تحقیق باغ فدک (مولانا اللہ یار خان) - ردِ رافضیت | دفاع…

تحقیق باغ فدک (مولانا اللہ یار خان)

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 16 از 20

عبد اللہ بن سنان سیدنا جعفر صادق سے بیان کرتا ہے کہ جب رسولِ کریمﷺ دنیا سے رخصت ہوۓ اور سیدنا ابوبکرؓ ان کے جانشین ہوۓ تو انہوں نے سیدہ فاطمہؓ کے وکیل کو فدک سے نکال دیا تو وہ سیدنا ابوبکرؓ کے پاس فدک کے مطالبہ کے لیے آئیں سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے خلافتِ رسولﷺ سنائی کہ انبیاء کسی کو وارث نہیں بناتے وہ سیدنا علیؓ کے پاس لوٹ گئیں انہیں بتایا کہا پھر جاؤ اور کہو کہ آپ کا خیال ہے نبی میراث نہیں چھوڑتے حضرت سلیمانؑ اپنے والد داؤدؑ کے وارث ہوۓ حضرت یحییٰؑ اپنے والد زکریاؑ کے وارث ہوۓ میں اپنے باپ کی وارث کیوں نہیں ہوسکتی سیدنا عمرؓ نے کہا تمہیں پڑھایا گیا ہے سیدہ فاطمہؓ نے کہا اگر ایسی بات ہے تو مجھے میرے ابنِ عم سیدنا علیؓ نے پڑھایا ہے فدک تو رسولِ کریمﷺ نے مجھے دے دیا تھا میرے پاس اس کا ثبوت ہے پھر سیدہ اُم ایمنؓ اور سیدنا علیؓ آۓ پھر آپؓ چلی گئیں پھر سیدنا علیؓ نے سیدہ فاطمہؓ کو گدھے پر سوار کیا جس پر ذرا سا کپڑا تھا اور چالیس روز تک مہاجرین و انصار کے دروازوں پر پھرایا سیدنا حسنینؓ ساتھ تھے سیدہ فاطمہؓ سیدنا معاذ بن جبلؓ کے ہاں پہنچیں امداد طلب کی کہا میں اکیلا مدد نہیں کرسکتا آپؓ لوٹیں تو سیدنا علیؓ نے کہا کہ سیدنا ابوبکرؓ کے پاس تنہائی میں جاؤ وہ دوسرے (سیدنا عمرؓ) کی نسبت زیادہ رقیق القلب ہے وہ گئیں بات کی سیدنا ابوبکرؓ نے ان کے حق میں لکھ دیا تحریر لے کر واپس آئیں تو راستے میں سیدنا عمرؓ سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے پوچھا اے دخترِ رسولﷺ سیدہ فاطمہؓ آپ کے پاس یہ کیا تحریر ہے کہا سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے مجھے فدک کی جاگیر لوٹا دی ہے کہا ادھر لاؤ مجھے دو سیدہ فاطمہؓ نے دینے سے انکار کر دیا سیدنا عمرؓ نے انہیں ٹھوکر ماری وہ حاملہ تھیں اسقاطِ حمل ہوگیا پھر انہیں تھپڑ مارے پھر وہ وثیقہ لے لیا پھاڑ ڈالا اور چل دیئے اس واقعہ کے بعد 75 روز تک سیدہ فاطمہؓ زندہ رہیں اسی مرض میں وفات پاگئیں إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ۔  

واقعہ کی اس تفصیل سے چند اُمور کی وضاحت ہوتی ہے

(1) جب سیدہ فاطمہؓ کو معلوم ہوا کہ ان کے وکیل کو فدک سے نکال دیا گیا ہے تو وہ مطالبہ لے کر سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے پاس اکیلی گئیں۔ 

(2) جب ناکام واپس آئیں تو سیدنا علیؓ نے ان کو دلائل بتاکر دوبارہ اکیلے بھیجا خود ساتھ نہیں گئے۔  

(3)  پھر سیدنا علیؓ گواہ کی حیثیت سے گئے مگر یہ ظاہر نہیں کہ انہوں نے شہادت کیا دی۔  

(4) سیدنا علیؓ نے سیدنا فاطمہؓ کو گدھے پر سوار کرکے نہایت ذلت آمیز صورت میں 40 دن تک مہاجرین اور انصار کے دروازوں پر پھرایا سیدنا حسنینؓ بھی ساتھ تھے۔

(5)  اس ذلت و رسوائی سے پھرانے کا مقصد یہ نظر آتا ہے کہ مہاجرین و انصار کے سامنے اپنی مظلومیت کا اظہار کر کے ان سے امداد طلب کی جاۓ۔ 

(6)  اس دوران انہوں نے سیدنا معاذ بن جبلؓ سے امداد طلب کی کہ فدک لے دیں۔  

(7)  واپسی پر پھر سیدنا علیؓ نے مشورہ دیا کہ صرف سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے پاس جاؤ خود ساتھ  نہیں گئے۔ 

(8) سیدہ فاطمہؓ اس مرتبہ گئیں تو سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے وثیقہ لکھ دیا۔ 

(9) سیدنا عمرؓ سے سر راہ ملاقات ہوئی تو انہوں نے وثیقہ چھین کر پھاڑ دیا۔

(10) اسی پر بس نہیں بلکہ سیدنا عمرؓ نے سیدہ فاطمہؓ کا  گریبان پکڑ کر کھینچا تھپڑ مارا پھر لات ماری جس سے اسقاطِ حمل ہوگیا۔ 

(11) واپسی پر سیدنا علیؓ کو سب ماجرا سنایا مگر ان پر کچھ اثر نہ ہوا ۔ 

ان اُمور سے یہ نتائج اخذ ہوتے ہیں:

(1) سیدنا علیؓ کو سیدہ فاطمہؓ کی عزت کا ذرا بھر خیال نہیں تھا۔ 

(2)  ان کی ذلت سے سیدنا علیؓ کا دل پسیجنے کا کوئی نشان نہیں ملتا جس سے ظاہر ہے کہ وہ خوش ہوتے تھے۔ 

(3)  سیدنا علیؓ کو سیدہ فاطمہؓ کا اتنا بھی خیال نہیں تھا جتنا ایک عام شوہر کو ہوتا ہے اس لیے بار بار انہیں اکیلے ہی بھیجا خود ساتھ نہ گئے۔ 

(4)  چونکہ انہیں "ماکان وما یکون" کا علم تھا اس لیے وہ جانتے تھے کہ اب کی بار سیدنا عمرؓ کے ہاتھوں انہیں یہ ذلت اُٹھانا پڑے گی پھر بھی انہیں خود اکیلے بھیجا صاف ظاہر ہے کہ انہیں اپنی بیوی کی ذلت و رسوئی سے خوشی ہوتی تھی اگر ایسانہیں تو "ما کان وما یکون" والی بات بناوٹی ہے ان میں سے ایک صورت لازماً تسلیم کرنی پڑے گی۔ 

(5) مہاجرین و انصار کی امداد کی کیفیت تو ایک دو دن میں بھی معلوم ہوسکتی تھی اس لیے یہ چلہ پورا کرنے میں انہیں ذلیل و رسوا کرنے کے علاوہ کوئی مقصد نظر نہیں آتا۔ 

(6) شیر خدا ہونے کے باوجود اپنی بیوی سے ایک غیر آدمی کا یہ سلوک دیکھ کر ٹس سے مس نہ ہونا عجیب سی بات ہے کہ ایک عام آدمی کی بیوی سے بھی اگر یہ سلوک کیا جائے تو اس کی غیرت و حمیت جوش میں آجاتی ہے کیا شیر خدا میں اتنی غیرت اور حمیت بھی نہ تھی۔

(7)  سیدنا علیؓ کی سیدہ فاطمہؓ سے اتنی بیزاری ایسی بے رُخی اوراس قدر بیگانگی 

 دوسری طرف یہ نقشہ کہ بیوی جو خاتم الانبیاءﷺ کی لختِ جگر ہے کی توہین و تذلیل ہوتی ہے بلکہ خود کی جاتی ہے اسے مارا پیٹا جاتا ہے حتیٰ کہ اسقاطِ حمل ہو جاتا ہے مگر نہ خونِ حیدری جوش میں آتا ہے نہ ذوالفقار حیدری نیام سے باہر آتی ہے غیرت و حمیت کی ایسی مثال دنیا میں شاید ہی کہیں ملے۔ 

پھر خاتونِ جنت سے وہ الفاظ منسوب کیے جاتے ہیں کہ اپنے خاوند کو ان الفاظ سے مخاطب کرنا ایک جاہل گنوار اور پھوہڑ بیوی کے متعلق بھی تصور میں نہیں آسکتے۔

ان قابلِ احترام ہستیوں کی سیرت و کردار کا وہ بیان جو حقائق پر مبنی ہے اگر سامنے رکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ روایات میں بیان کردہ تصویر کے دونوں رُخ یار لوگوں نے محض زیب داستاں کے لیے وضع کیے ہیں محبت اہلِ بیت کے دعویٰ کے ساتھ اہلِ بیت سے دشمنی کا حق ادا کر دیا۔

صفحہ 16 از 20