تحقیق باغ فدک (مولانا اللہ یار خان) - ردِ رافضیت | دفاع…

تحقیق باغ فدک (مولانا اللہ یار خان)

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 3 از 20

 درة النجفیہ کی روایات کے مطابق فدک کی سلطنت سمٹ کر بستی رہ گئی پھر اور سمیٹی تو کھجور کے گیارہ درخت اس کی کل کائنات ٹھہری کیا انہیں گیارہ درختوں والے زمین کی نشاندہی کے لیے جبریلؑ اپنے پروں سے کام لیتے رہے درخت تو بعد میں حضورﷺ نے لگائے پہلے تو وہاں کچھ نہیں تھا اگر یہ تسلیم کیا جائے کہ سیدہ فاطمہؓ نے اتنی سی زمین اور گیارہ درختوں کے لیے اس اتنے جتن کئے اور بقول شیعہ عمر بھر خلیفۂ رسول سے ناراض رہیں یہ رویہ تو آج کا ایک خالص دنیا دار اور مادہ پرست انسان بھی اختیار نہیں کرتا سیدہ فاطمہؓ کو دنیا اتنی عزیز تھی کہ اس کی خاطر سیدنا ابوبکر صدیقؓ سے اپنے والد کی حدیث سن لینے کے بعد بھی ناراض ہی رہیں یہ ایک عجیب معمہ ہے اس لیے یہ کہنا پڑے گا کہ سیدہ فاطمہؓ کا مطالبہ اسی فدک کےلئے ہوگا جو بہ سند معتبر گذشتہ چھ روایات میں بیان ہوا ہے اور جو اس وقت سیدنا صدیق ابکرؓ کی سلطنت میں شامل نہیں تھا۔

باغِ فدک کی آمدنی

(1) پس اہلِ فدک بخدمت حضرت رسولﷺ آمدند و بایشاں مقاطعه نمود کہ ہر سال بست و چہار ہزار دینار بد بند بحساب ایں زمانہ تقریباً سہ ہزار وشش صد تومان باشد۔

(حياة القلوب جلد 2 صفحہ218) 

اہلِ فدک حضورﷺ کے پاس آئے ان سے طے ہوا کہ ہر سال 24 ہزار دینار دیں گے اس زمانہ کے حساب کے مطابق 3600 تومان بنتے ہیں۔

(2) تشئید المطاعن میں سید محمد قلی لکھتے ہیں کہ ایک لاکھ بیس ہزار دینار تھی اور اسی کتاب میں لکھا ہے کہ عمر بن عبدالعزیز کے زمانے میں فدک کی آمدنی ایک لاکھ چالیس ہزار دینار سالانہ تھی۔

درۃ النجفیہ کی روایت میں بیان ہو چکا ہے کہ کل 11 درخت تھے جو حضورﷺ نے لگائے تھے اس روایت کی تعبیر میں کہا جاتا ہے کہ باغ تو بڑا وسیع تھا البتہ 11 درخت حضورﷺ نے لگائے تھے یہ تعبیر الفاظ کا ساتھ نہیں دیتی فیہا میں ھاضمیر کا مرجع زمین فدک ہے یعنی اس زمین میں کل 11 درخت تھے ورنہ عبارت یوں ہوتی کہ وسیع باغ تھا جس میں گیارہ درخت حضورﷺ نے خود لگائے تھے اس لیے روایت کے الفاظ کا صحیح مفہوم یہی ہے کہ اس باغ میں کل 11 درخت تھے اور وہ بھی حضورﷺ نے اپنے دست مبارک سے سے لگائے تھے۔

اب واقعات کی روشنی میں اس آمدنی کا جائزہ لینا چاہیے۔

(1) سن 7ھجری میں فدک کی زمین اسلامی سلطنت میں شامل ہوئی۔

(2) سن 10 ھجری میں حضورﷺ اس جہان سے رخصت فرما گئے۔

عام تجربہ اور مشاہدہ یہ ہے کہ کھجور کا درخت چار پانچ سال سے پہلے پھل نہیں دیتا پھر حضورﷺ نے کل 11 درخت جو لگائے تھے اس پر "وکلاء" کتنے اور کیوں مقرر کئے تھے جو سیدنا ابوبکرؓ نے نکال دیے اور پھل آنے سے پہلے ہی ان درختوں سے اتنی آمدنی کیسے ہوتی تھی۔ معلوم ہوتا ہے کہ روایت بنانے میں ذرا اور احتیاط کی جاتی اور غرسها کی جگہ ابرھا لکھا جاتا تو کچھ بات بن جاتی کیونکہ پیوند شده کھجور دوسرے تیسرے سال پھل دینے لگتی ہے پھر دیکھنا یہ ہے 11 درخت ایک موسم میں کتنا پھل دے سکتے ہیں کہتے ہیں 20 سیر سے ایک من تک ایک درخت پھل دے سکتا ہے حساب یوں بنتا ہے کہ 11 من کھجور کی قیمت 120000 دینار یعنی 10909 دینار فی من یعنی 272 دینار فی سیر 17 دینار فی چھٹانک اور 1/2 .5 دینار فی تولہ اب دیکھنا یہ ہے کہ چھٹی صدی عیسوی میں کہیں اتنی مہنگی کھجور بھی بکتی تھی یہ تو سونے کے نرخ معلوم ہوتے ہیں آخر مبالغہ کی بھی کوئی حد ہوتی ہے اور مبالغہ صرف شعروں میں چلتا ہے حسابی عمل میں مبالغہ کا کیا کام۔

پھر یہ ایک حقیقت ہے کہ کھجور کے درخت اس وقت تک پھل نہیں دے سکتے جب تک ان میں کوئی نہ کوئی نر درخت نہ ہو اگر فرض کر لیا جائے کہ ایک نر درخت تھا اور دس مادہ تو 10 درختوں کے پھل کی قیمت 120000 دینار یعنی 300 دینار فی سیر قیمت بنی۔

 خواب کی دنیا کی بات ہو تو تسلیم کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں مگر جیتی جاگتی اور حقائق کی دنیا میں اس بات کو وہی تسلیم کرے گا جسے عقل سے پیدائشی بیر ہو۔

فدک کی جاگیر حضورﷺ کے قبضہ میں کیسے آئی:

فتح الباری جلد 6 صفحہ 123 تفسیر کبیر اور فتوح البلدان میں مذکور ہے کہ جب خیبر فتح ہوچکا اور حضورﷺ واپس آرہے تھے تو آپﷺ نے سیدنا محیصہ بن مسعود انصاریؓ کو اہلِ فدک کی طرف بھیجا کہ انہیں اسلام کی طرف دعوت دیں یہود کے رئیس یوشع بن نون نے فدک کی نصف آمدنی پر مسلمانوں سے صلح کرلی چونکہ جنگ کی نوبت نہ آئی اس لیے یہ آمدنی حضورﷺ کیلئے مختص رہی نبی کریمﷺ کے قبضہ میں مال آتے تھے قرآنِ کریم نے اس کی تین قسمیں بیان کی ہیں زکوٰة غنیمت اور فَے۔

زکوٰۃ پر لفظ صدقہ کا اطلاق بھی ہوتا ہے قسم اول یعنی صدقات کے اموال رسول کریمﷺ اور آلِ رسولﷺ کے لیے حرام تھے۔

 قسم دوم یعنی غنیمت کی حقیقت انفال کے نام سے اللّٰہ تعالیٰ نے بیان فرمادی اور اس کی تقسیم کا طریقہ بھی بیان فرما دیا۔

قسم سوم یعنی فَے کے متعلق قرآنِ مجید نے تفصیل بیان کر دی۔ 

ما أفاء الله على رسوله من احد القریٰ فلله وللرسول ولذى القربیٰ والبيتمىٰ والمساكين وابنِ السبيل۔

 فَے اس مال کو کہتے ہیں جو جنگ کئے بغیر صلح سے ہاتھ آئے اور فدک اسی طریقہ سے حضورﷺ کے قبضہ میں آیا تھا لہٰذا فدک کی جاگیر مال فے سے تعلق رکھتی ہے۔

مال فےَ پر حضورﷺ کے قبضہ کی نوعیت

آیت مندرجہ بالا سے صاف ظاہر ہے کہ فدک کی جاگیر حضورﷺ کا قبضہ مالکانہ نہیں تھا بلکہ متولیانہ تھا یعنی آپﷺ فدک کی آمدنی کی تقسیم کے متولی تھے جیسے کسی حکومت میں وزیر خزانہ ہوتا ہے وہ خزانہ کا مالک نہیں بلکہ متولی ہوتا ہے اسی طرح فدک کا مالک حقیقی اللّٰہ تعالیٰ ہے اور رسول کریمﷺ کو اس مال کی تقسیم کے لیے متولیانہ تصرف اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے ملا اگر قبضہ مالکانہ ہوتا تو ذی القربیٰ یتامیٰ مساکین اور مسافر اس میں شریک نہ کئے جاتے ان چار اقسام کے لوگوں کو مال فَے میں شریک کرنا ہی ظاہر کرتا ہے کہ یہ مال حضورﷺ کی ذاتی ملکیت نہیں تھا بلکہ ان لوگوں کی خبرگیری کے لیے حضورﷺ کو متولیانہ تصرف کرنے کا حکم دیا گیا اگر رسول کریمﷺ کو مالک قرار دیا جائے تو آیت کی رو سے ان چار قسم کے لوگوں کو بھی مالک قرار دیا جائے اور میراث کا سوال اٹھا تو ان سب میں میراث تقسیم ہوگی۔

اب تقسیم کے دو ہی طریقے ہیں
اول باعتبار رقبہ

صفحہ 3 از 20