمہ: سیدنا علیؓ نے خلافت کی وصیت سیدنا حسنؓ کو فرمائی اور امرِ خلافت کی چادر انہیں اوڑھائی۔

تو ذرا دل تھام کر بتلائیے کہ سیدنا علیؓ نے بھی وہی کیا جو سیدنا امیر معاویہؓ نے کیا تو ایک ہی فعل ایک کے لیے باعثِ طعن و الزام ٹھہرے اور دوسرے کے لیے وہی باعثِ فخر و ثواب بن جائے؟

جواب دوم:

سیدنا امیر معاویہؓ نے کسی امر میں مجھ سے بدعہدی نہ کی: سیدنا حسنؓ:

کتب شیعہ میں یہ بات موجود ہے۔ کہ جب سیدنا حسنؓ کے انتقال کا وقت قریب آیا تو کچھ نام نہاد محب ان کے ہاں آئے اور عرض کرنے لگے کہ آپ سب سیدنا امیر معاویہؓ کی بیعت کو ختم کرنے کا اعلان فرما دیں۔ ان کے جواب میں سیدنا حسنؓ نے فرمایا۔

الاخبار الطوال: 

قَالُوا وَلَمْ يَرَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ طُولَ حَيَاتٍ مُعَاوِيَةَ مِنْهُ سُوءًا فِي انْفُسِهِمَا وَلَا مَكْرُوهَا وَلَا فَطَعَ عَنْهُمَا شَيْئًا كَانَ شَرَطَ لَهُمَا وَلَا تَغَيَّرَ لَهُمَا مِنْ بِرٍ

(الاخبار الطوال صفحہ 225 بین امیر معاویہ

 و عمرو بن العاص)

ترجمہ: مؤرخین کہتے ہیں کہ سیدنا حسینؓ نے سیدنا امیرمعاویہؓ کی پوری زندگی میں اپنے بارے میں کوئی برائی نہ دیکھی۔ اور نہ ہی کسی قسم کی خلافِ طبع کوئی بات دیکھی۔ اور سیدنا امیر معاویہؓ نے بھی ان سے کی گئی کسی شرط کو ختم نہ کیا۔ اور نہ ہی اچھے سلوک کو ان سے جُدا کیا۔

الاخبار الطوال کے درج بالا حوالہ سے یہ بات واضح طور پر سامنے آگئی کہ سیدنا امیر معاویہؓ نے حضرات حسنین کریمینؓ سے طے شدہ کسی شرط کی تاحیات مخالفت نہ کی۔ اور اس امر کا اقراد خود سیدنا حسنؓ و سیدنا حسینؓ کر رہے ہیں۔ تو عجیب بات ہے کہ جن کا معاملہ اور معاہدہ ہے وہ باہم شیر و شکر ہیں اور محبت کے دعویداروں کے پیٹ میں درد ہے کہ تھمتا ہی نہیں۔ ادھر سیدنا امیر معاویہؓ نے وہ مالی امداد جو ہر سال دیا کرتے تھے۔ اُسے بھی منقطع نہ کیا۔

آپ اسی جلد میں پچھلے صفات میں ملاحظہ کرچکے ہیں سیدنا امیرمعاویہؓ تقریباً دس لاکھ دینار سالانہ سیدنا حسنؓ کی خدمت میں ارسال کیا کرتے تھے۔ اور دیگر اجناس کے تحائف بھی دیا کرتے تھے۔

جب ان دونوں کے مابین اس قدر ہم آہنگی کی خود ساختہ محبتوں کے کہنے پر بھی سیدنا حسنؓ نے سیدنا امیر معاویہؓ سے قطع تعلق نہ کیا۔ تو پھر خود ساختہ شرط کی مخالفت کا الزام سیدنا امیر معاویہؓ پر لگانا نری حماقت اور پرلے درجے کی بد دیانتی نہیں تو اور کیا ہے؟

حقیقت بین اور حقائق شناس ان باتوں سے قطعاً فریب نہیں کھاتا۔ اور نہ ایسی لغو باتوں کے ذریعہ دوسروں کو فریب دینے کی مذموم کوشش کرتا ہے۔ مگر کیا کریں؟ نجم الحسن کراروی بے چارہ یتیم فی العلم ہے۔ وہ یہی کچھ کر سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہدایت عطا فرمائے۔ آمین