تحقیق باغ فدک (مولانا اللہ یار خان) - ردِ رافضیت | دفاع…

تحقیق باغ فدک (مولانا اللہ یار خان)

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 1 از 20

باغِ فدک

یہ مسئلہ شیعہ عقائد میں داخل ہے کہ نبی کریمﷺ کی وفات کے بعد حضورﷺ کی بیٹی سیدہ فاطمہؓ کو وراثت سے محروم کر دیا گیا وہ اپنے والد گرامی کی جاگیر باغِ فدک کا مطالبہ لے کر خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے پاس گئیں مگر انہوں نے مطالبہ پورا نہ کیا اس لیے وہ طعن کا نشانہ بن گئے۔

یہ بات اس لحاظ سے دین کا حصہ ہے کسی کو محروم الارث کر دینا ایک ظلم ہے اور ظلم کو عدل قرار دینا تو اس سے بڑا ظلم ہے پھر اس لحاظ سے اس کا جائزہ لینا نہایت ضروری ہے کہ اس فعل کی نسبت اس ہستی سے کی گئی ہے جسے سیدہ فاطمہؓ کے والد گرامیﷺ نے اپنی زندگی میں امت کا امام مقرر کیا تھا اوران کے شوہر سیدنا علیؓ نے اپنے عہد خلافت میں برسر منبر اعلان کیا

کہ یہ شخص ساری امت سے افضل ہے۔

 اس مسئلہ کا جائزہ لینے کے لیے اس کے مختلف پہلوؤں پر غور کرنا ضروری ہے ۔

1۔ فدک کیا ہے۔

2۔ فدک کی حدود کیا ہیں۔

3۔ یہ حضورﷺ کے قبضہ میں کیونکر آئی۔ 

4۔ اس میں حضورﷺ کا تصرف مالکانہ تھا یا متولیانہ۔

5۔ اس کی سالانہ آمدنی کتنی تھی۔

6۔ حضورﷺ کے زمانہ میں اس آمدنی کا مصرف کیا رہا۔

7۔ سیدہ فاطمہؓ نے میراث کا مطالبہ کیا تھا یا ہبہ کا۔

8۔ اگر ہبہ کا مطالبہ کیا تو مضمون دعویٰ کیا تھا۔

9۔ کیا حضورﷺ نے سیدہ فاطمہؓ کے حق میں اس کی وصیت کی تھی۔

10۔ کیا انبیاء کی میراث مالی ہوتی ہے یا علمی۔ 

11۔ سیدنا ابوبکرؓ نے اس مطالبہ پر جو فیصلہ کیا تھا وہ شریعت محمدیﷺ کے مطابق تھا یا اس کے خلاف ۔

12۔ خلیفہ اول کے بعد باقی تین خلفاء کے عہد میں اس کا مصرف کیا رہا۔ 

13۔ اگر انہوں نے کوئی تبدیلی نہیں کی تو وہ اس جُرم سے بَری کیونکر قرار دئے جاسکتے ہیں یہ تمام پہلو زیرِ بحث آئیں گے۔

1۔ فدک کیا ہے اس کی حدود کیا ہیں
مؤرخین کا فیصلہ

واما فدك وهي بفتح الفاء والمهمنة بعدها كاف بلديبينها وبين المدينة ثلاث مراحل وكان من شانها ما ذكر اصحاب المغازي قاطبة ان اهل فدک كانوا من يهود فلما فتحت خيبر ارسل اهل فلك يطلبون النبیﷺ الأمان على ان تيركو البلد ويرهادن۔

فدک فا کی زبر سے ہے مدینہ سے تین منزل پر واقع ہے مؤرخین کا اتفاق ہے کہ اہلِ فدک یہودی تھے جب خیبر فتح ہوا تو اہلِ فدک نے حضورﷺ سے امان طلب کی کہ انہیں بستی چھوڑ کر چلے جانے کی اجازت دی جائے۔

یعنی فدک مدینہ منورہ سے تین منزل کے فاصلے پر ایک گاؤں تھا جس میں یہودی آباد تھے لسانُ العرب میں لکھا ہے کہ فدک ایک گاؤں ہے جو حجاز میں واقع ہے "مراصد الاطلاع على اسماء الامكنة والبقاع" میں لکھا ہے کہ فدک حجاز میں ایک گاؤں ہے جو مدینہ طیبہ سے دو یا تین دن کی مسافت پر ہے اور اسے اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو فَے کیا تھا صلحاََ حاصل ہوا تھا اس میں پانی کے چشمے اورکھجوریں تھیں۔ 

یعنی اہلِ لغت اہلِ تاریخ اور جغرافیہ دان اس بات پر متفق ہیں کہ فدک ایک گاؤں تھا جس میں یہودی آباد تھے۔ 

علمائے شیعہ کے نزدیک فدک کی حقیقت

(1) شیعہ مجتہد ملاباقر مجلسی نے کتاب اِختصاص سے سیدنا جعفرؓ سے بسند معتبر فدک کی حدود بیان کی ہیں۔ 

(2) من روزے درخانۀ فاطمہؓ نشسته بودم کہو جبریلؑ نازل شد و گفت یا محمدﷺ خیز که خدا مرا امرکروہ است که ملک فلک را برائے تو خود کشم به بال خود پس حضرت برخاست درفت و باز در اندک زمان برگشت فاطمهؓ گفت کجا رفتی اے پدر فرمود که جبرئیلؑ برائے من ببال خود مملکت فدک راخط کشید و حدودش را بمن نمود ومرا امر کرد کہ تسلیم بتو نمائم پس حضرت فدک باد تسلیم کرد۔

(حياة القلوب جلد 2 صفحہ 503)

میں ایک روز سیدہ فاطمہؓ کے گھر بیٹھا تھا کہ جبریلؑ آئے اور کہا کہ اے محمدﷺ اُٹھئے مجھے خدا نے حکم دیا ہے کہ ملک فدک کی حدود کی نشاندہی کردوں پس حضورﷺ اٹھ کر چلے گئے اور تھوڑی دیر کے بعد لوٹے سیدہ فاطمہؓ نے کہا ابا جان آپ کہاں گئے تھے فرمایا کہ جبرئیلؑ نے فدک کی سلطنت کی حدود بتانے کے لیے اپنے پروں سے ایک خط کھینچا اور مجھے حکم دیا ہے کہ یہ سلطنت تیرے حوالے کردوں چنانچہ حضورﷺ نے فدک کی سلطنت ان کو دے دی یعنی فدک ایک ملک تھا ایک سلطنت تھی۔ 

(3) ابنِ شهر آشوب روایت کرده است کہ حضرت رسولﷺ چوں متوجہ قلعہا سے فدک شدند ایشان را قلعه ہاۓ حصین خود متحصن شدند ایشان را آنجنابﷺ طلبید و گفت که چه خودید کرد اگر شمارا دریں قلعه بگذارم و جمیع قلاع شمارا بکشائم و اموال شمارا متصرف شوم ایشاں گفتند مادران قلعها محافظان داریم و کلید ہائے آنہا نزد ماست حضرت فرمود بلکہ کلید ہائے آنہارا بمن داده است و در دست من است و کلید ہائے بایشان نمود۔

(حياة القلوب جلد 2 صفحہ 503)

ترجمہ: ابنِ شہر آشوب نے روایت کی ہے کہ حضورﷺ نے جب فدک کے قلعوں کا رخ کیا تو وہ لوگ اپنے مضبوط قلعوں میں قلعہ بند ہوگئے حضورﷺ نے انہیں طلب کیا اور فرمایا کہ اگر میں تمہیں اس قلعہ میں بند رکھوں اور تمام قلعوں اور اموال پر قبضہ کر لوں انہوں نے کہا ہم نے ان قلعوں میں محافظ رکھے ہوئے ہیں اور ان کی چابیاں ہمارے پاس ہیں حضورﷺ نے فرمایا کہ ان کی چابیاں تو میرے پاس میں پھر حضورﷺ نے وہ چابیاں انہیں دکھائیں۔

 یہ روایت پہلی روایت کی تائید کرتی ہے کہ فدک ایک سلطنت تھی جس میں عظیم الشان قلعے تھے۔

(3) اصول کافی میں فدک کی تفصیل یہ درج ہے۔

لما ورد ابو الحسن موسیٰ عليه السلام على المهدى راٰه يرد المظالم فقال يا امير المؤمنين ما بال مظلمتنا لا ترد فقال له ما ذاك يا ابا الحسن قال ان الله تعالیٰ لما فتح على نبيهﷺ ما و الا هالم يوجف به ولاده ب نزل الله تعالىٰ على نبيهﷺ وأت ذا القربيٰ حقه فلم یدی رسول اللهﷺ من هم فراجع جبرئیلؑ دبه فاوحی الله الیه ان اوقع الى فاطمه فدعا رسول اللهﷺ فقال لها يا فاطمهؓ ان الله امرنی ان الدفع اليک فدك فقالت قد قبلت يا رسول اللهﷺ من الله ومنك فلم يزل وكلاءها في حياة رسول اللهﷺ فلما ولى ابوبكرؓ اخرج ابوبكرؓ وكلاءها عنها فاتته فسالته ان يردها عليها قال المهدى له يا ابا الحسنؓ حدِ هالی فقال حد منها جبل احد وحد منها عويش معمر وحد منها سيف البحر وحد منها دومتنا الجندل فقال له كل هذا قال نعم يا امیر المومنين هذا كله ان هذا كله مما لم يوجف۔

(اصولِ کافی صفحہ 354)

صفحہ 1 از 20