تحقیق باغ فدک (مولانا اللہ یار خان) - ردِ رافضیت | دفاع…

تحقیق باغ فدک (مولانا اللہ یار خان)

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 7 از 20

لا نسلم کون الميراث حقيقة لغوية في المال بل هی حقيقة فيما یعم وراثة العلم والمنصب (نبوت) والمال وانما صارت لغلبة الاستعمال في عرف الفقهاء مختصة بالمال كالمنقولات العرضية ولو سلمنا ان الميراث مجاز فی العلم فهو مجاز متعارف مشهور خصوصا فی استعمال القراٰن المجيد بحيث یساوى الحقيقة۔ 

(روح المعانی: جلد 17 صفحہ 67) 

وراثت کا حقیقت لغوی ہو ہم تسلیم نہیں کرتے بلکہ یہ حقیقت عام ہے جو علم منصب اور مال کو بھی شامل ہے بات صرف اتنی ہے کہ غلبۂ استعمال کی وجہ سے عرف فقہاء میں مال سے مختص ہو گئی ہے جیسے دوسری منقولات عرضیہ کا معاملہ ہے اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ میراث مال میں حقیقت ہے اور علم میں مجاز ہے تو پھر بھی وہ مجاز متعارف و مشہور ہے بالخصوص استعمال قرآنی میں تو حقیقت کے مساوی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ میراث کو مال سے مختص کرنا قرآن کے خلاف ہے مثلاً ارشاد ربانی ہے۔

ثم اورثنا الكتاب الذين اصطفينا من عبادنا۔

فخلف من بعدهم خلف ورثوا الكتاب۔

3۔ ان الذين اورثوا الكتاب من بعدهم۔

 ان آیات میں یہ لفظ علمی میراث کیلئے بولا گیا ہے اس کے علاوہ قبضہ ملکی پر بھی قرآنِ حکیم میں میراث کا لفظ استعمال ہوتا ہے جیسے۔

أن الارض لله يورثها من يشاء من عباده۔

2۔ لله ميراث السمٰوٰت والارض۔

شیعہ کا استدلال یہ ہے کہ میراث کا لفظ مال مکتب کیلئے بولا جاتا ہے جو وارث کو بلا کسب ملتا ہے اور علم کسبی چیز ہے مذکورہ بالا دو آیتیں اس استدلال کو رد کرتی ہیں آیت اول کسب کے قصے کی تردید کرتی ہے لفظ میراث موجود ہے مگر کسب موجود نہیں دوسری آیت پر شیعہ کے استدلال کی روشنی میں غور کیا جائے تو ماننا پڑے گا کہ زمین و آسمان کسی اور ہستی کے مال مکتسب تھے جس کے مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کو بلا کسب وراثت میں ملے کیا کوئی ذی ہوش انسان یہ سوچ سکتا ہے معلوم ہوا کہ وراثت کا لفظ اس چیز پر بولا جاتا ہے جو بلا قیمت اور بغیر احسان کے حاصل ہو جائے۔ جیسا کہ امام راغب نے لکھا ہے۔

واستعمل لفظ الوراثۃ لكون ذلك بغير ثمن ومنۃ۔

(مفردات صفحہ 540)

شریف مرتضیٰ علم الهدی نے شافی میں یہ نکتہ اٹھایا ہے کہ لفظ میراث جب مطلق بولا جائے تو مراد مالی میراث ہوتی ہے اس اصول کو صاحب اصول کافی نے رد کیا ہے

چنانچہ اصول کافی صفحہ53 پر لکھا ہے۔

قال ابو عبد اللّٰه عليه السلام ان سلیمانؑ ورث داؤدؑ وان محمد اورث سلیمانؑ۔

سیدنا جعفرؓ نے فرمایا حضرت سلیمانؑ حضرت داؤدؑ کے وارث ہوئے اور حضرت محمدﷺ حضرت سلیمانؑ کے وارث ہوئے۔

 یہاں لفظ ورث مطلق استعمال ہوا ہے اگر شریف مرتضیٰ کا استدلال درست ہے تو یہ بتایا جائے کہ حضرت سلیمانؑ سے صدیوں بعد حضور اکرمﷺ کو ان کا کونسا مال ورثے میں ملا تھا ظاہر ہے کہ اس سے مراد علومِ نبوت اور منصبِ نبوت ہے حقیقت یہ ہے کہ انبیاء علیہم اسلام کی علمی میراث پر متقدمین سنی اور شیعہ متفق ہیں بعد کے شیعہ نے انبیاء علیہم اسلام کی مالی میراث کا عقیدہ ایجاد کیا ہے چنانچہ اصول کافی صفحہ 8 باب العالم والمتعلم میں صاف لکھا ہے۔

1۔ عن ابى عبد الله قال قال رسول اللهﷺ أن العلماء ورثة الانبياء ان الانبياء لم يورثوا دينارا ولا درهما ولکن اورثورا العلم فمن اخذ منه اخذ بحظ وافر۔

ترجمہ: سیدنا جعفر نے فرمایا نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے کہ علماء انبیاء کے وارث ہوتے ہیں انبیاء درہم و دینار کا وارث نہیں بناتے لیکن علم کا وارث بناتے ہیں۔ جس نے علم حاصل کیا اس نے بہت بڑا حصہ حاصل کیا۔

 2۔ اصول کافی صفحہ 7 باب صفت العلم

عن ابی عبد الله قال ان العلماء ورثة الانبياء وذلك ان الانبياء لم يورثوا درهما ولا دينارا وانما اورثوا احادیث من احاديثهم فمن اخذ بشئ منه فقد اخذ خطا وافرا۔

سیدنا جعفر فرماتے ہیں کہ علماء وارث ہیں انبیاء کے یہ اس وجہ سے ہے کہ انبیاء کرام درہم و دینار کا وارث نہیں بناتے سوائے اس کے نہیں کہ وہ اپنی احادیث کا وارث بناتے ہیں پس جس نے حدیث سے کچھ لے لیا اس نے بڑا حصہ پالیا۔

من لا يحضره الفقيه جلد 2 صفحہ 346 سیدنا علیؓ نے اپنے بیٹے سیدنا محمد بن حنفیہ کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا۔

تفقه في الدين فان الفقها ورثة الانبياء ان الانبياء لم يورثوا دينارا ولا درهما ولكنهم ورثوا العلم فمن اخذ منه اخذ بخط وافر۔

بیٹا دین کا فہم حاصل کر حقیقت یہ ہے کہ فقہاء ہی انبیاء کے وارث ہوتے ہیں کیونکہ انبیاء درہم و دینار کا وارث نہیں بناتے لیکن علم کا وارث بناتے ہیں جسں نے علم حاصل کیا اس نے بہت بڑا حصہ حاصل کیا۔ 

ان احادیث میں دو لفظ خاص طور پر قابل غور ہیں اول "انما" جو کلمہ حصر ہے دوم "لکن" جو دفعہ وہم کے لیے ہے کیونکہ "ان الانبياء لم يورثوا دينارا ولا درهما" سے یہ وہم پیدا ہوسکتا تھا کہ انبیاء کی کوئی میراث سرے سے ہوتی ہی نہیں اس لیے "لکن" سے اس وہم کو دور کیا گیا کہ میراث تو ہوتی ہے مگر مالی نہیں بلکہ علومِ نبوت اور ان کی احادیث یہاں ایک اور وہم پیدا کیا جاتا ہے کہ ہاں یہ درست ہے کہ نفی درہم و دینار کی ہے زمین مکان اور جائیداد کی نفی نہیں مگر "لکن" کے لفظ سے ہر قسم کے وہم کو دور کردیا گیا اگر زمین مکان وغیرہ انبیاء کی میراث ہوتی تو کلام یوں ہونا چاہیے تھا "ولکن اورثوا العلم والدار و الارض والبساتين" مگر حدیث میں "ولکن اورثوا العلم" کہ کر بات صاف کر دی کہ علم کے بغیر کوئی اور میراث ہوتی ہی نہیں۔ 

صفحہ 7 از 20