تحقیق باغ فدک (مولانا اللہ یار خان) - ردِ رافضیت | دفاع…

تحقیق باغ فدک (مولانا اللہ یار خان)

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 13 از 20

البدایہ والنہایہ ابنِ کثیر جلد 5 صفحہ 289 میں رضا مندی فاطمہؓ کی روایت کو قومی در کیا جید سے بیان کیا ہے۔ اور طبقات ابن سعد جلد 8 صفحہ 27 میں مدارج النبوۃ شیخ عبد الحق خدمت دہلوی جلد 2 صفحہ445 تا 446 سیرت حلبیہ کی روایت جو امام اوزاعی سے آئی اس کی تصدیق فرمائی فیض الباری میں امام شعبی کا خود سیدنا علیؓ سے رضا مندی سیدہ فاطمہؓ کو بیان کرنا لکھا ہے۔ 

علامہ ابنِ حجر عسقلانی نے امام شعبی کی روایت کو صحیح فرمایا ہے۔ 

صاحب دورة النجفیه، علامه میثم عمرانی، سید علی نقی وغیره متقدمین شیعہ علماء نے صاف ذکر کیا ہے کہ فرضیت فاطمہؓ مگر زمانہ حال کے شیعہ علماء نے اہلِ حدیث پر دو اعتراض کئے مولوی محمد اسماعیل نے اخبار صداقت میں اور مولوی محمد منظور نے تو شقیق منظوری میں لکھا ہے کہ

1- بائے موحدہ جب رضا کا صلہ ہو تو رضا بمعنی قناعت ہوتی ہے یہاں فرضیت بذلک ہے اور رضا اور قناعت مختلف چیز میں ہیں۔

یہ بات بظاہر وزنی معلوم ہوتی ہے مگر اہلِ لغت اس کی تائید نہیں کرتے مثلاً

لسان العرب جلد 8 صفحہ 297۔

قنع بنفسه قنعا و قناعة

القاموس جلد 3 صفحہ 21۔

القناعة الرضا بالقسم قناعت تقسیم سے راضی ہونے کا نام ہے۔

منتهی الارب جلد 3 صفحہ 556۔

قناعت کسمایت خورسندی

اہلِ لغت کے علاوہ قرآن مجید اس اعتراض کی تائید نہیں کرتا۔

لا یرجون لقاءنا ورضوا بالحياة الدنيا واطمانوا بھا یہاں رضا کا صلہ 'با'  ہے مگر مطلب رضا اور اطمینان ہے وہ قناعت نہیں میں میں مجبوری شامل ہو۔

پھر شیعہ لٹریچر میں اس کی تردید میں مثالیں ملتی ہیں۔

مثلا ناسخ التواریخ جلد سوم از کتاب دوم پر سیدنا علیؓ کے خطبہ میں یہ مصرعہ موجود ہے 

انا راضي بحجة الله وعملہ فيهم ومن حکمت خدا و امراد و حق ایشان خوشنودم۔

آگے اس کتاب کے صحفہ 31 پر ہے۔

وساقهم الشيطان لطلب ما لا يرضی اللہ بہ۔

شیطان انہیں اس چیز کی طلب میں لیے چلا جس سے اللہ تعالیٰ راضی نہیں ہے۔

دونوں مقامات پر رضا کا مسلہ 'با' ہے مگر معنی رضا ہی کے ہیں قناعت کے نہیں۔

دوسرا اعتراض یہ ہے کہ بحرانی کی روایت بصیغہ مجہول روی بیان ہوئی ہے اور یہ دلیل ضعف کی ہے۔

یہ محض دعویٰ ہے جو اصول حدیث کے خلاف ہے یشیعہ مذہب صیغہ مجمول روایت وحدیث کے غیر مشہور ہونے کی دلیل ہے ضعف کی دلیل نہیں اس پر سب شیعہ متفق ہیں کہ جو حکم یا حد میں مشہور ہے ظاہر ہے وہ غلط ہے اور جو یہ مشہور ہے زاویہ تقیہ اور کتمان میں ہے وہ حق ہے دیکھو اصول کافی باب التقیہ والکتمان ۔

اس لیے شدید اصول کے مطابق اس روایت کو ضعیف نہیں کہہ سکتے ہاں یہ کہہ سکتے ہیں کہ امام نے تقیہ کر کے یا کتمان حق کر کے یا راوی نے ایسا کر کے بصیغہ مجہول بیان کیا ہے۔

اس اصول کی شہادتیں میں واقعات سے ملتی ہیں

(1)  سیدنا علیؓ نے خلفائے ثلاثہؓ کی بعیت تقیہ کر کے کی تھی اس لیے ظاہر تو باطل تھا مگر اندر عقیدہ حق تھا۔

(2)  سیدنا علیؓ نے خلفائے کی اقتداء میں نماز  پڑھی اس لیے ظاہر نماز باطل دل کے اندر جو کچھ تھا وہ حق تھا آگے یہ سلسلہ سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ کا سیدنا امیر معاویہؓ کے عہد تک جاری رہا  کہ ان حضرات کے ظاہری حالات باطل تھے اور باطن حق تھا۔ اسی طرح یہ روایت تقیہ کر کے بیان ہوئی ہے شیعہ کے خوف کی وجہ سے واضح کر کے بیان نہیں کی۔

اس روایت پر ایک اور اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ علامہ میثم بحرانی نے یہ روایت ابنِ ابی الحدید شارح نہج البلاغۃ سے نقل کی ہے اور اس نے ابوبکر احمد بن عبد العزیز جوہری مصری کی کتاب سقیفہ و فدک سے نقل کی ہے اور یہ دونوں شیعہ نہیں ہیں۔

اس اعتراض کا مطلب یہ ہے کہ بات تو شیعہ عالم نے کی ہے مگر اس کا ماخذ غیر شیعہ عالم ہے اس لیے غیر معتبر ہے یہ محض بہانہ ہے اور حقائق اس کی تائید نہیں کرتے۔ وہ یوں کہ ابن ابی الحدید کے اعتزال سے تو کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا اور حدیدی میں جو عقائد اس نے بیان کئے ہیں وہ اس کے شیعہ ہونے پر شاہد ہیں پھر اس کے قصیدوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ صرف شیعہ نہیں غالی شیعہ ہے پھر یہ کہ علمائے ایران، عراق اسے شیعہ لکھتے ہیں اتنا ضرور ہے کہ اس نے متکلمین شیعہ کی چند ایک روایات پر کلام کی ہے مگر اس کے ساتھ ہی متکلمین شیعہ کے بہت سے عقائد کی تائید بھی ہے۔

اعتراض کا دوسرا حصہ کہ علامہ بحرانی نے یہ روایت ابن ابی الحدید سے نقل کی ہے۔ غلط ہے کیونکہ بحرانی کی روایت اور ابن ابی الحدید کی روایت کے الفاظ میں اتنا تفادت ہے کہ اس کو نقل کرنا نہیں کہہ سکتے۔

تیسرا حصہ کہ کتاب سقیفہ و فدک سے نقل کی ہے یہ بھی محض دعویٰ ہے کیونکہ 

(1)۔ اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ اس نام کی کسی کتاب کا وجود پایا گیا ہے۔

(2)۔ اس امر کا کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ اس نام کی کوئی تصنیف ابوبکر احمد بن عبد العزیز نے کی۔

(3)۔ ابوبکر احمد بن عبد العزیز نام کا اگر کوئی آدمی ہے تو وہ غیر معروف ہے کسی سنی عالم نے اس سے کچھ اخذ نہیں کیا نہ کسی کتاب میں اس کا ذکر کیا ہے اسمائے رجال کی کسی کتاب میں اس کا مستقل ترجمہ نہیں ملتا ہاں شیعہ علماء نے اس کا ذکر کیا ہے خصوصاً ابو الفرج اصفهانی شیعہ نے اس سے روایتیں لی ہیں جس سے اس شخص کا شیعہ ہونا صاف ظاہر ہے۔

(4)۔ شیخ طوسی نے امامیہ رجال کی فہرست میں ابوبکر احمد بن عبد العزیز کا ذکر کیا ہے اور شیعہ عالم محمد بن علی اردبیلی نے اپنی کتاب جامع الرواۃ ۱: ۵۲ پر اس کا ترجمہ مستقل عنوان سے لکھا ہے اور اس کا کوفی ہونا بیان کیا ہے کہ احمد بن عبد العزيز الجوهرى له كتاب السقيفه الكوفي .

لہٰذا معلوم ہوا کہ یہ روایت ہر دور میں شیعہ علماء سے ہی نقل ہو کر آئی ہے نتیجہ ظاہر ہے کہ احمد بن عبدالعزیز بھی شیعہ تھا ابنِ ابی الحدید اور میثم بحرانی بھی شیعہ تھے۔ مذکورہ بالا روایات اور تاریخی حقائق نے ثابت کردیا کہ سیدہ فاطمہؓ مطمئن ہو گئیں اور سیدنا ابوبکرؓ سے راضی ہوگئیں اگر خالص عقلی پیمانے سے ناپا جائے تب بھی سیدہ فاطمہؓ کا راضی نہ ہونا محال نظر آتا ہے۔

(1)۔  ناسخ التواریخ جلد 4 صفحہ 239 از کتاب دوم۔ دنیا کی حقیقت یہ بیان ہوئی ہے۔

صفحہ 13 از 20