حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی وصیت
علی محمد الصلابیجب سعدؓ مدینہ پہنچے تو حضرت عمرؓ نے انہیں جنگ عراق کا امیر مقرر کرتے ہوئے فرمایا: ’’اے سعد! اے بنو وہیب کی سعادت! اس بات پر کبھی گھمنڈ نہ کرنا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ماموں اور آپﷺ کے صحابی ہو، اللہ تعالیٰ برائی کو برائی سے نہیں نیکی سے مٹاتا ہے اور اللہ اور اس کے بندے کے درمیان رشتہ اطاعت کے سوا دوسرا کوئی رشتہ نہیں، اللہ کی نگاہ میں ادنیٰ و اعلیٰ سب برابر ہیں، اللہ سب کا رب ہے اور سب اس کے بندے ہیں، طہارتِ نفس و تقویٰ میں ایک کو دوسرے پر فضیلت ہے، اللہ کی رضا مندی صرف اس کی اطاعت پوشی میں ہے، اپنی بعثت سے لے کر ہم سے جدا ہونے تک نبی کریمﷺ کی جو سنت رہی ہے ہر مسئلہ میں اسی پر نظر رکھنا کیونکہ وہی اصل دین ہے۔ یہی میری تم کو نصیحت ہے اگر تم اسے نہیں مانو گے اور اس سے اعراض کرو گے تو نقصان اٹھاؤ گے۔
(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 306) خلیفہ راشد، عظیم خلیفہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی یہ بلیغ نصیحت ہے، آپؓ نے سعدؓ کی اس کمزوری کو پکڑ لیا جس سے وہ دھوکا کھا سکتے تھے اور وہ یہ کہ نبی اکرمﷺ سے ان کا قریبی تعلق کہیں ان کے لیے دیگر مسلمانوں پر گھمنڈ کرنے کا سبب نہ بنایا جائے۔ لہٰذا آپ نے ایسے عام اسلامی اصول کا حوالہ دیا جو اس دنیا میں مسلم فرد کی کرامت و برتری کا معتبر پیمانہ ہے۔ فرمایا: اللہ سب کا رب ہے اور سب اس کے بندے ہیں۔ صرف طہارت نفس سے ایک دوسرے پر فضیلت ملتی ہے اور اطاعت شعاری سے اللہ کی رضا حاصل ہوتی ہے۔ گویا آپ یہ کہنا چاہتے تھے کہ گناہوں سے دوری اور اطاعت کو شی بلفظ دیگر صرف تقویٰ میں ایک کو دوسرے پر برتری حاصل ہو سکتی ہے اور اسی کا نام تقویٰ ہے اور وہی فضیلت و برتری کا الہٰی میزان ہے۔ ارشاد الہٰی ہے
اِنَّ اَكۡرَمَكُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ اَتۡقٰٮكُمۡ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌ خَبِيۡرٌ ۞ (سورۃ الحجرات: آیت 13)
ترجمہ: ’’اللہ کے نزدیک تم میں سے زیادہ معزز وہ ہے جو تم میں سے زیادہ متقی ہو۔‘‘
پس تقویٰ و طہارت نفس ہی سچی و بابرکت میزان ہے اگر مسلمان رب کی رضا اور اخروی سعادت کے حصول کے لیے کوشش کرے تو تقویٰ کی اس منزل تک پہنچنا اس کے لیے نہایت ممکن و آسان ہے۔ حضرت عمرؓ نے نصیحت کے آخر میں فرمایا کہ ہر مسئلہ میں نبی کریمﷺ کی جو سنت رہی ہے اسی پر عمل کرنا، آپ کی یہ نصیحت دین کے تمام احکامات کی بجا آوری اور عملی زندگی میں اس کے مکمل نفاذ کو شامل ہے۔
(التاریخ الإسلامی: جلد 10 صفحہ 362)