تحقیق باغ فدک (مولانا اللہ یار خان) - ردِ رافضیت | دفاع…

تحقیق باغ فدک (مولانا اللہ یار خان)

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 10 از 20

زرارہ کے بیٹے کے ہاتھ امام نے جو پیغام زرارہ کے نام بھیجا ہے اس میں ابہام ہے دوسری روایت میں لفظ اعیبک کی تفصیل بیان ہوئی ہے مثلاً رجال کشی صفحہ 98۔99 سیدنا جعفر فرماتے ہیں۔

کذب على والله یكذب على لعن الله زراره لعن الله زراره لعن الله زراره۔

مجھ پر جھوٹ باندھا ہے مجھ پر جھوٹ باندھا ہے اللہ زرارہ پر لعنت کرے لعنت کرے لعنت کرے۔

پھر اسی کے صفحہ 107 پر لکھا ہے۔

عن ابی عبد الله عليه السلام قال (الراوى) دخلت عليه فقال متى عهدك بزراره قال قلت ما رأيته منذ ايام قال لا تبال وان مرض فلا تعده وان مات فلا تشهد جنازته قال قلت متعجبا مما قال نعم زراره شر من اليهود والنصاري ومن قال ان مع الله ثالث ثلاثه۔

راوی کہتا ہے میں سیدنا جعفر کے پاس گیا پوچھا زرارہ سے کب ملاقات ہوئی میں نے کہا کئی روز سے اسے نہیں دیکھا فرمایا کچھ پروا نہیں اگر وہ بیمار ہو جائے تو اس کی عیادت نہ کرنا اگر وہ مر جائے تو اس کے جنازہ میں شریک نہ ہونا میں نے تعجب سے پوچھا کس کی بات کر رہے ہیں فرمایا ہاں زرارہ کی بات ہے وہ یہود و نصاریٰ سے برا ہے اور تین خدا ماننے والوں سے بھی برا ہے۔

 پھر اسی رجال کشی کے صفحہ 106 پر ۔

قال (زراره) قلت التحيات والصلوة قال التحيات والصلوة فلما خرجت ضرطت في لحيته وقلت لا يفلح ابدا۔

زراره کہتا ہے میں نے امام سے کہا التحیاة والصلوة فرمایا التحیاة الخ جب میں باہر نکلا تو میں نے امام کی داڑھی میں پاد مارا اور کہا خدا تجھے کبھی فلاح نہ دے۔

پھر اسی کے صفحہ 107 پر ہے۔

فان زراره قال ليس من ديني ولا من دین آبائی۔

امام نے فرمایا زرارہ نہ میرے دین پر ہے نہ میرے آباء کے دین پر ہے۔

اور حق الیقین صفحہ 722 پر ملا باقر مجلسی نے لکھا ہے کہ زرارہ اور ابوبصیر دونوں شیعہ کے نزدیک اجماعی کافر ہیں اور سیدنا جعفر نے بروایت رجال کشی زرارہ کو ملعون اور دین ائمہ سے خارج قرار دیا یہ اعیبک کی تفصیل ہے تو اس کا ملعون ہوتا کافر ہونا یہود و نصاری سے بدتر ہونا دراصل اس کے فضائل ہیں جو عیب کے پردے میں بیان ہوئے ہیں اور لطف یہ ہے دین شیعہ کا قریباً 9/10 حصہ اسی زرارہ اور ابوبصیر کی روایات پر مبنی ہے جب ان اجماعی کافروں کی روایات قابل قبول ہی نہیں یا نہیں بلکہ سر آنکھوں پر تو ابوالہ البختری کے ایک وصف اکذب البریہ کی وجہ سے اس کی روایت کو رد کیوں کیا جائے کیا اس وجہ سے کہ اسے کافر اور ملعون نہیں کہا گیا اس لیے وہ نہ یادہ ثقہ نہیں؟ مگر اکذب البریہ کے وصف کو بھی معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔

یہاں ایک بات ذرا عجیب معلوم ہوتی ہے کہ جب زرارہ کو علم تھا کہ عیب کے پردے میں اس کی تعریف ہو رہی ہے تو امام کی داڑھی میں پاد کیوں مارا ممکن ہے یه ظاہر کرنا ہو کہ اسے امام سے محبت ہے اور یہ حرکت گویا عطر چھڑکنے کے مترادف ہو اور لا یفلح ابدا سے علوشان کا اظہار ہو۔ 

اس اصول کا ایک پہلو بھی قابل غور ہے کہ مخالفوں اور دشمنوں کے سامنے تو ان محبوب ہستیوں کے عیب بیان کرنا ان کے بچاؤ کی خاطر ہوسکتا ہے لیکن اپنوں کے سامنے ایسا بیان آخر کیا معنی رکھتا ہے۔

حاصل یہ کہ اصول کافی کی احادیث واضح کرتی ہیں کہ انبیاء کی مالی میراث نہیں ہوتی اور اصول کافی کی کسی حدیث کا انکار ائمہ کا انکار ہے ایک ابو البختری کا معمولی سا عیب کہ اکذب البریہ ہے کی حیثیت کو کم نہیں کر سکتا۔

قرآن حکیم اور وراثت انبیاء:

شیعہ حضرات ذیل کی آیات قرآنی انبیاء کی مالی میراث کی دلیل میں پیش کرتے ہیں۔

(1) يوصيكم الله فی اولادكم۔

(2) ولكل جعلنا موالى مما ترك الوالدان والاقربون۔

(3) وللنساء نصيب مما ترك الوالدان والاقربون۔

(4) و ورث سلیمانؑ داوؤد۔

(5) رب هب لی من لدنك وليا يرثنى ويرث من آل يعقوب۔

اصولاً ان آیات سے انبیاء کی مالی میراث ثابت نہیں ہوتی کیونکہ 

(1) جس بات پر کفر و ایمان کا مدار ہوتا ہے اس کے لیے دلیل قطعی کی ضرورت ہے جس دلیل میں کئی احتمال ہوں وہ دلیل نہیں بن سکتی۔

(2) دعوٰی خاص ہے کہ انبیاء کی مالی میراث نہیں ہوتی اور ان آیات میں دلیل عام ہے دلیل عام مستلزم دعوٰی خاص کو نہیں دعویٰ خاص کے لیے دلیل خاص لازمی ہے۔

(3) پہلی تین آیات میں انبیاء کا ذکر نہیں مال کا ذکر ہے باقی میں انبیاء کا ذکر ہے مال کا ذکر نہیں اس لیے یہ آیتیں دعویٰ خاص کی دلیل نہیں بن سکتیں۔

(4) یوصیکم اللہ میں خطاب امت کو ہے رسول خداﷺ کو نہیں اس لیے اصول کافی وغیرہ میں عدم میراث انبیاء کی حدیث از قبیل تعین خطاب ہے مخصص خطاب نہیں اور اگر مخصص مان لیں تو بھی ایک پہلو سے درست ہے کیونکہ آیت عام مخصوص البعض ہے مثلاً اولاد کافرکو میراث نہیں ملے گی۔ قاتل وارث نہ ہوگا مرتد وارث نہ ہوگا۔

ان تمام صورتوں میں آیت تخصیص پاچکی ہے تو انبیاء کی میراث تخصیص مان لینے میں کیا مانع ہے۔ 

(5) آخری دو آیتوں میں مطلق میراث کا ذکر ہے مالی میراث کا ذکر نہیں اگر یہ کہا جائے کہ آیت میں ورث یرث کے الفاظ سے مالی میراث ثابت ہوتی ہے کیونکہ وراثت مال میں حقیقت ہے اور علم میں مجاز ہے تو اس کی تحقیق گذشتہ صفحات میں گذر چکی ہے پھر ورث سلیمانؑ میں حضرت سلیمانؑ کے وارث ہونے کی خبر ہے جو ان کی تعریف اور مدح کی آئینہ دار ہے اگر وراثت مالی لیں تو اس میں مدح کا کوئی پہلو نہیں کیوں کہ تمام انسان اس میں شریک ہیں اس لیے مال کا وارث ہونا نہ کوئی کمال ہے نہ تعریف کا مقام اس بنا پر یہ تعریف لغو ہوگی اور کلام اللہ لغو سے پاک ہے۔ 

پھر یہ کہ حضرت داؤدؑ کے 19 بیٹے تھے ناسخ التوریخ جلد 1 صفحہ270) پر ان سب کے نام درج ہیں مالی میراث میں سب بیٹے شریک ہوئے تھے پھر حضرت سلیمانؑ کا خصوصیت سے ذکر کرنا کیا معنی رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ آیت کا باقی حصہ مالی میراث کی تردید کرتا ہے کہ وقال يا ايها الناس علمنا منطق الطیر اور صاف ظاہر ہے کہ یہ میراث علم اور منصب کی تھی۔

اس پر ایک سوال ہوتا ہے کہ حضرت سلیمانؑ کو حضرت داؤدؑ کی زندگی میں ہی علم مل گیا تھا پھر ان کے بعد علم کے وارث کیونکر بنے تو اس کا جواب یہ ہے کہ علم تو بیشک مل گیا تھا مگر نبوت اور منصب والد کے بعد ملے

صفحہ 10 از 20