تحقیق باغ فدک (مولانا اللہ یار خان) - ردِ رافضیت | دفاع…

تحقیق باغ فدک (مولانا اللہ یار خان)

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 17 از 20

یہاں ایک اور عقدہ بھی کھل رہا ہے شیعہ حضرات نے یہ اتہام باندھا ہے کہ سیدہ فاطمہؓ سیدنا ابوبکر صدیقؓ سے ناراض ہو گئیں اور راوی کے اس قول "غضبت فاطمةؓ " کو اس اتہام کی بنیاد بنایا ہے ساتھ ہی یہ حقیقت ہے کہ سیدہ فاطمہؓ کا اپنا قول کہ میں سیدنا ابوبکر صدیقؓ سے ناراض ہوں آج تک کوئی شیعہ پیش نہیں کرسکا صرف ایک راوی کے اپنے قول اور اپنی راۓ پر لوگوں نے یہ طوفان اُٹھایا ہے اب ذرا ان الفاظ پر غور کیجیۓ جو سیدہ فاطمہؓ نے سیدنا علیؓ کو مخاطب کرتے ہوۓ فرمایا ان الفاظ سے پیار جھلک رہا ہے یا غصہ اور ناراضگی پھر یہ الفاظ کسی راوی کے نہیں سیدہ فاطمہؓ کے اپنے الفاظ ہیں سیدنا ابوبکر صدیقؓ تو سیدہ فاطمہؓ کی فرضی ناراضگی کی وجہ سے متہم ٹھہرے سیدہ فاطمہؓ کی حقیقی ناراضگی کے اظہار سے سیدنا علیؓ کی سیرت کو کیسے بچاؤ گے۔

اس اندازِ گفتگو کو سیدہ فاطمہؓ کی طرف منسوب کرنا ان کی سیرت پر بہت بڑا حملہ ہے اس لیے اس داغ کو دھونے کی خاطر ایک تاویل کی گئی ہے۔

بحار الانوار صفحہ 123 کتاب الفتن اور حق الیقین۔

فاقول یمکن ان یجاب عنہا ھذہ الکلمات صدرت منھا لبعض المصالح ولم تکن وانھا منکرة لما فعلہ بل کانت راضیة وانما کان غوضھا ان یتبین للناس قبح اعمالھم وشناعة افعالھم وان سکوتہ لیس لرضاہ بما اتوابہ۔ 

میں کہتا ہوں ممکن ہے ان کی طرف سے یہ جواب دیا جاۓ کہ یہ کلمات کسی مصلحت کے تحت ان کی زبان سے نکلے حقیقت میں سیدہ فاطمہؓ کو سیدنا علیؓ کا رویہ نا پسند نہیں تھا بلکہ خوش تھیں ان کی غرض یہ تھی کہ لوگوں کے سامنے سیدنا ابوبکر صدیقؓ اور سیدنا عمرؓ کے افعالِ قبیح کا اظہار کریں اور سیدنا علیؓ کا خاموش رہنا در حقیقت سیدنا فاطمہؓ کے رویہ پر رضامندی کے طور پر تھا۔ 

حق الیقین کی عبارت یہ ہے۔ 

مٶلف گوید کہ دریں مقام تحقیق بعض از امور ضرور است مادر جواب گوئیم کہ ایں معاوضہ محمول بر مصلحت است از براۓ آنکہ مردم بدانند کہ حضرت امیر ترک خلافت برضاۓ خود نکروہ و بغصب فدک راضی نبودہ۔

اس سے اونچی بات صاحب ناسخ التواریخ نے بتا دی کہ۔

مکشوف باد کہ اسرار اہلِ بیت مستور است از مدرکات امثال مامردم۔

خوب سمجھ لیجیۓ کہ اہلِ بیت کے اسرار ہم جیسے لوگوں کی سمجھ سے باہر ہیں۔

پہلی تاویل ایک ایسا معمہ ہے کہ اسے کھولنے بیٹھو تو اور پیچ پڑتے چلے جائیں گے مثلاً 

(1)  سیدنا علیؓ "ما کان و ما یکون" تھے دوسری مرتبہ سیدہ فاطمہؓ کو بھیجتے ہوۓ علم تھا کہ ان کی توہین و تذلیل ہوگی لہٰذا مصلحت یہی ہے کہ خود نہ جاؤ اپنی عزت بچاؤ دخترِ رسولﷺ کی بے عزتی ہوتی ہے تو ہونے دو۔

(2) اسی طرح ان کو علم تھا کہ مہاجرین وانصار کوئی مدد نہیں کریں گے پھر بیوی کو مسلسل 40 روز تک در بدر پھراتے رہنے میں کیا مصلحت تھی؟ 

(3) مہاجرین و انصار کے اعمال قبیحہ کا اظہار مقصود تھا تو گھر کی چار دیواری میں یہ الفاظ کہنے سے اظہار کیسے ہوا کس کے سامنے ہوا اگر صرف سیدنا علیؓ کے سامنے اظہار مقصود تھا تو اس کا مطلب یہ تھا کہ خود سیدنا علیؓ حسن و قبح میں تمیز کرنے کی صلاحیت  نہیں رکھتے تھے سیدہ فاطمہؓ نے یہ کمی پوری کی اور اگر اظہار ہی مقصود تھا تو وہ غرض بھی پوری نہ ہوئی کیونکہ یہ بات توگھر میں کی گئی تھی سیدہ فاطمہؓ نے سرِبازار تھوڑا ہی کہا تھا۔

(4) یہ کیسے معلوم ہوا کہ سیدہ فاطمہؓ اس معاملے میں سیدنا علیؓ کے رویہ سے راضی تھیں؟ کس کو بتایا؟ کب بتایا؟ یہ راز کی بات اگر کسی کو بتائی نہیں تو صاحب ناسخ التواریخ نے یہ اجتہاد کس بنا پر کر لیا کہ دراصل وہ راضی تھیں یہ طعنے اور گالیاں محض بناوٹ تھی۔ بہرحال بڑی تلاش کے باوجود سیدہ فاطمہؓ کے اس اندازِ گفتگو میں کوٸی مصلحت نظر نہیں آتی البتہ ایک پہلو قابلِ غور ہے اگر اس اندازِ گفتگو سے یہ نہ سمجھا جاۓ کہ سیدہ فاطمہؓ سیدنا علیؓ سے ناراض تھیں بلکہ یہ تاویل کی جاۓ کہ یہ محض دکھاوا تھا اصل میں دل سے راضی تھیں تو "غضبت فاطمةؓ" کی یہ تاویل کیوں نہیں کی گئی کہ سیدہ فاطمہؓ کا سیدنا ابوبکر صدیقؓ سے یہ رویہ محض ظاہری بات تھی اصل میں وہ دل سے راضی تھیں پھر ان دونوں حالتوں میں بہت بڑا فرق ہے "غضبت فاطمہؓ" راوی کا قیاس ہے اور سیدنا علیؓ کے حق میں نا موزوں الفاظ اور ناراضگی کا اظہار خود سیدہ فاطمہؓ کی زبانی ہو رہا ہے راوی نے اپنی راۓ کا اظہار کیا تو آپ نے فوراً مان لیا اور سیدہ فاطمہؓ خود اپنی زبان سے پکار پکار کر کہہ رہی ہیں تو آپ مانتے نہیں یہ رویہ نظر ثانی کا محتاج ہے۔ 

میراث کے معاملہ کو طویل اور پہلو دار بنانے کی کوشش کی گئی ہے مگر اس میں ایک عجیب الجھن نظر آتی ہے اس کی تفصیل یہ ہے کہ شیعہ مذہب میں ایک اصول بیان ہوا ہے جس سے کسی کے کامل الایمان یا ناقص الایمان ہونے کی شناخت ہو سکتی ہے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ وہ علامت مٶمن اور فاسق میں ما بہ الامتیاز ہے۔ 

(فروع کافی صفحہ 225 جلد 3 احتجاج طبرسی صفحہ 186 اور انوار نعمانیہ صفحہ 270 جلد 1)۔ 

عن عمر بن حنظلۃؓ قال سالت ابا عبد اللہ علیہ السلام عن رجلین من اصحابنا بینھا منازعة فی دین او میراث فتحاکما الی السلطان او الیٰ القضاة ایحل لک قال من تحاکم الیھم فی حق او باطل فانما تحاکم الی الجبت و الطاغوت المنھی عنہ وما حکم لہ بہ فانما یاخذ سختا وان کان حقا ثابتا لہ لانہ اخذہ بحکم الطاغوت ومن امر اللہ ان یکفر بہ قال تعالیٰ یریدون ان یتحاکموا الیٰ الطاغوت وقد امروا ان یکفروا بہ۔

سیدنا عمر بن حنظلہؓ کہتا ہے میں نے سیدنا جعفر صادق سے پوچھا کہ دو شیعہ مردوں میں قرض یا میراث کے معاملہ میں جھگڑا ہوجاۓ وہ اپنا دعویٰ بادشاہ  یاقاضی کے پاس لے جائیں کیا یہ جائز ہے امام نے کہا جو شخص حاکم یا قاضی (غیر شیعہ) کے پاس فیصلہ کی غرض سے جاۓ خواہ وہ حق پر ہو یا باطل پر اس کا جانا ایسا ہے جیسے بت یا شیطان کے پاس جانا اس کی ممانعت ہے اور اگر اس فیصلہ کے مطابق وہ شیعہ کوٸی چیز لے گا تو وہ حرام لے گا خواہ وہ اس کا حق ہی کیوں نہ ہو کیونکہ اس نے شیطان کے حکم سے لیا اور خدا کا حکم ہے کہ ان کی نافرمانی کرو۔

صفحہ 17 از 20