Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ عراق میں اور مثنیٰ رضی اللہ عنہ کی وفات

  علی محمد الصلابی

 حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اپنا لشکر لے کر آگے بڑھے اور نجد کے ’’زرود‘‘( ’’زرود‘‘ عراق کے راستے سے آنے والے حجاج کے راستے میں ثعلبیہ اور خزیمیہ کے درمیان ایک ریگستانی علاقہ ہے۔) نامی ایک مقام پر خیمہ زن ہوئے۔ امیر المؤمنین نے ان کے پاس مزید چار ہزار فوج بھیجی اور حضرت سعدؓ نے خود سات ہزار مجاہدین اسلام کو نجد سے جمع کر لیا تھا۔ ادھر مثنیٰ بن حارثہؓ شیبانی رضی اللہ عنہ بارہ ہزار فوج لے کر عراق میں حضرت سعدؓ کے منتظر تھے۔

حضرت سعد بن ابی وقاصؓ زورد میں پڑاؤ ڈال کر اہل فارس سے فیصلہ کن جنگ کی تیاریوں میں لگ گئے اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے حکم کا انتظار کرنے لگے، حضرت عمرؓ نے اس جنگ کے لیے کافی اہتمام کیا تھا، آپ نے پوری اسلامی سلطنت سے تمام روساء، اصحاب الرائے، شرفاء، مردان جنگ، خطباء اور شعراء کو جمع کر کے ان چنندہ افراد کو اسلامی لشکر کے ساتھ بھیج دیا تھا۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 310) جس وقت حضرت سعدؓ اپنا لشکر لے کر زرود میں پڑاؤ ڈالے ہوئے تھے انہی ایام میں حضرت مثنیٰ بن حارثہؓ سخت بیمار پڑے اور اس سے جاں بر نہ ہو سکے۔ مؤرخین لکھتے ہیں کہ معرکہ جسر میں ان کو جو کاری زخم لگا تھا وہی ناسور ہو گیا تھا۔ جب حضرت مثنیٰؓ کو احساس ہوا کہ اب میری موت قریب ہے اور ان کی تکلیف بڑھ گئی تو بشیر بن خصاصیہ کو اپنی فوج کا امیر بنا دیا اور اپنے بھائی حضرت مُعَنّٰی رضی اللہ عنہ کو بلوا کر انہیں وصیت فرمائی اور کہا کہ جلد ازجلد میری وصیت حضرت سعدؓ تک پہنچا دو اور پھر جان جان آفرین کے حوالے کر دی، اب وہ روشن چراغ بجھ چکا تھا اور چمکتا ہوا سورج غروب ہو گیا تھا جس نے فتوحات عراق کو روشنی اور حرارت سے بھر دیا تھا۔

(القادسیۃ: أحمد عادل کمال: صفحہ 29) حضرت مثنیٰ رضی اللہ عنہ نے حضرت سعدؓ کو جو وصیت کی تھی وہ یہ تھی کہ ’’اپنے دشمنوں ایرانیوں سے اس وقت جنگ نہ کی جائے جب تک ان کی شیرازہ بندی ہو چکی ہو اور وہ آپس میں متحد ہو گئے ہوں، ان کے ملک میں گھس کر بھی لڑنا ان سے ٹھیک نہیں، بلکہ ان کی سرحدوں پر رہ کر ان کا مقابلہ کیا جائے جہاں سے عرب کی سر زمین عجم کی سر زمین کی نسبت زیادہ قریب ہو۔ پس اگر مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ ان پر غالب کر دے تو آگے بڑھنا مشکل نہیں اور اگر صورت حال اس کے برعکس ہو تو عرب اپنے راستوں سے زیادہ واقف اور اپنی سر زمین میں زیادہ جری ہوں گے اور ان کے لیے پلٹ کر حملہ کرنا آسان ہو گا۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 313) ہم ذرا یہاں ٹھہریں اور دیکھیں کہ حضرت مثنیٰ رضی اللہ عنہ کی زندگی کے آخری لمحات کی باتیں خلیفہ اوّل سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی زندگی کے آخری لمحات کی باتوں سے کتنے قریب تر ہیں۔ دونوں ہی اس دنیا کو الوداع کہہ رہے ہیں اور اسلامی فتوحات کی فکر دامن گیر ہے، ان کی کامیابی کے لیے وصیتیں کرتے ہیں۔ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ جاں بلب ہیں اور اپنے خلیفہ حضرت عمر فاروقؓ کو وصیت کرتے ہیں کہ فتح عراق کے لیے مسلمانوں کے جوش و جذبات کو ابھارو اور حضرت مثنیٰؓ بھی جاں بلب ہیں اور جنگ عراق کے جدید قائد حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو وراثت میں اہل فارس کے خلاف اپنی جنگی تجربات کا پیغام دیتے ہیں۔ اس دنیا کو الوداع کہنے والے ہیں اور امت کی فکر اور فتوحات میں کامیابی کی تدبیر دامن گیر ہے، پھر حضرت سعدؓ کو انہی چیزوں کی وصیت کرتے ہیں۔

(القادسیۃ: أحمد کمال: صفحہ 30) بہرحال جب حضرت سعدؓ کو حضرت مثنیٰؓ کی رائے اور وصیت معلوم ہوئی تو ان کے دل میں حضرت مثنیٰؓ کی موت کا غم تازہ ہو گیا، ان پر رحمت الہٰی کی دعائیں کیں اور معنی بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو ان کی جگہ امیر مقرر کرتے ہوئے نصیحت کی کہ مثنیٰ کے اہل و عیال کے ساتھ خیر و بھلائی کرنا۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 313) اس اثر میں ایک بات یہ بھی قابل توجہ ہے کہ حضرت مثنیٰؓ نے اپنی بیوی سلمیٰ بنت خصفہ تیمیہ کا وصی سعد بن ابی وقاصؓ کو بنایا اور اسی وجہ سے معنی اپنی بھاوج سلمیٰ کو اپنے ساتھ لے کر گئے تھے، پھر جب سلمیٰ کی عدت پوری ہو گئی تو حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے ان کو پیغام نکاح دیا اور اپنی زوجیت میں لے لیا۔ اس وصیت کا مقصد کیا تھا؟ کیا حضرت مثنیٰؓ اپنی وفات کے بعد اپنی بیوی کو بزبان رسالت جنت کی بشارت پانے والی اور اسلام کی عظیم و بہادر ہستی کے ساتھ لگا کر ان کے ساتھ حسن سلوک اور وفاداری کرنا چاہتے تھے؟ اگر یہی مقصد تھا تو یہ ازدواجی زندگی میں وفاداری کی ایک نادر مثال ہے یا یہ کہ سلمیٰ عقل مند اور فہم و فراست کی مالک تھیں اور اپنے شوہر کے ساتھ رہتے رہتے ان کے جنگی تجربات سے واقف تھیں، تو مثنیٰؓ نے یہ چاہا کہ مسلمان ان تجربات سے فائدہ اٹھائیں؟ دونوں باتوں کا احتمال ہے۔ درحقیقت رشد و ہدایت کی دولت سے مالا مال اس نسل انسانی کے فضائل و مناقب اور نادر روزگار کارناموں میں سے یہ چھوٹا سا واقعہ بطور مثال ’’مشتے نمونہ از خروارے‘‘ ہے۔ 

(التاریخ الإسلامی: جلد 10 صفحہ 370، 371) اس واقعہ میں معنی رضی اللہ عنہ کے اس قابل تعریف مؤقف کی طرف اشارہ کرنا بھی مناسب ہو گا جو انہوں نے وصیت پہنچانے سے پہلے اختیار کیا تھا، وہ یہ تھا کہ آپ کو معلوم ہوا کہ فارسی سرداروں میں سے ایک سردار نے جس کا نام ’’آزاذمر‘‘ تھا، قابوس بن منذر کو یہ کہہ کر قادسیہ بھیجا ہے کہ عربوں کو ایرانیوں کی مدد پر اکساؤ، تمہی ان کے سردار ہو گے اور جس طرح تمہارے آبا ؤ اجداد تھے چنانچہ قادسیہ آیا اور کہیں لالچ دلا کر اور کہیں دھمکی دے کر جس طرح نعمان بن منذر نے بکر بن وائل سے سودے بازی کی تھی اسی طرح ان سے سودے بازی کی۔ جب معنی رضی اللہ عنہ کو دشمن کی اس نقل وحرکت کا علم ہوا تو راتوں رات ذی قار سے ایک سریہ لے کر وہاں پہنچ گئے اور قابوس اور اس کے ساتھیوں کو چت کر دیا پھر ’’ذی قار‘‘ واپس لوٹ آئے۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 313)