تحقیق باغ فدک (مولانا اللہ یار خان) - ردِ رافضیت | دفاع…

تحقیق باغ فدک (مولانا اللہ یار خان)

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 9 از 20

حقیقت یہ ہے کہ "کافی" اہلِ بیت کی کتب احادیث میں سے عمدہ کتاب ہے اس کا مصنف ابوجعفر محمد بن بعد یعقوب رازی کلینی ہے جس کے کمال کا اعتراف اس کے مخالف بھی کرتے ہیں نہایت احتیاط سے 20 سال میں یہ کتاب مکمل کی غییت صغریٰ کے زمانے میں جو 69 برس تھا چار سفیروں کے ذریعے امام غائب سے لوگ بات چیت کرتے تھے محمد بن یعقوب بغداد میں سفراء کے پاس رہتا تھا آخری سفیر ابوالحسن علی بن محمد السمری کا سال وفات 321 ھجری ہے اس لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ کتاب امام غائب کے پاس بتوسط سفرا بھیجی گئی انہوں نے اس کی اصلاح کی اس طرح یہ کتاب در حقیقت خدا تعالےٰ کی طرف سے دین میں سند کی حیثیت رکھتی ہے۔

 من لا یحضر لا انعقیہ کی فارسی شرح کے مقدمہ میں فائدہ 11 کے تحت اصول کافی کے متعلق لکھا ہے۔

دہم چنیں احادیث مرسلہ محمد بن یعقوب کلینی و محمد بن بابویہ قمی بلکہ جمیع احادیث ایشان که در کافی و من لا یحضره الفقیه همه را صحیح می تواند خواند زیرا که شهادت این دو شیخ بزرگوار کمتر از شهادت اصحاب رجال نیست یقینا بلکه بنتر است.

اسی طرح محمد بن یعقوب کلینی اور محمد بن بابویہ قمی کی تمام احادیث جو کافی اور من لا یحضرہ الفقیہ میں ہیں سب کو صحیح کہا جا سکتا ہے کیونکہ ان دور مشائخ کی شہادت اصحاب رجال کی شہادت سے کم نہیں بلکہ یقیناً اس سے بڑھ کر ہے۔

اصول کافی کے متعلق ان دو عظیم گواہوں کی شہادت کافی ہے کہ اس کی کوئی حدیث غلط نہیں علامہ خلیل قزوینی تو یہاں تک کہتے ہیں کہ محمد بن یعقوب کلینی خو دامام غائب کو ملا ہے ان سے احکام سنے ہیں معلوم ہوتا ہے خود یہ کتاب امام کے پیش کی تصدیق کرائی ۔

(کتاب الفصل جزو اول صفحہ 37)

وشاید این سه قول را مصنف رحمہ اللہ خوداز صاحب زمان شنیده باشدد ایں قصه را معلوم کرده شد و ظاهر سیاق کلام مصنف در کتاب الی آخر ایں است که مصنف بخدمت او علیه السلام رسیده باشد۔

شاید مصنف نے یہ تین قول امام غائب سے سنے ہوں گے اور یہ قصہ معلوم کر لیا ہوگا سیاق کلام سے ظاہر ہوتا ہے کہ مصنف خود امام غائب کی خدمت میں پہنچا ہے۔ مصنفِ اصول کافی کا یہ مقام کے سفراء کے واسطہ کے بغیر خود امام غائب سے ملاقات کی اور کتاب اصول کافی کا یہ مقام کہ امام صاحب الزمان نے اس کی تصدیق کی مہر ثبت کردی پھر اس کتاب کی کسی حدیث کی تکذیب کرنا درحقیقت امام مہدی کی تکذیب کرتا ہے۔ 

شیعہ محدثین اور متکلمین نے رواۃ حدیث کے مقام اور مرتبہ کے تعین کے سلسلے میں ایک اصول مقرر کیا ہے اس اصول کے تحت ابو البختری کی روایت تو صحیح چھو راصح ثابت ہوتی ہے اس اصول کا ذکر انوار نعمانیہ جلد 2 صفحہ384 میں ان الفاظ میں ہوا ہے۔

کما اتفق ذلك في كثير من خواص الأئمة محمد بن سنان و جابر جعفی ممن اتهمهم اهل الرجال بالغلو وارتفاع القول وذلك لان الأئمة عليهم السلام القوا اليهم من اسرار غلومهم مالم يحدثو اغيرهم من الشيعة فاستغرب الشيعة تلك الاخبار لونھم موافقة غيرهم لهم على روايتهم فطعنوا عليهم بهذا السبب وهذا السبب هو سبب رفعتهم وعلو درجاتهم عند مواليهم فما فيه الجرح فهو الذي فيه المدح وقد حققنا هذا المقام في شرح على الاستبصار۔

جیسا کہ یہ چیز اللہ سے بہت سے خواص میں واقع ہوئی ہے جیسے محمد بن مسنان جابر جعفی جن کو علمائے رجال نے غلو اور ارتفاع قول کے ساتھ متہم کیا ہے یہ اس وجہ سے ہے کہ ائمہ نے ان راویوں کو اپنے علوم کے ایسے اسرار بتائے تھے جو ان کے بغیر کسی شیعہ کو نہیں بتائے تھے شیعہ نے ان باتوں کو عجیب سمجھا کیونکہ وہ دوسروں کے اقوال کے مطابق نہیں تھیں اس وجہ سے ان پر طعن کیا۔ مگر یہی طعن ائمہ کے دوستوں کے نزدیک ان کی رفعت اور بلندی درجات کا سبب ہے  پس جس حدیث میں ان کی جرح یا قدرت یا ذم بیان ہوا درحقیقت وہی

ان کی مدح ہے جیسا کہ ہم نے شرح استبصار میں اس کی تحقیق کی ہے۔

رجال کشی میں یہ اصول ذرا وضاحت سے بیان ہوا ہے۔

عن عبد الله بن زرارة قال قال لي ابوعبدالله اقرأ منى على والدك السلام وقل له اني انا اعبيك وذالحامنى عنك فان الناس والمھد ويسارعون الى كل من قربناه وحمدنا مكانه  لاد خال الأذٰى في من نحبه ونقربہ ویرمونه بمجتناله وقربة ونوه منا ويرمون ادخال الأذٰى عليه وقتله ويحمدون كل من عيبناه نحن فانما اعيبك لانك رجل اشتهرت بنا وبميلك الينا وانت في ذلك مذموم عند الناس غير محمود الاثر بمودتك لنا و سيلك الينا فاجبت ان اعيبك ليحمد وأمرك في الدين و بعيبك و نقصك ويكون بذالك منا رافع شبرهم  عنك يقول الله تعالى اما السفنية فكانت لمساكين يعملون في البحر فاردت ان اعبيها الى ان قال تافهم المثل يرحمك الله فانك احب الناس إلى واحب اصحاب الى حيادميتا فانك افضل السفن ذلك البحر لقمقام الزاحزوان من ورائك ملكا ظلوما غصو با يرقب عبور كل سفينة سالحة نزد من بحر الهدی لیا خذ ها غصبا۔ (صفحہ 92)

ابنِ زرارہ سے روایت ہے کہ سیدنا جعفر صادق نے مجھے فرمایا کہ اپنے والد کو میرا سلام کہنا اور اسے کہنا کہ میں تیری مدافعت کے لیے تجھ پر عیب لگاتا ہوں کیونکہ عام لوگ اور دشمن اس شخص پر جپھٹتے ہیں جو ہمارے قریب ہو یا ہم اس کی تعریف کریں۔ ہم جس سے محبت کرتے ہیں یہ لوگ اسے ایذا دینے اور قتل کرنے کے درپے ہو جاتے ہیں اور ہم جس کے عیب بیان کرتے ہیں اسے یہ لوگ اچھا سمجھتے ہیں۔ میں صرف میں صرف اسی وجہ سے تیرے عیب بیان  کرتا ہوں کہ تو ہماری محبت اور ہماری طرف قلبی میلان کے سلسلے میں مشہور ہوچکا ہے اس لیے لوگ تجھے برا سمجھتے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ تیرے عیب بیان کروں تاکہ لوگ تیری  تعریف کریں اور تجھے دینی اعتبار سے اچھا سمجھیں یہ چیز تمہیں ان کے شر سے بچانے کا کام دے گی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کشتی مسکینوں کی تھی جو سمندر میں مزدوری کرتے تھے میں نے چاہا اسے عیب دار بنا دوں الخ اللہ تجھ پر رحم کرے خوب سمجھ لے کہ تو بھی اس کی مانند ہے تو میرا اور میرے اصحاب کا محبوب ہے زندگی میں بھی اور بعد موت بھی تو اس بحر مواج میں بہترین کشتی ہے اور تیرے پیچھے ایک ظالم بادشاہ لگا ہوا ہے جو ہر اچھی کشتی کی تاک میں بیٹھا ہے جو ہدایت کے سمندر میں وارد ہوتی ہے تاکہ اس پر غاصبانہ قبضہ کرلے۔ 

صفحہ 9 از 20