تحقیق باغ فدک (مولانا اللہ یار خان) - ردِ رافضیت | دفاع…

تحقیق باغ فدک (مولانا اللہ یار خان)

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 15 از 20

اور علامہ ابنِ اثیر جزری نے صدر کتاب جامع الاصول فرع ثالث طبقات المجروحين میں بعینہ ان الفاظ میں یہ بات بیان کی ہے صرف یہ الفاظ زائد ہیں وضعت انا والجاحظ حديث فدك۔

حضرات شیعہ نے بھی دبی زبان سے اس حصہ حدیث کو وضعی تسلیم کیا ہے۔ شافی از شریف مرتضی علم الہدی صفحہ 413 طبع ایران

اخبرنا جماعة عن ابی عبد اللّٰه بن احمد بن ابى طاهر عن أبيه قال ذكرت لابی الحسین زید بن علی بن الحسین بن علی ابن ابی طالبؓ کلام فاطمة عليها السلام عند منه ابي بکرؓ اياها فدك و قلت ان هؤلاء يزعمون موضوع لانه من كلام إلى العينا لان الكلام منسوق البلاغة

ایک جماعت نے ابی عبد اللہ بن احمد بن ابی ظاہر سے خبر دی وہ اپنے باپ سے بیان کرتا ہے کہ میں نے ابی الحسین زید بن علی سے سیدہ فاطمہؓ کی بات کا ذکر کیا جب سیدنا ابوبکرؓ نے انہیں فلک نہیں دیا تھا میں نے کہا لوگ کہتے ہیں کہ یہ بات بناوٹی ہے کیونکہ یہ حدیث فدک ابو العینا کا کلام ہے اور یہ کلام بلیغ ہے ابو العینا خود بڑا بلیغ تھا۔

علم الہدی کی اس روایت اور صراحت سے معلوم ہوگیا کہ یہ کلام ابو العیناء کی ہے گویا سیدہ فاطمہؓ کے ناراض ہونے اور ترک کلام کا سارا قصہ ہی وضعی اور من گھڑت ہے غضبت فاطمہؓ کے وضعی اور من گھڑت قعد میں مزید رنگ بھرنے کیلئے ایک اور بات کی جاتی ہے کہ حضور اکرمﷺ نے فرمایا کہ من أغضبها فقد اغضبني۔

اس سلسلے میں پہلی بات تو یہ ہے کہ ورود حدیث سیدنا علیؓ کے حق میں ہے دوسری بات یہ ہے کہ یہ دنیوی امور میں ہے اللّٰہ کی بات یا اللّٰہ کے رسولﷺ کی بات سننے سے کوئی ناراض ہوتا ہے تو وہ اس ضمن میں آسکتا ہی نہیں کیونکہ ایسے موقع پر ناراض ہونا بات سنانے والے پر ناراض ہونا نہیں بلکہ اللّٰہ اور اس کے رسولﷺ سے ناراض ہوتا ہے بھلا کوئی مسلمان یہ جرأت کر سکتا ہے اور کسی مسلمان کے متعلق کوئی کہہ سکتا ہے کہ وہ اللّٰہ اس کے رسولﷺ سے ناراض ہے چنانچہ فتح الباری میں وضاحت کی گئی ہے۔

من اغضبها بطمع نفسه اى من جحة هوى النفس لا من جهة الشرع و اسمعها ابوبكرؓ حديث الرسول لا من جهة نفسه.

حضورﷺ کی مراد یہ ہے کہ جس نے اپنی ہوائے نفس کے تحت سیدہ فاطمہؓ کو ناراض کیا یا بوجه شرعیت کے اور سیدنا ابوبکرؓ نے تو حدیث رسولﷺ ہی سنائی تھی اپنی طرف سے کچھ نہیں کہا تھا۔

 واقعات شاہد ہیں کہ سیدنا ابوبکرؓ کو کوئی ذاتی تمع نہیں تھا انہوں نے معاملے کی شرعی حیثیت بتائی وہ بھی اپنی طرف سے نہیں بلکہ حدیث رسولﷺ سنا کہ البتہ یہ ضرور کہا کہ ہیں رسول کریمﷺ کی مخالفت کرنے کی جرأت اپنے اندر نہیں پاتا اس کے باوجود اگر سیدہ فاطمہؓ کا ناراض ہونا تسلیم کیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ معاذ اللّٰه رسول کریمﷺ سے ناراض ہوئیں کہ انہوں نے ایسا کیوں فرمایا سیدنا ابوبکرؓ سے اس لیے ناراض ہوئیں کہ انہوں نے اللّٰہ کے رسولﷺ کی مخالفت کرنے کا ارادہ کیوں نہ کیا اور یہ دونوں صورتی ایسی ہیں کہ سیدہ فاطمہؓ کی ذات سے ان کا منسوب کرنا ان کی توہین اور اپنے ایمان سے دست برداری کا اعلان ہے۔ 

اس سلسلے میں سیدنا ابوبکرؓ کو متہم کرتے وقت بھی یہ دیکھ لینا چاہیے کہ سیدنا علیؓ نے اپنے دور  اقتدار میں کیا فرمایا اور کیا رویہ اختیار کیا۔ شافی شریف مرتضیٰ صفحہ 231۔

فلھا وصل الامر الى على بن ابی طالبؓ كلم فی امر فدك فقال أنى لاستحیى من اللّٰه ان ارد شياً منه عنه ابوبكرؓ و اقضاه عمر۔

جب سیدنا علیؓ خلیفہ ہوئے تو فدک کے بارے میں بات کی گئی فرمایا مجھے اللّٰه تعالیٰ سے حیا آتی ہے کہ میں اس حکم کو رد کروں جس کا فیصلہ ابوبکرؓ نے کیا اور عمرؓ برقرار رکھا۔

اس بیان سے ظاہر ہے کہ سیدنا علیؓ نے سیدنا ابوبکرؓ کے فیصلہ اور سیدنا عمرؓ کے اس پر قائم رہنے کو اللہ اور رسول کے حکم کے عین مطابق سمجھا اور نہ خدا سے حیا محسوس کرنے کا کیا مطلب اور سیدنا علیؓ کے متعلق وضاحت ہوچکی ہے کہ آپ نے فدک کے بارے میں اپنے دور اقتدار میں وہی طریقہ اختیار کیا جسے وہ حکم خدا کے مطابق سمجھتے تھے جو طریقہ سیدنا ابوبکرؓ نے اتباع نبوی کے تحت اختیار کیا تھا۔ اگر یہ جرم ہے تو کہنا پڑے گا۔ 

این گناہیست کہ در شہر شما نیز کنند۔

مطالبہ میراث کے سلسلے میں سیدنا علیؓ کا کردار

اس واقعہ کا خلاصہ ملا باقر مجلسی نے اپنی کتاب "بحار الانوار" صفحہ 101 کتاب الفتن میں الاختصاص سے نقل کیا ہے۔  

عن عبد اللہ بن سنان عن ابی عبداللہ علیہ السلام لما قبض رسول اللہﷺ وجلس ابوبکرؓ مجلسہ بعث الی وکیل فاطمۃؓ فاخرجہ من فدک فاتتہ فاطمۃؓ الی ان قال ابوبکرؓ ان النبی لایورث فرجعت الی علیّؓ فاخبرتہ فقال ارجعی الیہ وقولی زعمت ان النبی لایورث و ورث سلیمان داٶد و ورث یحیٰی زکریا وکیف لا ارث انا ابی فقال عمرؓ انت معلمة قالت وان کنت معلمة فعلمنی ابن عمی علیؓ الی ان قالت ان فدک انما ھی صدق بھا علی رسول اللہﷺ ولی بذلک بنیة فجاءت ام ایمنؓ و علیؓ ثم خرجت وحملھا علی اتان علیہ کساء قد اربھا اربعین صباحا فی بیوت المھاجرین والانصار والحسنؓ والحسینؓ معھا فانتھت الی معاذ بن جبلؓ فقالت یا معاذؓ انی قد جٸتک مستنصرة قال وما یبلغ نصرتی وانا وحدی الی ان قال فانصرفت فقال علیؓ لھا ائیتی ابابکرؓ وحدہ فانہ ارق من الاخر وکلمتہ وقال صدقت قال فدعا بکتب فکتبہ لھا برد فدک فاطمۃؓ فخرجت والکتاب معھا فلقیھا عمرؓ فقال یا بنت محمدﷺ ما ھذا الکتاب الذی معک قالت کتاب کتب ابوبکرؓ یرد فدک فقال ھلمیہ الی فابت ان فدفعہ الیہ فضربھا برجلہ وکانت حاملہ بابن اسمہ المحسن فاسقطت المحسن من بطنھا ثم لطمھا فکانی انظر الی قرط کان فی ادنھا حین نقضھا ثم اخذ الکتاب فخرقہ فمضت ومکثت خمسۃ و سبعین یوما مریضة مماضربھا ثم قبضت انَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ۔ انَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ

صفحہ 15 از 20