تحقیق باغ فدک (مولانا اللہ یار خان) - ردِ رافضیت | دفاع…

تحقیق باغ فدک (مولانا اللہ یار خان)

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 5 از 20

یہ روایت اور عینی فیض الباری اور قرطبی کی روایت کا مضمون ملتا جلتا ہے شیعہ سنی دونوں طرف کی روایتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ تمام حکام خواہ بنو امیہ کے ہوں یا بنو عباس کے فدک کو میراث نہیں سمجھتے تھے۔ اس پر جس کا قبضہ رہا متولیانہ رہا مالکانہ نہیں اگر یہ کسی کی ذاتی ملکیت ہوتی تو خلفاء کے ہوتی تو خلفاء یقیناً اس کے قبضہ میں رہنے دیتے اس لیے اہلِ بیت کے جن افراد کو یہ لوٹایا گیا ان کا قبضہ متولیانہ تھا۔

انوار نعمانیہ کی روایت میں دو باتیں ایسی ہیں جنہیں غلط بیانی کہنا چاہیے ممکن ہے تقیہ کے طور پر ایسا کیا گیا ہو۔ اول یہ سیدنا عمر بن عبدالعزیزؒ نے سیدہ فاطمہؓ کے ورثاء کو فدک لوٹا دیا تھا یہ بات خلاف واقعہ ہے۔ مشکوہ باب الفئی میں اس کی تفصیل درج ہے بقدر ضرورت حصہ حدیث یہ ہے۔

ثم اقطعها مروان ثم صارت عمر بن عبد العزيز فدایت امرا منعه رسول اللهﷺ فاطمةؓ ليس لي بحق  وانی اشهد كم اني رودتها على ما کانت یعنی علی رسول اللهﷺ وابی بكرؓ وعمرؓ۔

پھر مروان نے باغ فدک کاٹ لیا تھا پھر عمر بن عبدالعزیزؒ کے قبضہ میں آیا تو انہوں نے کہا  میرا خیال ہے کہ جو فدک حضورﷺ نے سیدہ فاطمہؓ کو نہیں دیا تھا وہ خاص میرا حق کیسے بن گیا اس لیے میں تمہیں گواہ کرتا ہوں کہ میں فدک کو اسی طریقہ پر لوٹاتا ہوں جس پر رسول کریمﷺ کے زمانہ میں اور شیخینؓ کے زمانہ میں تھا۔

اس سے صاف ظاہر ہے کہ عمر بن عبدالعزیزؒ نے فدک کی آمدنی کی تقسیم کا معاملہ اس طریقہ کی طرف لوٹایا جو رسول کریمﷺ اور شیخینؓ کے زمانہ میں اختیار کیا جاتا رہا۔ 

فدک کے ٹکڑے کرنے کی نسبت سیدنا عثمانؓ کی طرف کرنا بھی غلط ہے اشعۃ اللمعات میں لکھا ہے۔

  وظاهر آں است که این در زمان سلطنت مردان شد۔

فدک کی آمدنی کی تقسیم کے لیے جو طریقہ کار رسول کریمﷺ نے اختیار فرمایا تھا اس کا شیخینؓ بلکہ خلفاء اربعہؓ نے کیا شیعہ کتب میں اس کی تائید ملتی ہے مثلاً۔

 وكان رسول اللهﷺ ياخذ غلتها فيدفع اليهم منها ما يكفيهم ثم فعلت الخلفاء بعده كذلك الى ان معاوية فاقطعها مروان ثلثها بعد الحسن ثم خصت له في خلافته وتداولها الى ان انتهت الى عمر بن عبدالعزيز فردها عليهم ابو العباس سفاح ثم قبضها والداه موسی و هارون فلم تزن في ابدي بني عباس إلى رمان المامون فردها الیھم وبغيب الى عهد الملوكا عبد اللّٰہ وروى انه كان فيها احدى عشر نخلت عرسها رسول اللهﷺ بیده فکانت بنو فاطمه يهدون ثمرها الی الحجاج۔ 

(حدیدی شیخ نهج البلاغه جلد2 صفحہ  296 درة النجفیه صفحہ 331)

اور حضورﷺ اس کا غلہ لے لیتے اور اہلِ بیت کو اس سے اتنا دے دیتے جو ان کے لیے کافی ہوتا پھر آپ کے بعد خلفاء نے بھی ایسا ہی کیا پھر امیر معاویہؓ حاکم ہوئے مروان نے اس کے کا ایک تہائی کاٹ لیا پھر اپنی خلافت میں اسے اپنے لیے مختص کر لیا اور اس میں دست اندازی کرتا رہا حتیٰ کہ عمر بن عبدالعزیزؒ نے اپنے عہد میں اہلِ بیت کو یہ لوٹا دیا پھر سفاح نے قبضہ کیا پھر موسیٰ اور ہارون نے پھر مامون کے زمانہ تک بنو عباس کے پاس رہا اس نے اہلِ بیت کو لوٹا دیا اور متوکل کے عہد تک اسی طرح رہا۔ پھر عبداللہ نے قطع کر لیا۔ روایت کی گئی ہے کہ اس میں کھجور کے گیارہ درخت تھے جو نبی کریمﷺ نے اپنے ہاتھ  سے لگائے تھے اور بنو سیدہ فاطمہؓ ان درختوں کا پھل حاجیوں کو بطور تحفہ دیا کرتے تھے۔ 

اس روایت سے ظاہر ہے کہ خلفاء نے وہی طریقہ جاری کیا جو نبی کریمﷺ نے اختیار کیا تھا اور بعد میں حکام وقت باغ فدک میں تدادل کرتے اور ہاتھوں ہاتھ پھیلاتے رہے۔ یہ عمل اس امر کی بین سے دلیل ہے کہ فدک کسی کی ذاتی ملکیت میں نہیں تھا۔ اور اولاد سیدہ فاطمہؓ کو لوٹانا محض ان کی متولیانہ حیثیت سے ہوتا تھا اگر کسی کی ملکیت ہوتی تو اس میں میراث جاری ہوتی اور جس کے قبضہ میں جاتا اس کی اولاد میں شرعی طریقہ پر قسم کیا جاتا مگر ایسا کبھی نہیں ہوا۔ حکام وقت دوسروں کی ملکیت میں ایسا عمل کیوں نہیں کرتے تھے صرف فدک کے معاملہ میں یہ رویہ اختیار کرنا عدم توریث کی بین دلیل ہے پھر اسی حدیدی شرح نہج البلاغه جلد 2 صفحہ 296 پر یوں تفصیل دی گئی ہے۔

وكان ابوبكرؓ ياخذ غلتها فيدفع اليهم منها ما يكفيهم ويقسم الباقي وكان عمر كذلك ثم كان عثمان كذلك ثم كان على كذلك فلما ولى الأمیر معاوية بن ابی سفیانؓ اقطعها مروان بن الحكم ثلثها واقطع عمر بن عثمانؓ ثلثها واقطع یزید بن معاوية ثلثها وذلك بعد موت حسن بن علیؓ فلم يزالوا يتداولونها حتىٰ خلصت كلها لمروان بن الحكم ايام خلافته۔

اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ کا طریقہ یہ تھا کہ فدک کی آمدنی اہلِ بیت رسولﷺ کی ضروریات پر خرچ کرتے تھے جو بچ رہتا وہ راہ خدا میں تقسیم کر دیتے پھر سیدنا عمرؓ سیدنا عثمانؓ اور سیدنا علیؓ کے عہد میں یہی معمول رہا پھر سیدنا امیر معاویہؓ کے عہد میں مروان نے تہائی فدک اپنے نام خاص کر لیا اور تہائی حصہ سیدنا عمر بن عثمانؓ نے اپنے لیے مخصوص کر لیا پھر تہائی یزید نے اپنے لیے خاص کر لیا یہ تمام حصے حسن بن علیؓ کی وفات کے بعد کئے گئے۔ پھر فدک دست بدست چلتا رہا حتیٰ کہ مروان کے عہد میں سارا فدک اس کے

قبضہ میں چلا گیا ۔

اسی قسم کا بیان فیض الاسلام شرح نہج البلاغہ مؤلفہ علی نقی جلد 5 صفحہ 960 پر ملتا ہے۔

خلاصہ

ابوبکرؓ غله و سودان آن را گرفته بقدر کفایت باہل بیت داد و خلفاء بعد هم بر آن اسلوب رفتار نمودند تازمان معاویہؓ که ثلث آں را بعد از امام حسنؓ بمروان داد۔

سیدنا ابوبکر صدیقؓ اس کا غلہ اہلِ بیت کو بقدر کفایت دیتے تھے ان کے بعد خلفاء نے یہی طریقہ طریقہ جاری رکھا سیدنا امیر معاویہؓ کے زمانے تک یہی طریقہ رہا پھر سیدنا حسنؓ کے بعد مروان نے ایک تہائی خود لے لیا۔

اسی طرح کی تفصیل شرح نہج البلاغہ میثم بحرانی صفحہ 543 پر ملتی ہے۔

صاحب درة النجفیہ ابنِ ابی الحدید علی نقی اور میثم بحرانی چاروں چوٹی کے شیعہ کے علماء نے شہادت دی کہ

(1) رسول کریمﷺ فدک کی آمدنی سے اہلُ و عیال کی ضرورت کے مطابق مال لے لیتے تھے باقی تقسیم کر دیتے تھے۔

(2) سیدنا ابوبکرؓ سیدنا عمرؓ سیدنا عثمانؓ اور سیدنا علیؓ نے بالکل وہی طریقہ جاری رکھا۔

صفحہ 5 از 20