حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی عراق روانگی اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی نصیحت
علی محمد الصلابیامیر المؤمنین عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی طرف سے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کے نام یہ پیغام ملا کہ ’’زرود‘‘ سے کوچ کر کے عراق کی طرف آگے بڑھو اور اہل فارس سے فیصلہ کن جنگ کے لیے اب پوری تیاری کر لو، آپؓ کے پیغام کا موضوع یہ تھا: ’’حمد و صلاۃ کے بعد! میں تم کو اور تمہارے ساتھیوں کو ہر حال میں اللہ کے تقویٰ کا حکم دیتا ہوں، اللہ کا تقویٰ ہی دشمن کے مقابلہ کی سب سے بہترین تیاری اور جنگ میں فتح یابی کے لیے سب سے طاقتور ہتھیار ہے۔ تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کو میرا حکم یہ ہے کہ تم اور تمہارے فوجی دشمن سے جتنا چوکنا رہیں اس سے زیادہ گناہوں سے بچنے کی کوشش کریں، کیونکہ فوج کو دشمن سے اتنا نقصان نہیں پہنچتا جتنا خود اپنے گناہوں سے پہنچتا ہے۔ مسلمانوں کی فتح کا راز یہ ہے کہ ان کا دشمن معاصی میں گرفتار ہے اگر ایسا نہ ہو تو دشمن پر ہمارا قابو نہ چل سکے، کیونکہ ہماری تعداد ان سے کم ہے، ہمارے ہتھیار ان کے ہتھیاروں سے گھٹیا ہیں، اگر معاصی میں ہم دشمن کے برابر ہوں تو وہ قوت میں ہم سے بڑھ جائیں گے اور اگر ہم اپنی اچھی صفات سے ان پر غلبہ نہ پا سکیں تو اپنی فوجی طاقت سے یقیناً نہیں پا سکیں گے۔ یاد رہے تمہارے ساتھ اللہ کی طرف سے ایسے فرشتے مامور ہیں جو تمہارے چال چلن پر نظر رکھتے ہیں، انہیں تمہارے ہر عمل کا علم ہوتا ہے، ان سے غیرت کرو اور معاصی سے بچتے رہو۔ یہ نہ کہو کہ دشمن چونکہ ہم سے برا ہے اس لیے کبھی ہم پر فتح نہ پا سکے گا، کیونکہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کسی قوم پر اس سے بری قوم غالب آ جاتی ہے۔ جس طرح جب بنو اسرائیل نے گناہوں سے اللہ کو ناراض کیا تو آگ کو پوجنے والے پارسی ان پر غالب آ گئے اور ان کے گھروں کو تہ و بالا کر دیا۔ اللہ کا وعدہ پورا ہو کر رہتا ہے، گناہوں سے بچنے کی اللہ سے دعا مانگو، جس طرح دشمن پر فتح پانے کی دعا مانگتے ہو۔ میں بھی اپنے اور تمہارے لیے اللہ سے یہ دعا مانگتا ہوں۔ کوچ کے دوران فوج کے ساتھ مہربانی سے پیش آؤ اور انہیں اتنا نہ چلاؤ کہ تھک جائیں اور پر آرام جگہ ٹھہرنے سے انہیں نہ روکو تاکہ وہ جب دشمن سے مقابل ہوں تو ان کی توانائی بحال ہو، وہ ایک ایسے دشمن سے لڑنے جا رہے ہیں جو اپنے گھر میں ہے جس کے سپاہی اور جانور تازہ دم ہیں۔ دوران کوچ ہر جمعہ ایک دن اور ایک رات قیام کرو، تاکہ فوج سستا کر تازہ دم ہو جائے اور اپنے ہتھیار و سامان درست کر سکے، جن لوگوں سے تم نے معاہدہ کر لیا ہو یا جزیہ دے کر تمہاری پناہ میں آ گئے ہوں ان کی بستیوں سے دور پڑاؤ ڈالو اور کسی کو ان کی بستیوں میں نہ جانے دو، سوائے اس شخص کے جس کی دیانت داری پر تمہیں بھروسا ہو، بستی والوں کی کسی چیز پر ناجائز قبضہ نہ کیا جائے کیونکہ تم نے ان کی جان و مال کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے اور یہ ذمہ داری جو ایک آزمائش ہے تمہیں پوری کرنی ہے۔ جس طرح اپنے معاہدات سے عہدہ برآ ہونے کی ذمہ داری ذمیوں اور اہل معاہدہ کے لیے ایک آزمائش ہے، جب تک وہ اپنے معاہدات سے عہدہ برآ ہوتے رہیں تم ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو، ان پر ظلم و ستم کر کے دشمن پر فتح پانے کے طالب نہ ہو، جب دشمن کے علاقہ میں پہنچو تو تحقیق حال کے لیے مخبر بھیجو اور دشمن کے حالات سے پوری طرح باخبر رہو، تمہارے پاس مخبری کے لیے ایسے عرب یا مقامی لوگ ہوں جن کی نیک نیتی اور حق گوئی پر تمہیں پورا اعتماد ہو، کیونکہ عادتاً جھوٹے کی رپورٹ کا کچھ حصہ اگر صحیح بھی ہو تو اس سے تمہیں کچھ فائدہ نہ پہنچے گا اور دھوکے باز تمہارے خلاف مخبری کرے گا تمہارے حق میں نہیں۔ دشمن کے علاقہ کے قریب پہنچ کر ہر اول اطلاعی دستوں میں اضافہ کرو اور دستے اپنے دشمن کے درمیان پھیلا دو۔ یہ دستے رسد اور فوجی ضرورت کی چیزیں دشمن تک نہ پہنچنے دیں اور ہر اول اطلاعی دستے دشمن کے فوجی راز دریافت کریں اور فوجی ہر اول ان اطلاعی دستوں کے لیے ایسے لوگ منتخب کرو جو بڑے بہادر اور صائب رائے ہوں اور ان کو تیز رفتار گھوڑے دو اگر دشمن سے ان کی مڈبھیڑ ہو تو تمہاری رائے سے ان کو قوت ملے، دستوں میں ایسے لوگ ہوں جنہیں جہاد کی لگن ہو اور جو تلواروں کی چھاؤں میں پامردی سے ڈٹے رہیں ہر اول اور فوجی دستوں کے انتخاب میں ذاتی خواہش کو دخل نہ دو، کیونکہ ایسا کرنے سے تمہاری مہم کو جو نقصان پہنچے گا اور تمہاری لیاقت پر جو حرف آئے گا وہ اس فائدہ سے کہیں زیادہ ہو گا جو مقربین کے ساتھ رعایت کرنے سے ممکن ہے۔ رسالے اور دستے ایسی جگہ نہ بھیجو جہاں ان کے شکست کھانے، نقصان اٹھانے یا تباہ ہونے کا اندیشہ ہو۔ جب دشمن تمہارے سامنے آئے تو اپنے بکھرے ہوئے فوجی دستے اور رسالے قریب بلا لو اور اپنی قوت و تدبیر سے کام لینے کے لیے تیار ہو جاؤ، جب تک دشمن خود حملہ آور نہ ہو لڑنے میں جلدی نہ کرو، تاکہ تم اس کی فوجی کمزوریوں سے واقف ہو سکو اور اپنے گردو پیش سے مقامی باشندوں کی طرح واقف ہو جاؤ۔ یہ واقفیت حاصل کر کے تم ایسی بصیرت سے لڑ سکو گے جس طرح دشمن خود لڑنے پر قادر ہو گا۔ اپنی فوج پر پہرے دار بھی مقرر کرو اور حتی الامکان شب خون سے چوکنا رہو۔ اگر کوئی ایسا قیدی جسے امان نہ دی گئی ہو تمہارے پاس لایا جائے تو اسے قتل کر دو، تاکہ دشمن کے دل میں ڈر بیٹھ جائے اللہ تمہارا اور تمہارے ساتھیوں کا نگہبان ہے۔ وہی دشمن پر تمہاری فتح کا ذمہ دار ہے۔ واللہ المستعان
(الفاروق عمر بن خطاب: محمد رشید رضا: صفحہ 119، 120) سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا یہ ایک عظیم پیغام ہے جو پوری انسانیت کے نام ہے اور نہایت اعلیٰ و نفع بخش نصیحتوں پر مشتمل ہے۔ یہ پیغام عظمت فاروقی کے اہم گوشے کی طرف اشارہ کرتا ہے وہ یہ کہ جنگی تنظیم و منصوبہ سازی میں آپ کو بہت مہارت تھی اور تمام پیغامات، نصائح اور ہدایات میں آپ کو توفیقِ الہٰی حاصل تھی۔
(التاریخ الإسلامی: جلد 10 صفحہ 374)