تحقیق باغ فدک (مولانا اللہ یار خان) - ردِ رافضیت | دفاع…

تحقیق باغ فدک (مولانا اللہ یار خان)

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 20 از 20

ان تینوں روایتوں میں بات ابوسعید پر ختم ہوتی ہے ۔ روح المعانی اور مظہری میں ابوسعید کے ساتھ خدری بھی ہے ابنِ کثیر میں ضرری نہیں ہے یہ ابو سعید وہی محمد بن سائب کلبی ہے لیکن فن کاروں نے کنیت کے ساتھ خدری لگا کر اصل آدمی کو چھپا دیا ہے مگر فضیل بن مرزوق اور عطیہ تو موجود ہیں یہ دونوں اس ابوسعید سے روایت کرتے ہیں جو محمد بن سائب کلبی ہے ابوسعید خدری سے روایت نہیں کیا کرتے۔ 

ابنِ کثیر نے اس کی سند سے صرف نظر کرتے ہوئے اس کے تاریخی تضاد کی وجہ سے اسے موضوع اور روافض کی کوشش کا نتیجہ قرار دیا ہے۔

شیعہ علماء اس سلسلے میں جو روایتیں پیش کرتے ہیں ان کی کل تعداد گیارہ ہے اب ان کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

1۔ پہلی روایت تو شیعہ علماء اور مناظر پیش کرتے ہیں اس کے راوی بشر بن غیاث بشر بن ولید اور واقدی ہیں۔

2۔ اب مردویہ سے لی ہے جس میں فضیل بن مرزوق عطیہ اور ابو سعید خدری ہیں ۔

3۔ تفسیر مجمع البیان ہے اس میں فضیل بن مرزوق عطیہ اور ابو سعید ہیں۔

4۔ طبرسی نے تفسیر میں لی ہے اس میں فضیل بن مرزوق خ عطیہ اور ابوسعید ہیں۔

5۔ ملا باقر مجلسی اپنی کتابوں میں بیان کر تے ہیں اس میں یہی تینوں راوی ہیں۔

6۔ شیعہ عالم سید ابنِ طاؤس نے لی ہے اس میں یہی تنیوں راوی ہیں۔

7۔ شوستری نے احقاق الحق میں ابنِ مردویہ سے لی ہے اس میں یہی تینوں راوی ہیں۔

8۔ در منظور سے لی گئی ہے اسناد حذف کر دیا ہے۔

9۔ کنز العمال سے لی ہے اس میں سند کا سلسلہ 

ابو سعید پر ختم ہوتا ہے۔

10۔ روى السيوطي فی تفسیر إلها المنثور في ذيل تفسير واٰت ذا القربیٰ الخ واخرج البزار وابو یعلی و ابن ابی حاتم و ابن مردويه عن أبي سعيد الخدری۔

11۔ شیعلی سے نقلی کی واقعہ علی بن الحسین کا ہے کہ اس نے ذا القربیٰ سے قرابتِ رسولﷺ مراد لی ہے مگر اس میں فدک کا ذکر موجود نہیں ۔

ان روایات میں جن راویوں پر سند کا مدار ہے ان کے اوصاف یہ ہیں واقدی کذاب رافضی بشر بن غیاث زندیق کافر یہودی کا بیٹا تھا۔

 ابوسعید جو اصل ما خذا اور منبع ہے اس کے اوصاف بیان ہوچکے ہیں۔

 عطیہ کوفی شیعہ عباد بن يعقوب من غلاة الشيعة ورؤس البدع (ميزان الاعتدال) ان عباد بن يعقوب كان يشتم السلف وقال صالح حرزه كان عباد بن يعقوب يشتم عثمان وكان واعيا إلى الرفض ومع ذلك يروى امنا كبر من المشاهير فاستحق الترك فضيل بن مرزوق، قال النسائی ضعيف وكذا ضعفه سعيد قالت وكان معروف باالتشیع تقسیم و قال ابنِ الحبان منكر الحديث جد او يروى مر عض الموضوعات قلت عطيه اضعف منه۔

(میزان الاعتدال)

اس تفصیل سے ان روایات کے راویوں کا کردار سامنے آگیا اصول یہ ہے کہ سند کے حدیث میں اگر ایک راوی غیر معتبر ہو تو پوری حدیث غیر معتبر قرار دی جاتی ہے ان روایات میں تو سارے کے سارے راوی کذاب اور شیعہ ہیں جن کے نزدیک جھوٹ بولنا عبادت ہے بلکہ 9/10  حصہ دین تو اسی تقیہ میں پنہاں ہے پھر ان روایات پر اعتبار وہی کر سکتا ہے جو جھوٹ کو سچ سمجھتا ہو سوال یہ نہیں کہ فلاں فلاں کتابوں میں ہبہ فدک کا ذکر ہے بلکہ سوال یہ ہے کہ دعویٰ ہبہ فدک کسی صحیح الاسناد  مرفوع حدیث سے ثابت ہے یا نہیں تو ظاہر ہے کہ کوئی ایسی حدیث موجود نہیں ہے۔

رہا علمائے متکلمین کا معاملہ تو اس کے متعلق شرع عقائد صفحہ 489 پر وضاحت موجود ہے۔

اما ادلة الشيعة فاما موضوعات او غير واضحة الدلالة فلا تعارض دين كشف هذا بالنظر في كتب الحديث لكن علماء الكلام بمع اھل من علم الحديث۔

شیعوں کے دلائل من گھڑت ہوتے ہیں یا غیر واضح الدلالت علی المطلوب ہوتے ہیں لہٰذا کوئی تعارض نہ رہا کتب حدیث پر نظر ہو تو یہ امر واضح ہو جاتا ہے لیکن متکلمین حضرات تو علمِ حدیث سے کوسوں دور ہیں۔

یعنی متکلمین کا کسی حدیث کے متعلق کچھ کہ دینا حجت نہیں ہوتا یہ فن محدثین سے تعلق رکھتا ہے پھر یہ کہ متکلمین میں سے بھی جو سنی مشہور ہیں حقیقت میں شیعہ ہوتے مثلاً شہرستانی جس کے متعلق امام ابنِ تیمیہؒ نے منہاج السنتہ میں لکھا ہے۔

بل يميل الشهرستاني كثيرا إلى اشياء من امورهم بل يذكر احيانا اشياء من كلام الاسماعيليه ولهذا اتهمه بعض الناس بانه من الاسماعيلية وقد يقال هو مع الشيعة وبالجملة فالشهرستانی يظهر الميل إلى الشيعة ولا يجتع به الا من جاھل وان هذا الرجل فينی الشهرستانی كان لہ بالشيعة المام واتصال وانه دخل في اهوائهم بما ذكره في هذا الكتاب يعنی الملل والنحل۔

علامہ شہرستانی بہت سے امور میں شیعوں کی طرف میلان رکھتا ہے بلکہ احیاناً شیعوں کے فرقہ اسماعیلیہ کے عقائد بیان کرتا ہے اسی لیے اسے اسماعیلیہ ہونے سے متہم کیا جاتا ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے وہ شیعہ تھا مختصر یہ کہ شہرستانی کا رحجان شیعہ کی طرف ہے دلیل کے طور پر شہرستانی کا حوالہ صرف جاہل آدمی ہی دے سکتا ہے شہرستانی کو شیعہ سے خاص تعلق تھا الملل والنحل میں جو کچھ اس نے لکھا ہے اس سے ظاہر ہے کہ وہ شیعہ بدعات میں شامل تھا۔

شہرستانی متکلم کی حقیقت تو سامنے آگئی اس کے علاوہ جس متکلمین کا شیعہ علماء نے ذکر کیا ہے انہوں نے حدیث ہبہ فدک کی صحت اور معلوم صحت کی طرف توجہ ہی نہیں کی اگر وہ لوگ اصولِ حدیث کے مطابق اس حدیث پر بحت کرتے پھر ہبہ کا ذکر کرتے تو کوئی بات بھی تھی محض ان لوگوں کا ہبہ کی حدیث کا ذکر کر دینا کوئی حجت نہیں۔

صواعقِ محرقہ کا حوال پیش کرنا بھی کوئی مفید مطلب بات نہیں اس کتاب میں اور دوسری ایسی کتابوں میں یہ کہا گیا ہے کہ اگر دعویٰ ہبہ فدک صحیح ہے تو جواب یہ ہے لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر دعویٰ ہبہ فدک صحیح تسلیم کر لیا جائے تو جواب بنانے کی ضرورت ہی کیا رہ جاتی ہے۔


صفحہ 20 از 20