مذکورہ فاروقی نصیحت میں چند عبرت آموز باتیں
علی محمد الصلابیکسی مسلمان کا حق بات پر جمے رہنا اسے مشکلات سے نجات دلاتا ہے، کیونکہ جو حق کو لازم پکڑتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہوتا ہے اور جو اللہ کے ساتھ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اپنی نصرت و تائید کا یہ شعور و احساس اسے زیادہ سے زیادہ حسن عمل اور مشکلات و مصائب سے نمٹنے کی عظیم قوت عطا کرتا ہے۔ مزید برآں حق بات پر قولاً و عملاً جمے رہنے والے انسان کو قلبی سکون و اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ اس کے برخلاف جو شخص حق اور حقانیت کے راستے سے ہٹ جاتا ہے وہ طرح طرح کی بے چینیوں اور آلام و مصائب کا شکار ہوتا ہے، مثلاً خود اس کا ضمیر اسے ملامت کرتا ہے، اسے ہمیشہ لوگوں کے محاسبہ کا ڈر رہتا ہے، وہ نہیں جانتا کہ اس بے اعتدالی کے نتیجے میں اس کا مستقبل کیا اور کیسا ہو گا؟
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنی نصیحت میں فرمایا کہ ’’خیر کا ہتھیار صبر ہے۔‘‘ ایسا اس لیے کہ خیر اور حسن عمل کا راستہ فرش مخمل بچھا ہوا جیسا راستہ نہیں ہے بلکہ بہت تنگ اور خاردار ہے۔ اس پر چلنے کے لیے طویل جہد و مشقت کی ضرورت ہے۔ اس پر گزرنے والے کو ہر مصیبت پر صبر کے لیے تیار رہنا چاہیے ورنہ درمیان راستہ ہی میں وہ دم توڑ دے گا۔
آپ نے یہ بھی فرمایا کہ: ’’اللہ کی خشیت اس کے احکامات کی اطاعت اور معاصی کے اجتناب سے پیدا ہوتی ہے۔ ‘‘پھر وضاحت کی کہ اللہ کی اطاعت پر ابھارنے والی سب سے بڑی چیز دنیا سے نفرت اور آخرت سے محبت ہے اور گناہوں پر اکسانے والی سب سے بڑی چیز دنیا کی محبت اور آخرت سے نفرت ہے۔
پھر آپ نے فرمایا کہ دلوں کے مخصوص حقائق اور حالتیں ہوتی ہیں کچھ کا تعلق ظاہر سے ہوتا ہے، اس کی مثال دیتے ہوئے آپؓ نے بتایا کہ غصہ کی حالت ہو یا خوشی کی بہر صورت لوگوں کے ساتھ حق کا معاملہ کیا جائے اور اس پر قائم رہا جائے۔ لوگوں کی تعریف و خوشامد حق کے نفاذ میں اور مجرم کو سزا دینے میں آڑے نہ آئے یا لوگوں کی زبان سے اس کی مذمت لوگوں پر ظلم ڈھانے اور انہیں حق سے محروم رکھنے کا سبب نہ بنے۔
دل کے پوشیدہ حقائق کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ خیر کی علامت یہ ہے کہ مسلمان کے دل سے حکمت کی بات اس کی زبان پر آ جائے اور اپنے مسلم بھائیوں کے درمیان وہ محبت و عزت کی نگاہ سے دیکھا جائے، کیونکہ جب سچے مسلمانوں کی محبت و عزت اسے ملے گی تبھی اسے معلوم ہو گا کہ اللہ اس سے راضی ہے۔ اس لیے کہ جب اللہ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اسے اپنے بندوں کی نگاہوں میں محبوب بنا دیتا ہے۔
,(التاریخ الإسلامی: جلد 10 صفحہ 364) اس مقام پر قابل غور بات یہ ہے کہ جب حضرت سعد بن ابی وقاصؓ جیسی جنت کی بشارت یافتہ شخصیت کو حضرت عمر فاروقؓ کے ان گہر بار نصائح کی ضرورت تھی تو آج ہم جیسے مسلمانوں کو اس کی کتنی سخت ضرورت ہے؟ جب کہ ان کے مقابلے میں اسلامی تعلیمات کو سمجھنے اور اس کی بجا آوری میں ہم کافی کوتاہ واقع ہوئے ہیں۔
(التاریخ الإسلامی: جلد 10 صفحہ 365)