تحقیق باغ فدک (مولانا اللہ یار خان) - ردِ رافضیت | دفاع…

تحقیق باغ فدک (مولانا اللہ یار خان)

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 19 از 20

1۔ ایک دو کے بغیر سب کا سلسلہ اسی ابوسعید پر ختم ہوتا ہے جو محمد بن سائب کلبی ہے جو مانا ہوا کذاب اور رافضی ہے باقی روایات میں عطیہ کوفی اور فضیل بن مرزوق موجود ہیں جو اسی کلبی کے ہم مشرب ہیں۔

2۔ ہبہ فدک کے ثبوت میں کوئی ایک بھی ایسی حدیث نہیں پیش کی گئی جو صحیح اور مرفوع السند ہو اور نہ کوئی ایسی حدیث مل سکتی ہے۔

ہبہ فدک کی تفصیل اور اس کی تاریخ

شیعہ کا کہنا ہے کہ آیت وَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ نازل ہوئی تو حضور اکرمﷺ  نے فدک کی زمین سیدہ فاطمہؓ کو ہبہ کر دی۔

تاریخ کے اوراق سے اس دعویٰ کی حقیقت کا سراغ لگانا چاہیے۔

1۔ اصولِ کافی صفحہ 160 اور صافی جلد 1 صفحہ 359 جز سوم حصہ دوم میں اس آیت کے نزدل کے سلسلے میں سیدنا باقرؒ کی روایت موجود ہے کہ

ان الله عز وجل انزل عليه فی سورة بنی اسرائيل بمکۃ وَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا الخوچوں آیت واٰت ذا القربیٰ حقہ در مکه نازل شده چنانچه می آید در حدیث اول۔

صاف ظاہر ہے کہ یہ آیت مکہ میں نازل ہوئی اور یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ مکّہ سے ہجرت کر جانے کے سات سال بعد کہ 7 ھجری میں فدک کی زمین حضورﷺ کے قبضہ میں آئی اب اس دعویٰ کے دونوں حصوں پر غور کیجیئے ۔

1۔ جب آیت وَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى نازل ہوئی۔

2۔ تو حضورﷺ نے فدک کی زمین سیدہ فاطمہؓ کو ہبہ کر دی دعویٰ میں ”جب“ کے بعد "تو" آتا ہے اور تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو اس گتھی کو سلجھانا مشکل نظر آتا ہے کہ جو زمین ابھی قبضہ میں آئی نہیں وہ برسوں پہلے ہبہ کر دی گئی۔

2۔ حیاة القلوب جلد 2 صفحہ 503 پر آیت کے متعلق ایک اور بیان ملتا ہے ۔

حضرت پہ سید از جبریلؑ که ذا القربیٰ کیست و حق

 اوچسیت گفت ایں را بفاطمہؑ بده که میراث اوست از مادرش خدته مجرد خدیجہؓ وخوارش ہندا دخترابی ہاله۔

حضورﷺ نے جبرائیلؑ سے پوچھا ذوالقربیٰ

کون ہیں اور ان کا حق کیا ہے کہا کہ یہ سیدہ فاطمہؓ کو دے دیجیئے کہ اس کا ورثہ ہے اس کی والدہ سیدہ خدیجہؓ اور انکی بہن سیدہ ہندہؓ کے مال سے۔

اس روایت سے ظاہر ہے کہ:

1۔ فدک کی جاگیر حضورﷺ کی ملکیت نہیں تھی بلکہ سیدہ خدیجہؓ اور سیدہ ہندہؓ کی ملکیت تھی کیونکہ جبرائیلؑ نے ان کی میراث سیدہ فاطمہؓ کو دینے کا حکم پہنچایا۔

2۔ اس سے ہبہ کے دعویٰ کی نفی ہوگئی کیونکہ جس چیز کے حضورﷺ مالک نہیں تھے اسے ہبہ کرنے کا مطلب کیا ہوا۔

3۔ فدک کا یہود کی بستی ہونا بھی غلط ٹھہرا جب سیدہ خدیجہؓ اور سیدہ ہندہؓ اس زمین کی مالک تھیں تو کیا یہود اس جاگیر میں بطور مزارع کام کرتے تھے۔

4۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضورﷺ کو جبرائیلؑ سے پوچھنے کی ضرورت محسوس ہوئی کہ ذا القربیٰ کون ہیں ان کا حق کیا ہے اس سے پہلے آپ یہ دونوں باتیں نہیں جانتے تھے۔ (معاذ اللہ)

تقسیم میراث کا معاملہ اتنے طویل عرصہ تک تاخیر کی نذر کیوں ہو گیا سیدہ خدیجہؓ تو مکہ میں انتقال فرما گئیں اور حضورﷺ  مکہ سے ہجرت بھی کر گئے سات برس گزر گئے تو اتنی دیر سے میراث کی تقسیم کا حکم ملا سیدہ فاطمہؓ کو تو ماں کے انتقال کے فوراً بعد جائیداد ملنی چاہیئے تھی ۔

لیجئیے اب واقعات  نیا رخ اختیار کرتے ہیں۔

حياة القلوب جلد 2 صفحہ 218 حضورﷺ فرماتے ہیں۔

و ما در تو خدیجہؓ مہرے بر من داشت ومن فدک 

را بعوض آں بتو بخشیدم کہ از تو باشد و بعد از تو 

بفرزنداں تو باشد۔

تیری والدہ سیدہ خدیجہؓ کا مہر میرے ذمہ تھا اس کے عوض میں نے فدک تجھے دے دیا اب تیرا مال ہے اور تیرے بیٹوں کامال ہے۔

اس روایت سے معلوم ہوا کہ

1۔ حضورﷺ  نے سیدہ خدیجہؓ کے انتقال تک مہر ادا نہ کیا۔

2۔ فدک کی زمین حضورﷺ کی ملکیت تھی مال فَے نہیں تھا۔

یہ حقیقت نہیں کھلی کہ اگر یہ مال فَے نہیں تھا تو حضورﷺ کے ہاتھ کیسے آیا۔

مگر اسی حیاة القلوب میں جلد 2 صفحہ 92 پر مہر کی بر وقت ادائیگی کا ذکر موجود ہے۔

تزویج کردم  بتوای محمدﷺ  نفس خود را 

مہر من در مال من است۔

یعنی مہر تو سیدہ خدیجہؓ  نے اپنے ذمہ لے لیا اس کی ادائیگی حضورﷺ کے ذمہ نہ رہی پھر مہر کی مقدار کے متعلق دو مختلف روایتیں ملتی ہیں۔

1۔ حياة القلوب جلد 2 صفحہ 91۔

بعد از وی(ای ہند) رسول خداﷺ و را 

مکبالۀ خود آورد و دواز ده اوقیه طلا مہر گردایند۔

2۔ حياة القلوب جلد 2 صفحہ 92پر ہے ۔

پس گواه باشید اے گروہ قریش که من

 تزویج کردم خدیجهؓ دختر را بمحمدﷺ بن عبد الله 

بچهار صد اشرفی مہر ۔

ان تمام روایات اور اس تاریخی تفصیل کا خلاصہ یہ ہوا کہ

1۔ آیت وَ اٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ کے نزول کے وقت 

حضورﷺ نے فدک کی زمین سیدہ فاطمہؓ کو ہبہ

 کر دی(جو آیت کے نزول کے کم از کم سات برس بعد حضورﷺ کے قبضہ میں آئی)۔

2۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیلؑ کے ذریعے حکم بھیجا کہ فدک کی زمین سیدہ خدیجہؓ اور ہندہ کی ہے اس کی وارث سیدہ فاطمہؓ ہے لہٰذا انہیں یہ میراث دے دی جائے ۔

3۔ حضورﷺ  نے سیدہ خدیجہؓ کے مہر کے بدلے فدک کی زمین سیدہ فاطمہؓ کو دی ۔

4۔سیدہ خدیجہؓ نے اپنا مہر خود اپنے ذمے لیا جس کا اعلان نکاح کے وقت کیا۔

5۔ مہر کی مقدار 12 اوقیہ سونا مقرر ہوئی ۔

6۔ مہر 400 اشرفی مقرر ہوا ۔

گویا ضرورت ہے ایک امیر خسرو کی جو یہ  بے جوڑ باتیں اور متضاد بیانات ایک ایسے مربوط شعر میں بیان کر دے کہ تضاد رفع ہو جائے۔

اعطائے فدک کی روایت شیعہ حضرات سنی مفسرین کے حوالہ سے بیان کرتے ہیں مثلاً روح المعانی جلد 15 صفحہ 62۔

اخرجه البزار و ابو یعلی وابنِ ابي حاتم وابن مردويه عن ابی سعيد خدری۔

اور ابنِ کثیر جلد 13 صفحہ36۔

وقال الحافظ ابوبكر البزار حدثنا عباد بن يعقوب حدثنا يحيىٰ التميمي حدثنا فضيل بن مرزوق عن عطية عرابي سعيد قال لما نزلت واٰت ذا القربیٰ الخ دعا رسول اللهﷺفاطمہؓ فاعطالها فداك لو علم اسناده لان الاية مكية وفدك انه تحت مع خبير سنة سبع من الحجرة فكيف يلتم هذا مع هذا فھوا ذا حديث منكر ولاشية انه من وضع الروافضة۔

اور تفسیر مظہری جلد 5 صفحہ 433

اخرج ابنِ حاتم عن السدى واخرجه الطبرانی وغيره عن ابی سعيد الخدریؓ قال لما نزلت واٰت ذا القربیٰ الخ دعا رسول اللهﷺ فاطمةِؓ واعطاها فدك وروى ابن مردويه عن ابن عباسؓ مثله ای من فضيل بن مرزوق عن عطيه عن ابی سعيد الخدری۔

صفحہ 19 از 20