جنگ عراق کے لیے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی امارت
علی محمد الصلابیفتوحات عراق کا یہ تیسرا مرحلہ ہے جس کا آغاز 14 ہجری میں حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کی امارت سے ہوتا ہے۔ ایک طرف ہجرت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چودھواں سال شروع ہو رہا ہے اور دوسری طرف سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ مسلمانوں کو اہل فارس سے جنگ کرنے پر ابھار رہے ہیں۔ اس سال کے محرم کی پہلی تاریخ کو مدینہ سے اسلامی لشکر لے کر آگے آگے چلتے ہیں۔ ’’صرار‘‘(’’صرار‘‘ مدینہ سے تین میل کی دوری پر ایک جگہ ہے۔ معجم البلدان: جلد 3 صفحہ 398) نامی ایک چشمہ پر آ کر ٹھہر جاتے ہیں اور بہ نفس نفیس جنگ عراق میں شرکت کا عزم مصمم لے کر یہاں لشکر کے ساتھ پڑاؤ ڈالتے ہیں۔ مدینہ میں سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو اپنا نائب چھوڑا ہے اور ساتھ میں سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اور دیگر بزرگ و ممتاز صحابہؓ ہیں۔ اپنے عزم و فیصلہ کے متعلق صحابہ سے مشورہ لینے کے لیے ایک مجلس منعقد کرتے ہیں۔ ’’ الصَّلَاۃُ جَامِعَۃٌ‘‘ کی ندا لگائی گئی اور حضرت علیؓ کو مدینہ سے بلا بھیجا پھر آپ نے سب سے مشورہ طلب کیا کہ جنگ میں میری شرکت کیسی ہے؟ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے علاوہ سب نے آپؓ کی شرکت کی تائید کی۔ حضرت عبدالرحمٰنؓ نے کہا کہ: مجھے ڈر ہے کہ اگر کہیں آپؓ کو کوئی زک پہنچ گئی تو سارے مسلمان کمزور پڑ جائیں گے۔ میری رائے ہے کہ آپ اپنی جگہ پر کسی دوسرے شخص کو امیر بنا دیں اور خود مدینہ واپس لوٹ جائیں پھر دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم نے بھی عبدالرحمٰن بن عوفؓ کی فکر سے اتفاق کیا، خود حضرت عمرؓ نے بھی اسے بہتر سمجھا۔ لیکن آپ نے حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ سے پوچھا: پھر آپ کی رائے میں کس کو امیر بنایا جائے؟ انہوں نے کہا: میں نے پا لیا۔ آپؓ نے پوچھا: کون؟ انہوں نے کہا: کچھار کا شیر، حضرت سعد بن ابی وقاصؓ، حضرت عمرؓ نے عبدالرحمٰنؓ کی بات کو پسند کیا اور سعدؓ کو نجد سے بلا کر جنگ عراق کا امیر بنا دیا۔
(ترتیب وتہذیب البدایۃ و النہایۃ: صفحہ 96)