تحقیق باغ فدک (مولانا اللہ یار خان) - ردِ رافضیت | دفاع…

تحقیق باغ فدک (مولانا اللہ یار خان)

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 4 از 20

یہ صورت محال ہے کیونکہ مسکین کلی ہے خواہ نوع ہی ہو اسی طرح یتیم بھی کلی ہے مسافر بھی کلی ہے جن کے افراد لاتعداد ہیں پھر رقبہ کیسے تقسیم ہوسکے گا۔ 

دوم باعتبار آمدنی

یہ صورت ممکن ہے افرادِ بدل سکتے ہیں تقسیم ہوسکے گی اس صورت میں یہ مال کسی کی مملوکہ چیز نہ ہو گی تقسیم کرنے والا مہ متولی ہوگا مالک کوئی بھی نہ ہوسکے گا ہاں رقبہ کسی کے نام منتقل ہو تو اسے حقوق مالکانہ مل سکتے ہیں مگر یہ صورت یہاں ممکن نہیں اس جاگیر کے متعلق خلفائے ثلاثہؓ کے بعد جو صورت اختیار کی جاتی رہی اس کی تفصیل یوں ملتی ہے۔

قال القرطبي الاولى علی لم يغير هذا الصدقة مما كانت في ايام الشيخینؓ ثم كانت بعده بيد الحسنؓ ثم بيد الحسينؓ ثم بعيد علي بن الحسنؓ ثم بيد الحسن بن الحسن ثم بيد عبد الله بن الحسين ثم وليها بنو العباس علی ما ذكره الامام البرقاني في صحيحہ ولم يرد عن احد من هولاء انه تملكها و لا ورثها ولا ورثت عنہ۔

(فیض الباری جلد 4 صفحہ 462 عمدة القاری جلد 7 173 و كتاب الخمس ابو حفص بن شاہین)۔

 قرطبی کہتے ہیں کہ جب سیدنا علیؓ خلیفہ ہوئے تو فدک کا وہی نظام برقرار رہا جو شیخینؓ کے زمانہ میں تھا کچھ تغیر نہ کیا پھر سیدنا حسنؓ کے پاس آیا پھر سیدنا حسینؓ کے پاس پھر سیدنا زین العابدینؓ کے پاس پھر حسن بن حسن پر زید بن حسن پھر عبداله بن حسین پهر بنو عباس متولی ہوئے جیسا کہ برقانی نے اپنی صحیح میں ذکر کیا ہے اور کسی نے ذکر نہیں کیا کہ یہ لوگ فدک کے مالک بنے ہوں یا وارث بنے ہوں۔ 

اس سے معلوم ہوا کہ فدک کی زمین پر شیخینؓ کے زمانہ جو قبضہ متولیانہ رکھا جاتا تھا وہی برتاؤ سیدنا علیؓ کے عہد میں کیا گیا پھر اولاد فاطمہؓ کے تصرف میں جب یہ جاگیر آئی تو ان کا قبضہ بھی متولیانہ رہا خلفائے اربعہؓ نے حضورﷺ کا عمل اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا اس لیے وہی طریقہ اختیار کیا اور خلفائے اربعہؓ کی اتباع کرتے ہوئے اولادِ سیدہ فاطمہؓ میں سے مذکورہ بزرگوں نے اس پر قبضہ متولیانہ کی صورت برقرار رکھی علامہ قرطبی نے اولاد فاطمہؓ کے نام ذکر کر کے آخر میں دوسری صورت کی نفی کردی کہ کسی ایک فرد سے منقول یا ثابت نہیں کہ فدک پر ان کا قبضہ مالکانہ تھا یا اسے میراث بنایا گیا یا ان میں سے کوئی فرد اس جاگیر کا وارث ہوا۔ 

اس سلسلے میں جن الفاظ سے رسول کریمﷺ کی جانب اضافت کا وہم ہوتا ہے محدثین نے اس کی تردید کر دی ہے۔ چنانچہ فیض الباری جلد 4 صفحہ 46 اور وفاء الرفا سمودی میں "فان لله خمسه وللرسول" کے تحت بیان ہوا ہے۔ 

يريد به دفع الوهم الناشى من الاية انك جعلت الخمس الى راى الامام مع الدية تدل على كوفه ملكا لرسول اللهﷺ فازاعه بان اضافته الى رسول اللهﷺ للقسم دون الملك۔

اس کا مقصد اس وہم کو دور کرنا ہے جو آیتِ قرآنی کے مفہوم سے پیدا ہوتا ہے تو نے خمس کو امام کی رائے پر چھوڑ دیا مع دیت کے یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ یہ حضورﷺ کی ملکیت تھا پھر اسے اس بات سے رد کیا کہ یہ اضافت تقسیم کیلئے ہے ملکیت کے لیے نہیں۔

اور فیض الباری جلد 4 صفحہ 459 پر مذکور ہے۔

قدخص رسولهﷺ بان كانت الرسول اللهﷺ خالصۃ بالولاية دون الملك الى ان قال واعلم ان مخاصمة فاطمةؓ بنت رسول اللهﷺ من ابو بكرؓ كانت في التولية۔ 

رسول کریمﷺ کو فدک کے متولی ہونے میں مختص کیا مالک ہونے میں نہیں اور یہ بھی جان لو کہ سیدہ فاطمہؓ کا مطالبہ سیدنا ابوبکرؓ سے ولایت فدک کے لیے تھا میراث اور ملک کیلئے نہیں تھا۔

خلاصہ یہ کہ فدک مال فے تھا اور یہ مال کسی کی ذاتی ملکیت نہیں ہوتا اس لیے فدک بھی حضورﷺ کی ذاتی ملکیت نہیں تھا۔ 

شیعہ مفسر شیخ مقداد نے اپنی تفسیر کنز المعرفان میں مال غنیمت اور مال فے کے متعلق لکھا ہے۔

ان ما اخذ من الكفار ان كان من غير قتال فهو فئی وان كان مع القتال فهو غنيمة وهو مذهب اصحابنا۔ 

(صفحہ 84)

جو مال کفار سے جنگ کے بغیر حاصل ہو وہ فے ہے اور جو جنگی حاصل ہو وہ غنیمت ہے ہمارا مذہب یہی ہے۔

پھر اسی تفسیر کنز العرفان میں فے کی تعریف یوں بیان کی گئی ہے۔

والصحيح ما قاله الباقر انها ما اخذ من دار الحرب بغير قتال كالذی استجلى عنها اهلها وهو المسمى فئی و ميراث من لاوارث له وقطائع الملوك اذا لم تكن مغصوبة والاجام وبطون الأودية والموات فان لله ولرسوله وبعده من قام مقامه ليصرفه حيث يشاء من مصالح۔

 (صفحہ 86)

صحیح بات وہ ہے جو سیدنا باقر سے منقول ہے کہ جو مال کفار دار الحرب سے بغیر لڑائی کے لیا جائے مثلاً اس ملک کے باشندوں کو جلا وطن کیا جائے وہ مال فے ہے اور میراث ہے اس شخص کی جسں کا کوئی دوسرا وارث نہ تھا اور بادشاہوں کی جاگیریں جو غضب شدہ نہ ہوں جنگلات اور وادیاں اور غیر آباد زمین خدا کی اور اس کے رسول کی ہیں رسول کے بعد اس کے قائم مقام خلیفہ یا نائب کی ہیں وہ خلیفہ ان میں اپنی صوابدید کے مطابق مصالح عامہ کے لیے تصرف کرے گا۔

سیدنا باقر کے قول کے مطابق مال فے کو میراث بھی کہتے ہیں اس میں رسولﷺ کے بعد نائب رسولﷺ ہی قبضه متولیانہ کے ذریعے مصالح عامہ کیلئے تصرف کا حقدار ہے۔ 

سید نعمت الله الجزائری لکھتے ہیں ۔

ان اولا من رد فدکا علی ورثہ فاطمہؓ سلام الله عليها عمر بن عبد العزيز وكان معاويةؓ اقطعها المروان بن الحكم و عثمان بن عفانؓ و یزید بن معاوية وجعلها بينهم ثلاث ثم قبضت من ورثة فاطمةؓ فردها سفاح ثم قبضت منهم فردها عليهم المامون وقبضت فردها عليهم المستنضرم قضت فردها عليهم المعوقد ثم قبضت منهم فردها عليهم المعتضد ثم قبضت فردها عليهم الراضی۔

(انوار نعمانیہ جلد 1 صفحہ 16)

پہلے شخص جنہوں نے فدک سیدہ فاطمہؓ کے ورثا کو لوٹا یا وہ عمر بن عبدالعزیزؒ تھے اور سیدنا امیر معاویہؓ سیدنا عثمانؓ اور یزید نے اس کے تین حصے کر دیے تھے اور سیدنا امیر معاویہؓ نے مروان بن الحکم کو ایک حصہ دے دیا تھا پھر ان سے لے لیا گیا اور خلیفہ سفاح نے لوٹایا پھر چھین لیا گیا پھر مامون نے لوٹایا پھر چھین لیا گیا پھر واثق نے لوٹایا پھر چھین لیا گیا پھر مستنصر نے لوٹایا پھر چھین لیا گیا پھر معتمد نے لوٹایا پھر چھین لیا گیا پھر معتفد نے لوٹایا پھر چھین لیا گیا پھر راضی باللہ نے لوٹایا۔

صفحہ 4 از 20