تحقیق باغ فدک (مولانا اللہ یار خان) - ردِ رافضیت | دفاع…

تحقیق باغ فدک (مولانا اللہ یار خان)

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 18 از 20

یعنی قانون یہ ہے کہ غیر شیعہ حاکم کے پاس اپنا مقدمہ لے جانا ایساہے جیسا شیطان کے پاس لے جانا ایسا حاکم اگراس کے حق میں فیصلہ کر دے تو اس مال سے نفع اٹھانا حرام ہے اور ظاہر ہے کہ جب ایسے حاکم کے پاس مقدمہ لے جانا حرام ہے تو ایسے مال سے نفع اُٹھانا لازماً حرام ہوا اور حرام کا مرتکب فاسق ہے۔ 

اس اصول کے ماتحت دیکھنا یہ کہ اگر سیدنا ابوبکرؓ حاکم  برحق نہیں (بقول شیعہ) سیدہ فاطمہؓ کا ان کے سامنے اپنا مقدمہ لے جانا اور سیدنا علیؓ کے مشورہ سے لے جانا ان دونوں کو کس مقام پر لاکھڑا کرتا ہے اس قانون کے تحت ایک نے فعل حرام کا ارتکاب کیا ایک نے ایسے کرنے کا مشورہ دیا اور فعل حرام کا مرتکب فاسق ہوتا ہے۔ اب شیعہ اصول کے تحت ان دونوں حضرات کی حیثیت متعین کیجئے۔

اس اُلجھن سے نکلنے کی دو صورتیں ہیں اگر سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو خلیفہ برحق تسلیم کرو تو سیدہ فاطمہؓ اور سیدنا علیؓ کامل الایمان قرار پاتے ہیں اور سیدنا ابوبکرؓ کو خلیفہ برحق تسلیم نہیں کرتے تو ان دونوں حضراتؓ کو فسق کا نشانہ بننے سے بچا نہیں سکتے کیونکہ اصول خود تم ہی نے مقرر کیا ہے عجیب معاملہ ہے کہ ائمہ کی عصمت کے دعویٰ سے سفر کا آغاز کیا اور چند قدم ہی چلے تھے کہ ائمہ کو فسق و فجور کا مرتکب قرار دے دیا اللہ تعالیٰ کج بینی اور کج رائی سے محفوظ رکھے۔

دعویٰ ہبہ فدک 

شیعہ علماء کا کہنا ہے کہ حضور اکرمﷺ نے فدک کی زمین سیدہ فاطمہؓ کو ہبہ کر دی تھی۔

 اس دعویٰ کے ثبوت میں سید محمد قلی نے بھی پچیس کتابوں کا نام لکھا ہے کہ ان میں دعویٰ  ہبہ کاثبوت موجود ہے کتابوں کے نام یہ ہیں۔

روضة الصفات، حبيب السير معارج النبوة، مقصد اقصیٰ، براہین قاطعہ، صواعق محرقہ، صلاح الدین رومی به حاشیه شرح عقائد نسفی، جواہر العقدين، وفاء الوفا خلاصة الوغاً، شرح مواقف، فصل الخطاب، الكتاب الاكتفاء، رياض النظرة، التفسير كبير، نہاية العقول، محلی ابنِ حزم، معجم البلدان، کتاب المواقفه، الملل والنحل شہرستانی، مغنی عبد الجبار معتزلی، ابوبکر جوہری کوفی محبه مؤرخ عمر بن شیبہ، اپنی کتابوں کے نام گنوا دیے اور تشید المطاعن میں تحفہ کے جواب میں لکھی گئی ہے یہ بھی لکھ دیا ہے کہ کسی معتبر کتاب میں صحیح مرفوع الاسناد حدیث میں دعویٰ ہبہ ثابت نہیں۔

اور علامہ فضل نے ابطال الباطل میں لکھا ہے۔

واما دعوىٰ فاطمهؓ فلم یصح فی الصحاح ويذكرونها بنله الاخبار من ارباب التواريخ ومجرد نقلھم لایصیر سببا القدح فی الخلفاء۔

اور جہاں تک ہبہ فدک کا تعلق ہے صحیح سند کے ساتھ صحاحِ ستّہ میں موجود نہیں ہاں مؤرخین اپنے طور پر نقل کرتے ہیں صرف ان لوگوں کا نقل کر دینا خلفاء کی قدح کا سبب نہیں بن سکتا۔

سید محمد قلی نے جن کتابوں کی فہرست دی ہے ان میں سے کسی ایک کتاب کے مصنف نے بھی کسی صحیح حدیث سے یہ بات پیش نہیں کی جب حدیث میں اس بات کا سراغ نہیں ملتا تو ظاہر ہے کہ وہ اقوال علماء سے ہے اور اقوالِ علماء کو روایت نہیں کہا جاتا بہر حال یہ بزعم خویش پیش کردہ روایات دو قسم کی ہیں اول جس  میں راویوں کے نام تفصیل سے مذکور ہیں دوسری وہ جن میں بعض راویوں کے نام متروک ہیں بعض جگہ صرف کتابوں کا نام ہے اب ہم دونوں قسم کی روایات کا جائزہ لیتے ہیں۔ 

قسم اول میں شیعہ علماء نے چار حدیثیں پیش کی ہیں۔

1۔ ابنِ مردویہ سے بیان کی ہے میں کا پہلا راوی ابوالفتح عبددس بن عبداللہ ہمدانی ہے آٹھواں راوی عطیہ کوفی اور نواں راوی ابوسعید۔

2۔ پہلا راوی سید ابوحمید مہدی بارہواں راوی فضیل بن مرزوق تیرہواں راوی عطیہ کوفی آخری راوی ابوسعید۔

3۔ پہلا راوی محمد بن سلیمان اعبدی نواں فضیل بن مرزوق دسواں عطیہ کوفی گیارہواں راوی ابو سعید۔

4۔ پہلا راوی محمد بن عباس پانچواں فضیل بن مرزوق چھٹا عطیہ کوفی ساتواں ابوسعید ان چاروں روایتوں میں ابوسعید پہ آکر بات ختم ہوتی ہے چاروں میں عطیہ کوفی موجود ہے تین میں فضیل بن مرزوق کا نام ہے اس لیے ان تینوں کا تعارف کرا دینا ضروری۔

ابو سعید کا نام محمد بن سائب کلبی ہے دوسرا

 نام حماد بن سائب کلبی ہے اسکی کنیتیں مختلف ہیں پہلی کنیت ابوسعید ہے اس کنیت سے عطیہ عوفی کوفی شیعہ اس سے روا یت کرتا ہے۔

دوسری کنیت ابو النصر ہے اس کنیت سے ابنِ اسحاق

 اس سے بیان کرتا ہے تیسری کنیت ابوالہشام ہے اس کنیت سے قاسم بن ولید اس سے بیان کرتا ہے اس کی پہلی کنیت ابوسعید کے ساتھ حذری کا لفظ بڑھا کر اپنوں اور بیگانوں سب کو دھوکا دیا جاتا ہے سنیوں کی کتابوں میں اسی ابوسعید کے ساتھ لفظ حذری بڑھا کر بڑے فریب سے روایات داخل کر دی گئی ہیں یہ تینوں حضرات خالص شیعہ اور تقیہ باز ہیں۔

علامہ سخاوی نے شرح رسالہ منظومہ جزری میں 

ابو سعید کا حال بیان کیا ہے

من اسماء مختلفة ونعوت متعددة محمد بن سائب كلبی المفسر هوا بوالنصر الذى روى عند ابنِ اسحاق وهو حماد بن سائب روى عنه ابو اسامه وهوا بو سعيد الذی روى عنه عطية الكوفى وهما انه الخدری وهشام روى عنه القاسم بن وليد مات سنة ماته دست اربعين۔

ہبہ فدک کے متعلق دوسری قسم میں پانچ روایات بیان ہوئی ہیں

1۔ یہ روایت کنز العمال اور تاریخ حاکم سے لی ہے اس کا سلسلہ روایت ابوسعید پر ختم ہوتا ہے۔

2۔ در منشور سے بلا سند نقل کی گئی ہے بعض شیعہ علماء نے اس روایت کے ساتھ یہ بھی بڑھا دیا ہے

 کہ اخرج البزار وابو يعلى فی مسندہ وابن ابی حاتم  وابنِ مردوية اس کا سلسلہ بھی ابو سعید پر ختم ہے ہوتا ہے۔

3۔ کتاب کا نام نہیں لیا صرف دو راوی فضیل بن مرزوق اور عطیہ کوفی بیان ہوئے ہیں یہ روایت بحار الانوار کی کتاب الفتن میں ہے۔

4۔ سنی کتاب کا نام نہیں مگر عطیہ کوفی بشر بن ولید، واقدی اور بشر بن غیاث راویوں کے نام مذکور ہیں یہ سب غالی رافضی ہیں۔

معارج النبوة اور مقصد اقصیٰ سے لی ہے سند مخدوف ہے۔

معارج النبوۃ ایک مولودی رسالہ ہے ایک شاعرانہ تخیل ہے تحقیق کے میدان میں اس کی کوئی قدر و قیمت نہیں اور مزے کی بات یہ ہے صاحبِ معارج النبوۃ نے خود اسے نا قابلِ اعتبار قرار دیا ہے۔

ان دونوں قسم کی روایات کی اسناد پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ۔

صفحہ 18 از 20