تحقیق باغ فدک (مولانا اللہ یار خان) - ردِ رافضیت | دفاع…

تحقیق باغ فدک (مولانا اللہ یار خان)

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 11 از 20

اگر اس صراحت کے باوجود اسے مالی میراث ہی قرار دیں تو حضرت داؤدؑ کی دولت کا جائزہ لینا پڑے گا دیکھنا یہ ہے کہ جو شخص زرہیں بنا کر اپنا گذر اوقات کرے وہ کتنا ترکہ چھوڑ سکتا ہے جس کے لیے قرآنِ حکیم میں خاص اہتمام سے ذکر کیا گیا ہے۔ پھر یہ دیکھنا ہوگا کہ حضرت سلیمانؑ کے ہاتھ جب وہ مال آیا تو انہوں نے اسے کہاں کھپایا کیونکہ وہ ٹوپیاں بنا کر اپنا گزارہ کرتے تھے۔ اگر یہ کہا جائے کہ مفسرین لکھتے ہیں کہ میراث میں گھوڑے ملے تھے تو ظاہر ہے کہ وہ گھوڑے حکومت کے تھے جن پر حضرت سلیمانؑ کا تصرف مالکانہ نہیں بلکہ متولیانہ تھا حضرت سلیمانؑ کی معاش کے متعلق ایک شیعہ مترجم قرآن علامہ حسین نے ووھبنا الداؤد سلیمان کی تفسیر میں لکھا ہے۔

باوجود آں ملک و سلطنت زنبیل بافتے بجهت او معاش خود و به حصیر خواب کردے ولحظه از یاد خدا غافل نہ بودے۔

 اس وسیع حکومت کے باوجود اپنی معاش کے لیے زنبیل بنتے اور چٹائی پر سوتے تھے اور ایک لحظ میں یاد خدا سے غافل نہ ہوتے تھے اگر بقول شیعہ قرآن نے مالی میراث کا ذکر کیا ہے تو وہ کتنی تھی اور کہاں گئی جسے میراث ملی اس کا حال یہ ہے کہ ٹوکریاں بنا کر پیٹ پالتا ہے اور رات چٹائی پر بسر کرتا ہے۔

آیت کی تفسیر صافی جلد 2 صفحہ 73) پر یوں کی گئی ہے۔

و ورث سلیمان داؤد الملک والنبوة حضرت سلیمانؑ کو حضرت داؤدؑ سے ملک اور نبوت ورثہ میں ملے۔ 

شیعہ شارخین حدیث نے اس آیت کے متعلق لکھا ہے۔

عن ابي عبدالله قال ان سليمانؑ ورث داؤدوؑ ان محمدﷺ ورث سلیمانؑ وانا ورثنا محمدﷺ اوان عندنا علم التورةٰ والانجيل والزبور۔

سیدنا جعفر سے روایت ہے کہ حضرت سلیمانؑ ہے کو حضرت داؤدؑ کی وراثت ملی اور حضرت محمدﷺ کو حضرت سلیمانؑ کی وراثت ملی اور ہم حضرت محمدﷺ کے وارث ہوئے ہمارے پاس تورات انجیل زبور کا علم ہے۔

(صافی شرح اصول کافی جلد 1 صفحہ149) 

اور شرح صافی۔

گفت امام جعفر صادق بدرستیکہ سلیمان بمیراث

گرفت علم را از داؤد چنانچہ اللہ تعالیٰ گفته در سوره نمل وورث سلیمانؑ داؤد بدرستیکه محمد بمیراث برد علم را از سلیمانؑ و بدرستیکه ما اہل بیت محمد بمیراث برد علم را از محمدﷺ۔ 

  اور صافی شرح اصول کافی(جلد 1 صفحہ 71) پر ہے

قال ابو جعفر انا خزان الله في سمائه وارضه لا على ذهب ولا فضة الاعلى علمه۔ 

سیدنا جعفر فرماتے ہیں ہم زمین و آسمان میں اللہ کے خزانے ہیں سونے چاندی کے نہیں علم کے خزانے۔

شرح صافی۔

شیعہ مفسماہر آئینه خازنان الله تعالیٰ در آسمان او و زمین اونه نقرہ بلکه بر علم او که نزد حاملان وحی از ملائکه است و نزد انبیاء علیهم السلام ورسل است۔

رین نے اس آیت کی تفسیر میں حکومت اور نبوت کا ذکر کیا ہے اور شیعہ محدثین نے سیدنا جعفر کا قول نقل کیا ہے کہ یہ وراثت علوم نبوت کی تھی اس لیے امام کے مقابلے میں کوئی محقق یا مجتہد خواہ وہ کسی پایہ کا ہو کیا حقیقت رکھتا ہے۔

آیت 5 ایک دعا ہے اور مالی وراثت تو دعا کے بغیر ہی بیٹے کو ملتی ہے لہٰذا حضرت یعقوبؑ کی دعا کے الفاظ "یرثنی" سے مراد علم و نبوت کیلئے وارث کی درخواست ہے دوسرا پہلو یہ ہے کہ دعا تو قبول ہوگئی مگر حضرت یعقوبؑ اور حضرت زکریاؑ کے درمیان کوئی دو ہزار سال کا فاصلہ ہے یہ بعد زمانی بھی مالی میراث کی تردید اور علمی میراث کی تائید کرتا ہے۔

اس آیت کی تفسیر کتب شیعہ میں یوں ملتی ہے۔

(1) درة النجفيه شرح نهج البلاغہ جلد 1 صفحہ 64۔

وقيل اراد منصب الخلافة ويصدق عليه لفظ الارث كما صدق في قوله تعالىٰ حكاية عن زكريا عليه السلام يرثني ويرث من آل يعقوبؑ فانه اراد يرث علمى و مذهبى في النبرة فكانه اسم الميراث صادقا على ذلك۔

کہا گیا ہے کہ مراد منصب خلافت ہے اور خلافت پر میراث کا لفظ صادق آتا ہے جیسا کہ قرآن میں حضرت زکریا عليه السلام کے متعلق بیان ہے "یرثنی الخ" مراد میراث علمی اور منصب نبوت ہے گویا میراث کا لفظ اس پر صادق آتا ہے۔

 (2) الصانی شرح اصول کافی جلد 1 صفحہ 29 جزو سوم حصہ دوم۔ 

ثم مات زكريا عليه السلام فورثه ابنه يحيىؑ الكتاب والحكمة وهو صبي صغيرا ما تسمع لقوله تعالیٰ عزوجل يا يحيىؑ خذا الكتاب بقوة وٰتيناہ الحكم صبيا۔

پھر زکریاؑ فوت ہوگئے اور ان کے بیٹے یحییٰؑ کتاب و حکمت کے وارث ہوئے جبکہ وہ کم سن بچے تھے کیا تو نے اللہ کا فرمان نہیں سنا کہ اے یحییٰؑ کتاب کو مضبوط پکڑ اور ہم نے اسے بچپن میں حکمت دی تھی۔

شرح صافی

بعد ازاں مرد زکریاؑ پس میراث بردا ورا یحییٰؑ پسرشن کہ آخر اوصیائے موسیؑ بوده علم کتاب تورات۔

ان اِقتباسات سے ظاہر ہے کہ آج کے شیعہ جن آیات قرآنی سے انبیاء کی مالی میراث ثابت کرتے ہیں متقدمین شیعہ اور ائمہ نے یہی آیات انبیاء کی علمی میراث اور منصب نبوت کے لیے پیش کی ہیں یعنی متأخرین شیعہ نے ائمہ کی مخالفت کرتے ہوئے قرآن مجید میں معنوی تحریف کر کے اپنے ایجاد کردہ عقیدہ کو مستند قرار دینے کی کوشش کی ہے اگر یہ لوگ اپنے اللہ کے عقیدہ پر رہتے تو فدک کا مصنوعی قضیہ کھڑا کرنے اور اس کے لیے بناوٹی دلائل تیار کرنے کی زحمت نہ اٹھانا پڑتی۔

سیدنا ابو بکر صدیقؓ اور سیدہ فاطمہؓ کا مکالمہ

حدیث فدک بخاری میں چار مقامات پر بیان ہوئی ہے جس کا ماحصل یہ ہے کہ سیدہ فاطمہؓ نے جب سیدنا صدیق اکبرؓ کے سامنے فدک کی بات چھیڑی تو خلیفہ رسولﷺ نے انہیں حضورﷺ کی ایک حدیث سنائی اور اس حدیث پر عمل کرنے کے سلسلے میں اپنی طرف سے یہ کہا۔

 لا ادع امرا رأیت رسول اللهﷺ يصنعه فيه الاصنعته۔ 

میں نے حضور اکرمﷺ کو جس طریقہ سے کوئی کام کرتے دیکھا اس طریقے کو میں نہیں چھوڑوں گا۔ 

دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں۔

لست نار کاشئیا كان رسول اللهﷺ یعمل به الا عملت به فانی اخشیٰ ان تركت شئیا من امره ان اضیع۔

میں وہ کام نہیں چھوڑوں گا جو سول کریمﷺ کرتے تھے میں صرف اسی پر عمل کروں گا اگر میں حضور اکرمﷺ کے کسی حکم کو چھوڑوں تو مجھے ڈر ہے کہ گمراہ ہو جاؤں گا۔ 

سیدنا صدیق اکبرؓ کے جواب سے ظاہر ہے کہ آپؓ نے وہی کچھ کیا جو ایک سچا مؤمن قرآن حکیم کی تعلیمات کی روشنی میں کر سکتا ہے اور کرنا چاہیے مثلاً۔

ما كان المؤمن ولا مؤمنة اذا قضی الله ورسوله أمرا ان يكون لهم الخيرة من امرهم۔

صفحہ 11 از 20