تحقیق باغ فدک (مولانا اللہ یار خان) - ردِ رافضیت | دفاع…

تحقیق باغ فدک (مولانا اللہ یار خان)

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 14 از 20

قال رسول اللّٰهﷺ جعلت فداها ابوها ثلاث مرات ليست الدنيا من محمدﷺ ولا من ٰال محمدﷺ ولو كانت الدنيا تعدل عند اللّٰه من الخير خام بعوضة ما استقى فيها كافر شربة ماء۔

اگر آل محمدﷺ میں دنیا کی محبت اس درجے کی ہو کہ حضورﷺ کی حدیث سننے کے باوجود چند کھجوروں کی خاطر جانشین رسولﷺ سے ناراض ہو جائیں اور پھر عمر بھر راضی ہونے کو نہ آئیں تو مندرجہ بالا حدیث رسولﷺ بےمعنی ہوکر رہ جائے گی کیا آل محمدﷺ میں سے صرف سیدہ فاطمہؓ ہی کو آپ اتنا بڑا دنیا دار ثابت کرنا چاہتے ہیں تو یہ آل محمدﷺ کی عزت نہیں بلکہ توہین ہیں ہے۔

شیعہ کتب میں سے سب سے پہلی کتاب سلیم بن قیس بلالی کی ہے۔ اس کے صفحہ 224 تا 225 پر اس کی تفصیل موجود ہے آخر میں ہے۔

فد خلا وسلما قالا ارض ما رضي اللّٰه عنك۔

یعنی سیدنا ابوبکرؓ سیدنا عمرؓ کا بیمار پرسی کیلئے جانا اور ان کو راضی کرنے کے لیے یہ الفاظ کہنا پھر بھی سیدہ فاطمہؓ کا راضی نہ ہونا حب دنیا اور فنافی الدنیا کی دلیل بنتی ہے پھر ناسخ التواریخ کی بیان کردہ حدیث کا کیا مطلب ہوا۔

(2) اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص بندوں کا وصف بیان کیا ہے

 وَالۡكٰظِمِيۡنَ الۡغَيۡظَ وَالۡعَافِيۡنَ عَنِ النَّاسِ‌ؕاور وَاِذَا مَا غَضِبُوۡا هُمۡ يَغۡفِرُوۡنَ‌ۚ‏ -اور فَمَنۡ عَفَا وَاَصۡلَحَ فَاَجۡرُهٗ عَلَى اللّٰهِ‌ ۔اور وَلَمَنۡ صَبَرَ وَغَفَرَ فاِنَّ ذٰلِكَ لمِنۡ عَزۡمِ الۡاُمُوۡرِ

جبغصہ پی بجانا معاف کردینا عام مسلمانوں میں سے اللّٰہ کے خاص بندوں کا وصف ہے تو کیا آل محمدﷺ میں سے سیدہ فاطمہؓ کی ذات ہی ایسی ہے جو اس وصف سے خالی ہے ایسا تصور کرنا یا عقیدہ رکھنا سیدہ فاطمہؓ کی توہین کے علاؤہ اور کچھ نہیں ہوسکتا۔ 

فتح الباری جلد 6 صفحہ 122 اس کی توجیہ بیان کی گئی ہے۔

واما سبب غضبها مع اجتماع ابی بكرؓ بالحديث المذكور فلا عتقادها تاويل الحدث على خلاف ما تسك به ابو بكرؓ وكانها لا نورث وى أمت ان منافع اعتقدت تخصيص العموم في قوله عليه السلام من ارض و عقاد لا یمتنع ان یورث عنه وتمسك ابوبكرؓ بالعموم واختلفا في امر محتمل للتاويل فلما ضمم على ذلك انقطعت عن الاجتماع به لذلك۔

حدیث سے اتفاق کرنے کے باوجود سیدہ فاطمہؓ کے غصے کی وجہ تاویل حدیث میں سے اختلاف تھا سیدہ فاطمہؓ عموم سے تخصیص کا عقیدہ رکھتی تھیں لانورث سے سیدہ فاطمہؓ یہ سمجھی تھیں کہ زمین کی آمدنی اور مکان کے منافع میں میراث جاری ہونے سے حدیث مانع نہیں ہے اور سیدنا ابوبکرؓ کا تمسک عموم الفاظ حدیث سے تھا دونوں کا اختلاف ایک امر احتمالی میں ہوا جب سیدنا ابوبکرؓ نے حدیث کے عمومی استدلال پر زور دیا تو سیدہ فاطمہؓ نے بحث ترک کر دی۔

سیدہ فاطمہؓ اور سیدنا ابوبکرؓ دونوں مجتہد تھے اس لیے حدیث کے تمسک میں اختلاف ہوا اس استدلال میں جب سیدہ فاطمہؓ نے نے استدلال کا پہلو ترک کر دیا تو راوی کو ظن ہوا کہ انہوں نے کلام کرنا ہی چھوڑ دیا۔

سیدہ فاطمہؓ نے حدیث سے یہ سمجھا کہ اس میں درہم و دینار کی نفی ہے زمین کی نفی نہیں گویا انہوں نے تخصیص سمجھی اور سیدنا صدیق اکبرؓ نے عموم میرات کی نفی سمجھی اور یہی بات صحیح تھی اور اس پر صحابہؓ کا اجماع ہو گیا۔

حدیث کے تمام طرق پر نگاہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ غضبت فاطمةؓ فهجرت ولم تکلم سب ظن راوی ہے۔

صحاح میں چودہ مقامات پر حدیث فدک مذکور ہے صرف سیدہ عائشہؓ ابو ہریرہؓ اور ابو الطفیل سے ناراضگی کا قول مذکور ہے اور یہ الفاظ سیدہ عائشہؓ کے نہیں بلکہ راوی کے ہیں پوری روایت یوں ہے۔

عن عائشةؓ ان فاطمةؓ والعباس عليهم السلام انا ابابكرؓ يلتمان میراثها من رسول اللّٰهﷺ قال فقال لهما ابوبكرؓ سمعت، رسول اللہﷺ يقول لا نورث ما تركناه صدقة انما ياكل آل محمدﷺ من هذا المال قال ابو بكرؓ واللّٰه لا أدع امرا رأیت رسول اللّٰهﷺ يصنع فيه الاصنعة قال فهجرته فاطمهؓ فلم تكلمہ حتىٰ ماتت.

سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ سیدہ فاطمہؓ اور سیدنا عباسؓ دونوں سیدنا ابوبکرؓ کے پاس حضورﷺ کی میراث کا مطالبہ لے کر آئے سیدنا ابوبکرؓ نے فرمایا میں نے حضورﷺ سے سنا آپﷺ نے فرمایا کہ نبی میراث نہیں چھوڑتے جو رہ جائے وہ صدقہ ہوتا ہے آل محمدﷺ اس مال سے کھائے گی سیدنا ابوبکرؓ نے فرمایا بخدا میں اس کام کو نہیں چھوڑوں گا جو حضورﷺ کیا کرتے تھے راوی کہتا ہے کہ سیدہ فاطمہؓ چلی گئیں اور مرتے دم تک ان سے بات نہ کی۔

حدیث کے آخر میں لفظ قال پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قول سیدہ عائشہؓ کا نہیں ورنہ قالت ہوتا پھر اسی قال سے ظاہر ہوتا ہے کہ مکالہ تو الاصنعتہ پر ختم ہو گیا آگے قال سے مراد قال الراوی ہے یعنی قال کے بعد کا حصہ راوی کا اپنا خیال یا رائے ہے اس میں بھی فلم تکلمہ کی بھی تصریح نہیں اس کی تصریح فیض الباری کے علاؤہ تاریخ ابنِ جریر طبری  جلد 2 صفحہ 448 پر کی گئی ہے۔

واما عدم کلام فاطمةؓ اياہ حتیٰ ماتت والمراد منه كلامها في امر فدك۔

عدم کلام سے مراد فدک کے بارے میں کوئ بات نہیں کی۔

شارحین بخاری نے تصریح فرما دی ہے کہ فلم تکلمہ سے مراد مطلق کلام نہیں کہ فلم تکلمہ فی تلك المال ہے نفی صرف خاص اور مقید کی ہے اور نفی خاص مقید کی عام مطلق کو مستلزم نہیں یہ ساری بحث راوی کے مقولے پر ہے جو حدیث کا حصہ نہیں مزید چھان بین کرنے سے معلوم ہوا ہے کہ یہ الفاظ کسی شیعہ راوی کے ہیں جو بھیس بدل کر واقعہ کی صورت بگاڑ گیا ہے چنانچہ الآلى المصنوعہ فی احادیث الموضوع جلد 2 صفحہ 473 ملاحظہ ہو۔

عن ابي الحينا قال انا والجاحظ وضعنا حديثا واد جلناہ على المشائخ او على الشيوخ ببغداد فقبلوه الا ابنِ ابى شيبه العلوی فانه قال لا یشبه اٰخر هذا الحدیث اوله وابی يقبله وكان ابو العينا يحدث بهذا بعد ماتاب۔

ابوالعیناء کہتا ہے میں نے اور جاحظ نے ایک حدیث وضع کی اور مشائخ بغداد کے پیش کی تمام نے قبول کر لی صرف ابنِ ابی شیبہ علوی نے اسے قبول نہ کیا اور کہا اس حدیث کی ابتداء اس کے آخری حصہ سے نہیں ملتی۔ ابوالعینا نے اس حرکت سے تائب ہونے کے بعد یہ واقعہ بیان کیا۔

صفحہ 14 از 20