تحقیق باغ فدک (مولانا اللہ یار خان) - ردِ رافضیت | دفاع…

تحقیق باغ فدک (مولانا اللہ یار خان)

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 8 از 20

پھر عربی زبان میں لفظ "انما" حصر کے لیے بولا جاتا ہے یعنی اپنے متصل یا بعد کو اس کے ما بعد پر بند کر دیا ہے اس لیے "انما اورثوا احادیث من احادیثہم" میں میراثِ نبوت کو احادیث میں بند کر دیا یعنی میراث انبیاء ان کی احادیث کے علاوہ کوئی دوسری چیز سرے سے ہے ہی نہیں ورنہ انما کا حصر باطل ہوگیا اور اس کا کوئی مطلب ہی نہ رہا اس علمی جواب سے ہٹ کر اگر محض عقلی طور پر سوچا جائے تو صاف ظاہر ہے کہ سونے چاندی کی نفی سے مراد دنیا کی ہر قسم کی دولت کی نفی ہے یہی دو چیزیں دولت دنیا کی اصل ہیں انہیں سے جائداد خریدی جاتی ہے اور جائداد بیچ کر سونا چاندی حاصل کرتے ہیں اس لیے سونا چاندی کی نفی سے دنیوی دولت سے دنیوی دولت کی نفی ہوگئی خواہ وہ جائیداد غیر منقولہ ہی کیوں نہ ہو۔ کیا سونا چاندی ہی دولت دنیوی ہیں اور مکان زمین جاگیر دولت اخروی ہیں اگر ایسا نہیں تو زمین اور جائداد کو دنیوی دولت سے مستثنیٰ کرنے کی آخر وجہ کیا ہے؟ ایک اور سوال اٹھایا جاتا ہے کہ علماء تو انبیاء کے علم کے وارث ہوتے ہیں مگر مال کے وارث ان کے قرابتدار ہوتے ہیں پہلی بات یہ ہے کہ انبیاء جب مالی میراث چھوڑتے ہی نہیں تو قرابتداروں کو مالی میراث ملے گی کیا؟ دوسری بات جو ذرا نازک ہی ہے کہ علوم نبوی جو جبریلؑ کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے ملتے ہیں وہ تو لے جائیں اغیار اور قرابتداروں کے حصہ میں وہ چیز آئے جو گھٹیا چند روزہ خدا سے دور کرنے والی اور تباہی کی طرف لے جانے والی ہے۔ یہ تقسیم کا اصول خاندان نبوت کے ساتھ مذاق نہیں تو اور کیا ہے۔ 

اصول کافی کی احادیث سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ متقدمین شیعہ اس حقیقت پر ایمان رکھتے تھے کہ انبیاء کی مالی میراث کوئی نہیں ہوتی۔ بعد والوں نے ہنگامہ آرائی کیلئے اس میں ایک نئی راہ نکال لی چنانچہ شیعہ محدث سید نعمت اللہ جزائری نے انوار نمانیہ جلد 1 صفحہ 33 پر لکھا ہے۔

ان الانبياء من حيث النبوة لم يورثوا الا العلم واما من حيث الانسانية والبشرية فيجوز ان يخلفوا شيئا من الاموال۔

یقیناً انبیاء باعتبار نبوت کے علم کے بغیر کسی چیز کا وارث نہیں بناتے مگر باعتبار بشریت کے مالی ورثہ چھوڑ جاتے ہیں محدث صاحب کی نکتہ آفرینی قابل داد ہے مگر اس کے کئی پہلو قابل غور ہیں ۔ 

(1) محدث صاحب کا قول اصول کافی میں بیان کردہ احادیث کے مخالف ہے اور اصول کافی امام غائب کی مصدقہ کتاب ہے۔ 

(2) یہ نکتہ محدث صاحب کی ذاتی رائے ہے اور اصول کافی کی ایک روایت رسول خداﷺ کی حدیث ہے جس کے راوی سیدنا جعفر ہیں دوسری روایت سیدنا جعفر کا قول ہے۔

اور تیسری سیدنا علیؓ کا قول ہے اس لیے اگر محدث صاحب کا مقام رسول خداﷺ اور ائمہ معصومین سے بلند تر ہے تو اسے مان لو ورنہ اسے ٹھکرانا ہی پڑے گا۔

(3) نبوت اور بشریت پر غور کیا جائے تو یہ ماننا پڑے گا کہ بشریت پہلے تھی نبوت بعد میں ملی اور بشریت پر نبوت کا غلبہ ہوگیا اور ایسا ہونا چاہیے تھا اگر بشری اوصاف ہو تابع نفس بشری ہیں بعد نبوت بھی باقی رہیں  تو نبیﷺ سے نفسانی خواہشات کے تحت گناہ کا صدور مثلاً زنا چوری قتل جھوٹ حرام کھانا دھوکہ دینا عبادت میں کوتاہی کرنا وغیرہ کی تقسیم کرنا پڑے گا اگر یہ تسلیم نہ کیا جائے تو مال جمع کرنا جو تابع نفس بشری ہے اسے کیوں تسلیم کیا جائے اگر اول الذکر اوصاف نفسانی بدل گئے تو مال جمع کرنے کا نفسانی وصف کیوں نہ بدل گیا اس لیے حقیقت یہ ہے کہ اوصات بشری بدل گئے اوصاف ملکی پیدا ہوگئے مگر اوصاف کے بدلنے سے ذات اور ماہیت نہیں بدلی نبی بشر ہوتا ہے اور بشر ہی رہتا ہے مگر اس کے اوصاف بشری جو تابع نفس ہوتے ہیں بدل جاتے ہیں اس لیے جہاں دوسرے اوصاف بدلے وہاں مال جمع کرنے کا تابع نفس وصف بھی بدل گیا جب مال جمع کرنے کا وصف باقی نہ رہا تو مال پیچھے چھوڑ جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

متأخرین شیعہ نے اصول کافی کی روایات کا توڑ ایک اور نکال لیا کہ حدیث کے رواۃ میں ایک راوی ابو البختری ہے اور وہ اکذب الناس ہے۔ اس لیے اس اس کی روایت کردہ حدیث بھی جھوٹی اور موضوع ہے قابل تمسک نہیں۔ صاحب فلک النجاۃ نے یہی بیان کیا ہے۔ 

یہ اصول تو درست ہے کہ راوی اکذب الناس ہو تو حدیث قابل تمسک نہیں ہوتی مگر اس اصول کا اطلاق یہاں نہیں ہو سکتا اس کی وجہ یہ ہے کہ حدیث اصول کافی میں پائی جاتی ہے اور اصول کافی کا مقام شیعہ دینیات میں یہ ہے۔

(1) یہ کتاب غیبت صغریٰ کے زمانے میں سفیروں کے ذریعے امام مہدی کے سامنے پیش کی گئی تھی اور امام نے اس کتاب کی تصدیق ان الفاظ میں کی کہ "ھذا کاف لشیعتنا" اس لیے خواہ راوی جھوٹا ہو اس کتاب میں درج شدہ روایت کی تصدیق جب امام نے کر دی تو اس کی تکذیب دراصل امام مہدی کی تکذیب ہے۔ اس لیے لوگ جو اصول کافی کی حدیث کی تکذیب کرتے ہیں وہ حقیقت میں امام مہدی کی تکذیب کرتے ہیں خدا جانے شیعہ امام معصوم کے انکار اور اس کی تکذیب کی جرات کیسے کرتے ہیں۔ 

(2) علامہ قزوینی نے اصول کافی کی حیثیت یوں بیان کی ہے۔

الحق کتاب کافی عمدہ کتب احادیث اہلِ بیت علیهم السلام است و مصنف آن ابو جعفر محمد بن یعقوب بن اسحاق رازی کلینی که مخالفاں نیز اعتراف بکمال فضیلت او نموده انداز روئے احتیاط تمام آنرا در بیست سال تصنیف کرده در زمان غیبت صغریٰ حضرت صاحب الزمان علیہ وعلی آلہ صلوات الرحمن که شعت ونہ سال بوده دوراں زمان مومناں عرض مطلب می کردند بتوسط اسفراء یعنی خبر آورندگان از آنحضرت و ایشان چهارکس بوده اند بترغیب ایشان و کلائے بسیار بوده اندکه اموال از شیعہ امامیه گرفتندومی رسانیدند ومحمد بن یعقوب در بغداد نزدیک بوده  و درسال فوت آخر سفرا ابو الحسن علی بن محمد السمری که سال سه صد وبیست و نو بجری با شد فوت شده یا یک سال قبل ازاں پس می تواند بود که این کتاب مبارک بنظر اصلاح آں حجت خدا تعالیٰ رسیده باشد۔

(صافی شرح اصول کافی جلد1 صفحہ 4)

صفحہ 8 از 20