تحقیق باغ فدک (مولانا اللہ یار خان) - ردِ رافضیت | دفاع…

تحقیق باغ فدک (مولانا اللہ یار خان)

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 12 از 20

فلا و ربك لا يؤمنون حتىٰ يحكموك فيما شجر بينهم ثم لا يجدوا في انفسهم حرجا مما قضيت ويسلموا تسليما۔

فليحذر الذين يخالفون عن أمره إلى تصيبهم فتنة أو يصيبهم  عذاب اليم۔

 یعنی حضورﷺ کے فیصلے کو دل سے تسلیم کرنا اور اس کی مخالفت کا خیال ہی دل میں نہ لانا سیدنا ابوبکرؓ سے متعلق تو ایک سچے مؤمن کا رویہ ریکارڈ پر آگیا مگر دوسری طرف سیدہ فاطمہؓ کے متعلق غلط فہمیاں پیدا کرنے اور پھیلانے کی کوشش کی گئی دیکھنا یہ ہے کہ سیدہ فاطمہؓ نے قرآنِ حکیم کی یہ آیات یا اسی مضمون کی دوسری آیات پڑھی ہونگی یا نہیں؟ پڑھی ہوں گی تو ان کا مفہوم بھی سمجھا ہوگا یا نہیں؟ اگر سمجھا ہوگا تو اس حکم کی تعمیل کی ہو گی یا نہیں اگر کہیں کہ تعمیل نہیں کی تو یہ سیدہ فاطمہؓ کے مقام سے ناواقفیت بلکہ ان کی توہین ہے اگر کہیں کہ تعمیل کی تو اس کی صورت کیا ہوسکتی ہے آدمی جتنا غور کرے اس کے بغیر کوئی صورت نظر نہیں آتی کہ جب ان کے مطالبہ کے جواب میں سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے اپنا کوئی فیصلہ نہیں سنایا بلکہ نبی کریمﷺ کی حدیث سنا دی اپنی طرف سے صرف اتنا کہا کہ مجھے اس حدیث پر عمل کرنا ہے اور سیدہ فاطمہؓ اس جواب سے ایسی مطمئین ہوگئیں کہ عمر بھر  اس مسئلہ کا ذکر تک نہیں کیا اب دیکھنا یہ ہے کہ سیدنا ابوبکرؓ نے لا ادع امر کہ کر کس رویہ کی طرف اشارہ کیا ہے وہ کیا تھا شرح نہج البلاغہ اور علامہ مقیم بحرانی صفحہ 543 پر اس کی تفصیل دی گئی ہے۔ 

كان رسول الله يأخذ من فدك قوتكم و يقسم الباقی و يحمل منه في سبيل اللہ ولك على الله ان اصنع بھاكما يصنع فرضیت بذلك واخذت العهد عليه به وكان يأخذ غلتها فیدفع اليهم منها ما يكفيهم ثم فعلت الخلفاء بعدہ کذالک الی ان ولی معاويةؓ۔

سیدنا صدیق اکبرؓ نے فرمایا کہ رسول کریمﷺ فدک کی آمدنی سے آپ اہلِ بیت کا خرچ الگ کر لیتے تھے جو آپﷺ کے لیے کافی ہوتا تھا باقی مساکین پر یا جہاد کی تیاری پر خرچ کرتے تھے اور اللہ کی  رضا کیلئے آپ کا مجھ پر حق ہے کہ میں فدک میں وہی طریقہ اختیار کروں جو حضور اکرمﷺ کرتے تھے یہ سن کر سیدہ فاطمہؓ راضی ہوگئیں اور  سیدنا صدیق اکبرؓ سے ایسا کرنے کا عہد لیا پھر آپؓ نے اپنے عہد میں  اہلِ بیت کو اسی طرح سال کا  خرچ دیتے رہے ان کے بعد خلفاء نے بھی وہی طریقہ جاری رکھا حتیٰ کہ سیدنا امیر معاویہؓ کا زمانہ آگیا ۔

علامہ میثم شارح منہج البلاغہ نے وضاحت کر دی کہ:

1۔ فدک کی آمدنی کی تقسیم جس طرح حضور اکرمﷺ  کرتے تھے سیدنا ابوبکرؓ نے وہی طریقہ جاری رکھنا چاہا۔

2۔ سیدہ فاطمہؓ سے کہا کہ آپ مجھے حضور اکرمﷺ کا طریقہ جاری رکھنے دیں۔ 

3۔ سیدہ فاطمہؓ اس پر راضی ہوگئیں اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو اس پر قائم رہنے کا عہد لیا۔ 

4۔ سیدنا ابوبکرؓ اس عہد پر قائم رہے اور ان کے بعد تمام خلفائے راشدینؓ بھی اسی عہد پر قائم رہے اور فدک کی آمدنی بالکل اسی طرح  تقسیم کرتے رہے جیسے رسول اللہﷺ کرتے تھے نہج البلاغہ کی ایک اور شرح درة النجفیہ میں صفحہ 331 پر بعینہ ہہی عبارت ہے اور سید علی نقی نے شرح نہج البلاغہ جلد 5 صفحہ 960 میں بلکل اسی طرح سیدہ فاطمہؓ کی رضا مندی کا ذکر کیا ہے۔

الحق الیقین  صفحہ 222 پر ملا باقر مجلسی نے ایک اور بات کا ذکر بھی کیا ہے کہ جب سیدنا علیؓ اور سیدنا زبیرؓ نے بیعت کی اور یہ فتنہ دور ہو گیا تو سیدنا ابوبکرؓ آۓ اور سیدنا عمرؓ کی سفارش کی پس سیدہ فاطمہؓ اس پر راضی ہو گئیں۔

 اب شیعہ کتب کے علاوہ دوسری کتب سے چند اِقتباسات دئے جاتے ہیں۔ 

1۔ تفسیر کبیر المدازی جلد 3صفحہ 57

والجواب ان فاطمة عليها السلام رضيت بقول ابى بكرؓ بعد هذه المناظرة والفقد الاجتماع على صحة ما ذهب الیہ ابوبكرؓ مسقط هذا السؤال۔

اور جواب یہ ہے کہ سیدہ فاطمہؓ اس مکالمہ کے بعد سیدنا ابوبکرؓ سے راضی ہوگئیں اور سیدنا ابوبکرؓ کے قول پر اجماع ہوگیا اور شیعوں کا یہ سوال ساقط ہو گیا۔

 2۔ ریاض النظرة مصری جلد 1 صفحہ 156

عن عامر قال جاء ابوبکرؓ الی فاطمةؓ وقد اشتد ھو صنھا فاستأذن علیھا فقال لھا علی ھذا ابوبکرؓ علی الباب یستاذن فان شئت ان تاذنی لہ قالت او ذاك احب الیک قال نعم فدخلنا غتذر الیھا وکلھا فرضیت عنہ۔

3۔ ریاض النظرة جلد 1 صفحہ 157

وعن الأوزعي قال بلغنى ان فاطمةؓ بنت رسول اللہﷺ غضبت على ابى بكرؓ تخرج ابوبكرؓ حتىٰ قام على بابها في يوم حار ثم قال لا أبرح مكانی حتىٰ ترضىٰ عنى بنت رسول اللهﷺ فدخل عليها علی فاقسم عليها الترضیٰ فرضيت اخرجہ ابن السمان في الموافقة۔

 امام اوزاعی فرماتے ہیں مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ سیدہ فاطمہؓ جب سیدنا ابوبکر صدیقؓ سے رنجیدہ ہوئیں سیدنا ابوبکرؓ گھر سے نکلے ان کے دروازے پر جاپہنچے سخت گرمی کا دن تھا فرمایا میں یہاں سے نہیں ٹلوں گا جب تک سیدہ فاطمہؓ راضی نہیں ہوتیں سیدنا علیؓ نے سیدہ فاطمہؓ کو قسم دی کہ راضی ہوجائیں چنانچہ وہ راضی ہو گئیں۔

4۔ فیض الباری 

روى البھقی من الشعبي قال ما مرضت فاطمةؓ اتاها ابوبكرؓ فاستأذن عليها قال علىؓ يا فاطمةؓ هذا ابوبكرؓ ليستأذن عليك فدخل عليها ثم ترضاها حتىٰ رضیت ان الشعبی طلحہ من علیؓ۔ 

5۔کتاب اللخمس ابی حفص بن شاہین بیان کرتا ہے۔

دخل ابوبكرؓ على فاطمةؓ بنت رسول اللهﷺ لما قام ابو بكرؓ حتىٰ رضیت 

ان روایات سے سیدنا فاطمہؓ  کے راضی ہونے کے علاوہ ان کے باہمی تعلقات پر روشنی پڑتی ہے ۔

1۔ یعنی سیدہ فاطمہؓ کا راضی ہونا اور سیدنا ابوبکرؓکی کا عیادت کیلئے آنا، باہم خلوص اور عقیدت کا اظہار ہے۔

2۔سیدہ فاطمہؓ کا انہیں اندر آنے کی اجازت دینا ان کے دل کی صفائی اورخلیفۂ رسولﷺ کی قدر و منزلت کا اظہار کرتا ہے۔ 

3۔ سیدنا علیؓ کا سیدہ فاطمہؓ کے اس فعل کو پسند کرنا ظاہر کرتاہے کہ سیدنا علیؓ کے دل میں سیدنا ابوبکر کی قدر و منزلت تھی ۔

ایسے تعلقات تو صرف اپنوں کے درمیان ہوتے ہیں اور ان لوگوں کے درمیان جو ایک دوسرے سے وابستہ رہنا چاہتے ہیں دشمن تو ایسے موقع پر نہ عیادت کیلئے آتے ہیں اور نہ ایک دوسرے کو ملنا چاہتے ہیں۔ 

ان روایات کی حیثیت اہلِ فن کے نزدیک یہ ہے۔

صفحہ 12 از 20