تحقیق باغ فدک (مولانا اللہ یار خان) - ردِ رافضیت | دفاع…

تحقیق باغ فدک (مولانا اللہ یار خان)

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 2 از 20

ترجمہ: جب ابوالحسن موسیٰ خلیفہ مہدی کے پاس یہ سن کر گئے کہ وہ مظالم لوٹا رہا ہے تو کہا امیر المؤمنین کیا وجہ ہے کہ ہمارے مظالم نہیں لوٹائے گئے پوچھا کون سے؟ کہا کہ اللہ تعالیٰ نے جب نبی کریمﷺ کے ہاتھوں فدک فتح کرایا تھا تو اس پر کوئی چڑھائی نہیں کی تھی تو حضورﷺ پر آیت وآت والقربیٰ الخ نازل ہوئی حضور اکرمﷺ کو علم نہیں تھا کہ قرابت دار کون ہیں اس لیے جبریلؑ سے پوچھا انہوں نے اللہ سے درخواست کی اللہ نے وحی کی کہ فدک سیدہ فاطمہؓ کو دے دیجیئے حضورﷺ نے انہیں بلایا اور فرمایا کہ اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ فدک تجھے دوں سیدہ فاطمہؓ نے کہا یا رسول اللہﷺ اللہ کی طرف سے اور آپ کی طرف سے میں نے قبول کیا پھر حضورﷺ کی زندگی میں سیدہ فاطمہؓ کے وکلاء اس باغ پر مقرر رہے جب سیدنا ابوبکرؓ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے وکلاء کو نکال دیا سیدہ فاطمہؓ سیدنا ابوبکرؓ کے پاس آئیں کہ فدک انہیں لوٹا دے مہدی نے کہا ابو الحسن فدک کی حدود تو بیان کیجئے جواب دیا اس کا ایک سرا جبلِ احد ہے دوسرا سرا عریش مصر ہے تیسری طرف سمندر کا کنارہ ہے اور چوتھی جانب دومۃ الجندل ہے مہدی نے کہا یہ سارا فدک ہے؟ کہا ہاں یہ سارا فدک ہے جس پر حضورﷺ نے گھوڑے نہیں دوڑائے۔

(4) اسی مضمون کی ایک روایت ملا باقر مجلسی نے اپنی کتاب بحارالانوار (جلد 8 صفحہ 101) کتاب الفتن میں بیان کی ہے اس میں فدک کی حدود یہ بیان ہوئی ہیں۔

 اس کی ایک حد عدن ہے دوسری سمر قند تیسری افریقہ چوتھی سمندر کا کنارہ ہے جو آرمینیا سے ملا ہوا ہے۔

ان روایات سے فدک کی وسعت کی تعیین ہوگئی نئی بات یہ معلوم ہوئی کہ حضورﷺ کی زندگی میں اس جاگیر پر سیدہ فاطمہؓ کے وکلاء مقرر تھے سیدنا ابوبکرؓ نے نکال دئے۔

(5) ملا باقر مجلسی نے فدک کی تفصیل اس طرح بھی دی ہے۔

حضرت در جمیع خانہ ہائے شہر ہائے ایشاں گرد یدپس جبریلؑ گفت که خدا این را مخصوص تو گرد اینده و بتو بخشیده۔

حضرت اس کے تمام شہروں کے تمام مکانات میں پھرے پھر جبریل نے کہا کہ یہ خدا نے آپکے لیے مخصوص کیا ہے۔

(حياة القلوب جلد 2 صفحہ 218)۔

(4) سید نعمت الله الجزائری لکھتے ہیں۔

واما حدودها فقال موسى بن جعفر عليه السلام ان حدها الأول عريش مصر والحد الثانی دومة الجندل والحد الثالث تيما و الحد الرابع جبل من المدينه۔

(انوار نعمانیه جلد 1 صفحہ 16) 

جہاں تک فدک کی حدود کا تعلق ہے سیدنا موسیٰ بن جعفر نے فرمایا اس کی ایک حد عریش مصر ہے دوسری دومۃ الجندل ہے تیسری تیما ہے اور چوتھی احد کا پہاڑ ہے۔

ان چھ روایات اور اِقتباسات کا ماحصل یہ ہے کہ:

(1) فدک ایک وسیع سلطنت تھی جو آرمینیا سے لے کر مصر تک پھیلی ہوئی تھی۔ 

(2) رسول کریمﷺ نے یہ سلطنت سیدہ فاطمہؓ کو ہبہ کر دی۔

(3) اس سلطنت میں کئی عظیم الشان قلعے تھے۔

(4) اس سلطنت میں کئی شہر تھے ۔

(5) اس سلطنت میں رسول کریمﷺ کی زندگی میں کئی وکلاء مقرر تھے جو سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے نکال دئے۔

اہلِ لغت مؤرخین اور جغرافیہ دان کہتے ہیں فدک ایک بستی تھی یہ امر واقعہ ہو یا رائے بہرحال انسان کا مشاہدہ اور خیال ہی ہوسکتا ہے مگر ان چھ روایات سے ظاہر ہے کہ امام معصوم بیان کر رہے اور جبریل امینؑ نشاندہی کر رہے اور حضورﷺ ہبہ کر رہے ہیں لہٰذا اس کو رائے نہیں کہا جاسکتا بلکہ شیعہ کے نزدیک فدک ایک وسیع سلطنت تھی جو آرمینیا سے مصر تک اور عدن سے دومة الجندل تک پھیلی ہوئی تھی۔ 

اس حقیقت کے پیش نظر یہ کہنا درست معلوم ہوتا ہے کہ سیدہ فاطمہؓ نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ سے جس فدک کا مطالبہ کیا تھا وہ اہلِ لغت کا خیالی نہیں بلکہ ائمہ معصومین کا بیان کردہ حقیقی فدک ہی مانگا ہوگا مگر تاریخ بتاتی ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی سلطنت حجاز کے ایک چھوٹے سے حصے سے آگے نہیں بڑھی تھی پھر وہ سیدہ فاطمہؓ کا مطالبہ کیونکر پورا کرسکتے تھے اور سیدہ فاطمہؓ کے متعلق یہ کہنا کہ وہ جان بوجھ کر سیدنا ابوبکر صدیقؓ سے وہ چیز مانگ رہی ہیں جو ان کے قبضے میں نہیں کسی طرح قابل تسلیم نہیں اگر آج کوئی شخص صدرِ پاکستان سے مطالبہ کرے کہ مجھے افغانستان اور ایران بطور جاگیر دے دیا جائے صدر پاکستان بھلا اس کا مطالبہ کیونکر پورا کرسکتے ہیں اس پر اگر وہ شخص روٹھ جائے اور صدرِ پاکستان کو غاصب کہنے لگے تو اس کے متعلق کیا کہا جائے گا اس بنا پہ عقل کا فیصلہ یہی ہے سیدہ فاطمہؓ کا مطالبہ محض فرضی قصہ ہے جو لوگ اس مطالبہ کو صحیح تصور کرتے ہیں ان کا فرض ہے کہ تاریخ سے یہ ثابت کریں کہ مطالبہ کے وقت یہ علاقے سیدنا ابوبکرؓ کے قبضہ میں تھے اور اسلامی حکومت کی حدود میں داخل تھے اگر ایسا نہیں اور یقیناً نہیں تو مطالبہ کو فرضی قصہ اور جعلی داستان کہنا پڑے گا۔

(7) صاحب درۃ النجفیہ نے فدک کی تفصیل یہ دی ہے۔ 

ولفدك بفتحتين قرية من القرى اليهود بينھا

وبين المدينة النبی يومان۔ 

(صفحہ 329)

فدک یہودیوں کی بستیوں میں سے ایک بستی ہے جو مدینہ سے دو دن کی مسافت پر ہے۔

(8) اسی درۃ النجفیہ میں ہے۔

وردى انه كان فيها احدى عشر نخلة  غرسها رسول اللهﷺ بيده وكانت بنو فاطمةؓ يهدون ثمرها إلى الحجاج۔ 

(صفحہ 332) 

اور روایت کیا گیا ہے کہ باغِ فدک میں کھجور کے گیارہ درخت تھے جو حضورﷺ نے اپنے دست مبارک سے لگائے تھے ان کا پھل اولاد سیدہ فاطمہؓ حاجیوں کو ہدیہ دیا کرتے تھے۔

صفحہ 2 از 20