تحقیق باغ فدک (مولانا اللہ یار خان) - ردِ رافضیت | دفاع…

تحقیق باغ فدک (مولانا اللہ یار خان)

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 6 از 20

(3)سیدنا امیر معاویہؓ کے زمانے میں مروان نے تہائی حصہ اپنے قبضہ میں کر لیا۔

(4) سیدنا علیؓ اور سیدنا حسنؓ فدک کے معاملہ میں نبی کریمﷺ اور خلفائے ثلاثہؓ کے ساتھ کلی طور پر متفق رہے۔

اس لیے اگر خلفائے ثلاثہؓ کو فدک کے بارے میں مجرم قرار دیا جائے تو سیدنا علیؓ کو اس جرم سے بری قرار دینے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی اس سلسلے میں حضرت انور شاہ کاشمیریؒ کا بیان خالی از فائدہ نہ ہوگا فرماتے ہیں۔

والحال ان علياؓ و عثمانؓ ايضا يمشيا على ما فعله الشيخان و حكى ان رافضيا ذهب عند السفاح الخليفة العباسی فقال انی مظلوم فاجرنی قال الخليفة من ظلمك قال ابوبکرؓ و عمرؓ في تركة النبیﷺ فسال الخليفة عند من الفدك بعد هما قال عند عثمانؓ قال ثم عند من قال عند علی وهكذا قال الخليفة فای خصوصية ابي بکر و عمی فسكت الرافضی الملعون فامر الخليفة بقطع رأسه فقطع وقد تكلم شراح البخاری في حديث الباب وقال السيد السمهودی ان نزاع فاطمةؓ لم يكن في تحصيل التركة و تملكها بل قول الوقف (عرف شندی 485) 

حال یہ ہے کہ سیدنا علیؓ اور سیدنا عثمانؓ بھی شیخینؓ کے طریقہ پر چلے اور بیان کیا گیا ہے کہ ایک شیعہ عباسی خلیفہ سفاح کے سامنے پیش ہوا اور فریاد کی کہ میں مظلوم ہوں میری داد رسی کیجئے خلیفہ نے پوچھا تجھ پرکس نے ظلم کیا ہے کہنے لگا سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ نے میراث نبویﷺ کے معاملے میں مجھ پر ظلم کیا خلیفہ نے پوچھا سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ کے بعد فدک کس کے پاس گیا کہنے لگا سیدنا عثمانؓ کے پاس پو چھا پھر؟ کہا سیدنا علیؓ کے پاس اسی طرح پے در پے جن جن کے پاس پہنچا خلیفہ نے کہا پھر اس ظلم میں سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کی خصوصیت کونسی ہے شیعہ سائل لاجواب ہوگیا خلیفہ نے اس کا سرقلم کرنے کا حکم دیا چنانچہ اس قتل کردیا گیا فدک کی حدیث میں بخاری کے شارحین نے کلام کیا ہے اور سید سمہودی نے کہا کہ سیدہ فاطمہؓ کا مطالبہ ترکہ کے حصول اور ملکیت کے بارے میں نہیں تھا بلکہ وقف کی تولیت کے بارے میں تھا۔

خلیفہ سفاح نے مظلوم کی داد رسی جس شکل میں کی اس کے متعلق تعجب تو ہوتا ہے مگر اس

کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ

(1) اس نے شیخینؓ پر بہتان لگایا اور انکی سیرت کو مجروح کیا۔

(2) اس کے اپنے بیان کے مطابق سیدنا علیؓ بھی مجرم ٹھہرتے ہیں۔

اور یہ حرکت قتل سے کم نہیں اس لیے اس کا قصاص لیا گیا اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ فدک کے بارے میں شیخینؓ پر بہتان لگانا سیدنا علیؓ کو بھی اسی جرم کا مرتکب قرار دینا ہے خواہ ان کا نام نہ لیا جائے کیونکہ چاروں خلفاء کا رویہ اس سلسلے میں وہی رہا جو نبی کریمﷺ نے اختیار فرمایا تھا۔

انبیاء علیہم السلام کی میراث

نبوت کے اعتبار سے انبیاء علیہم السلام دو حیثتیں رکھتے ہیں اول ظاہری جو قالب ہے دوم باطنی جو قلب ہے باطنی پہلو سے ملائکہ اور وحی کے ذریعے احکام خداوندی حاصل کرتے ہیں اور ظاہری حیثیت سے وہ احکام مخلوق تک پہنچاتے ہیں ظاہر کے اعتبار سے وہ فرشی ہوتے ہیں اور باطن کے اعتبار سے عرشی ہوتے ہیں فرشی کی حیثیت سے وہ انسانوں سے مشابہ ہوتے ہیں کھانا پینا بیماری صحت اہل وعیال وغیرہ انسانی اوصاف ہیں اور عرشی ہونے کی حیثیت سے ملائکہ سے مشابہت رکھتے ہیں کہ ان کے قلوب پر نہ غفلت طاری ہوتی ہے نہ نیند ان کے قلوب کا تعلق رب العالمین سے ہر وقت وابستہ رہتا ہے اسی وجہ سے انہیں لامتناہی علوم نبوت کا خزانہ ملتا ہے جب دنیا اور دولت دنیا کی غلاظت سے ان کے قلوب ملوث نہیں ہوتے ملائکہ سے مشابہت کی وجہ سے ان کے قلوب غفلت معصیت اور مال و دولت کی محبت سے پاک ہوتے ہیں ایک دل میں دو متضاد محبتیں جمع نہیں ہوسکتیں انبیاء کا خزانہ اور ان کی دولت علوم نبوت ہیں دنیوی مال و دولت سے ان کا تعلق عارضی اور وقتی ہوتا ہے جو محض حفاظت بدن اور اہل وعیال کے لیے ہوتا ہے چنانچہ مشکوٰۃ شریف میں نقل کیا گیا ہے۔

عن جبير بن نفير مرسلا قال قال رسول اللهﷺ ما اوحى الى ان اجمع المال واكون من التاجرین ولكن اوحی الى ان سبح بحمد ربك وكن من الساجدين واعبد ربك حتىٰ ياتيك اليقين۔ 

(صفحہ 444)

حضور اکرمﷺ نے فرمایاکہ مجھے یہ حکم نہیں دیا گیا کہ مال جمع کروں اور تاجروں میں شمار ہو جاؤں بلکہ مجھ پر یہ وحی کی گئی ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کی تسبیح اور حمد بیان کر اور سجدہ کرنے والوں میں سے ہوجا اور مرتے دم تک اپنے رب کی عبادت کر یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ سابقہ امتوں کی ہلاکت کا سبب دولت کی فراوانی تھی۔

دولت کے نشہ نے انہیں خدا سے دور کیا اور خدا نے انہیں عذاب میں مبتلا کیا تو جو چیز اللہ سے دور کرنے والی ہو وہ انبیاء کی میراث کیونکر بن سکتی ہے مال کی ایک صورت ازواجِ مطہرات کے سکونتی مکان تھے یہ امہات المومنین کی ذاتی ملکیت تھے ان کی ملک میں ہبہ مع قبضہ دیے گئے تھے جس کا قرآن مجیدہ شاہد ہے۔ 

وقرن في بيوتكن 

اور اپنے گھروں میں جمی رہو۔

بیوت کی نسبت حضور اکرمﷺ کی طرف نہیں بلکہ ازواجِ مطہرات کی طرف کی گئی ہے قرآن کی بیان کردہ اس حقیقت سے مسلمان بخوبی واقف تھے چنانچہ باجماع سنی وشیعه ثابت ہے کہ قرب وفات کے وقت سیدنا حسنؓ نے سیدہ عائشہؓ سے اس امر کی اجازت طلب کی کر روضہ رسولﷺ میں دفن کئے جائیں یہ مطالبہ اسی وجہ سے تھا کہ وہ مکان سیدہ عائشہؓ کی ذاتی ملکیت تھا حضرت سلیمانؑ اور ملکہ سبا کے معاملے میں یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کفار بھی اس حقیقت سے واقف تھے کہ انبیاء علیہم السلام مال جمع نہیں کیا کرتے چنانچہ ملکہ نے حضرت سلیمانؑ کی خدمت میں امتحاناً مال کثیر بھیجا تھا۔ 

انی مرسلة اليهم بھدية مناظرة بم يرجع المرسلون۔

اور اس کے جواب میں حضرت سلیمانؑ نے یہ فرمایا

اتمدون بمال فما اٰتنى الله خير مما اتاكم۔

لفظ میراث کے متعلق مختلف رائیں ظاہر کی گئی ہیں مثلاً 

1۔ لفظ میراث مشترک ہے مال علم اور منصب میں۔

2۔ میراث حقیقت لغوی ہے مال میں اور مجاز ہے علم میں۔ 

شیعہ حضرات کا مؤقف یہ ہے کہ وارثت مال میں حقیقت ہے اور علم میں مجاز ہے اور حقیقت کو ترک کر کے مجاز کی طرف جانے کی ضرورت نہیں۔ 

اہلِ سنت کہتے ہیں کہ یہ لفظ مشترک ہے مال علم اور منصب میں علامہ آلوسی کہتے ہیں۔

صفحہ 6 از 20