Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا علی کے دورِ خلافت میں زوجہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ سے جنگ کی حالانکہ برحق خلیفہ سے بغاوت کرنا ناجائز تھا۔

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

♦️ *سیدنا حضرت علی رضی اللّٰهُ  عنہ پر خوارج کا چھٹا اعتراض* ♦️

سیدنا علی کے دورِ خلافت میں زوجہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ سے جنگ کی حالانکہ برحق خلیفہ سے بغاوت کرنا ناجائز تھا۔

♦️ *جواب اہلسنت* ♦️

 جو لوگ جنگ جمل کو بغاوت سے تعبیرکرتے ہیں وہ حقیقت میں جہل کا ثبوت دیتے ہیں، تاریخ کسی کے سیاہ و سفید کو نہیں چھوڑتی حقیقت یہ ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ مکہ معظمہ کو حج کے لئے تشریف لے گئیں تو پیچھے دشمنوں نے خلیفہ رسول کو قتل کر دیا۔ قتل کرنے والے سبائی پارٹی کے غنڈے تھے مدنية الرسول اور کھلے بندوں دشمنوں کا حملہ کر کے ایک خلیفة المسلمین کو قرآن مجید کی تلاوت کرتے وقت قتل کرنا کوئی تھوڑا سانحہ نہ تھا

  حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا تو ام المومنین کا درجہ رکھتی تھیں ان کے لئے حضرت عثمان رضی اللہ بھی فرزند تھے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی. انہیں خطرہ تھا کہ ایک بیٹا تو آج ماراگیا ہے خدانخواستہ اگر دشمنوں کو تلاش نہ کیا گیا اور قاتلین کا سراغ نہ نکالا گیا تو کل دوسرے فرزند کے متعلق یہی سننے میں آئے گا اس لئے ضروری ہے کہ قاتلین کو تلاش کیا جائے اور ان کو قرار واقعی سزادی جائے اسی غرض سے آپ کے ساتھ کافی سے زیادہ لوگ ساتھ ہو لیے جب آپ مقام جمل پر پہنچی تو ادھر قاتلین عثمان کے پیٹ میں درد پڑنا شروع ہوا وہ چونکہ جلد بازی سے حضرت علی رضی اللہ سے بیعت ہو چکے تھے اس لئے انہوں نے مشورہ دیا کہ عائشہ رضی اللہ آپ پر حملہ کرنا چاہتی ہیں آپ ہمیں منع نہ کریں ہم ضرور ان کے مقابلہ میں جمع ہوں گے اگر انہوں نے حملہ کیا تو جواب دیں گے ورنہ ہمیں لڑنے کی کوئی ضرورت نہیں آپ نے طوعاً و کرھاً اجازت دے دی

ادھر حضرت عائشہ رضی اللہ نے ایک قاصد بھیج کر اطلاع دی کہ علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ نہ تو میں تیری مخالف ہوں اور نہ معاند حقیقت یہ ہے کہ میرا جلدی آنا محض قاتلین اور غنڈوں کی تلاش کے لئے ہے امید ہے آپ میری اس میں معاونت فرمائیں گے قاصد کا پہنچنا تھا کہ حضرت علی رضی اللہ کے چہرے سے اطمینان کے اثرات نمودار ہونے لگے آپ نے فرمایا آپ صرف آنے والی رات تک صبر سے کام لیں کل انشاء اللہ تحقیق کر کے معاندین کو شریعت کے مطابق سزادی جائے گی۔ قاصد واپس لوٹا توسبائی پارٹی نے جاسوسوں کے ذریعہ *حضرت علی رضی اللہ اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ کے باہمی مشورے سے اطلاع پا کر مشورہ کیا یہ طے ہوا کہ آدھی رات کے وقت امیرالمومنین کو بتائے بغیر دونوں فوجوں پر بلوہ کر دیا جائے تا کہ اگر ہم نہ رہیں تو وہ بھی نہ رہیں* چنانچہ جب رات ہوئی تو غنڈوں نے حملہ کردیا *سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی فوج نے سمجھا کہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا قصور ہے اور حضرت عائشہ رضی اللہ کی فوج نے سمجھا کہ حضرت علی رضی اللہ کا قصور ہے* سارا دن جنگ میں گزر گیا جنگ میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ کے لشکر کو شکست ہوئی، حضرت حسن رضی اللہ کو حضرت علی رضی اللہ نے بھیجا کہ ام المومنین کو جا کر گھر پہنچائیں شام کو امیرالمومنین اور ام المومنین جی ملاقات ہوئی تو دونوں نے انا للہ پڑھ کر بے خبری کا ثبوت دیا اور ایک دوسرے پر رضا جا اقرار کیا. یہ ہے اصل واقعہ جسے توڑ مروڑ کر مخالفین طرح طرح کے طعن کیا کرتے ہیں. مزید تفصیل تاریخ اسمان مصنفہ مولانا معین الدین ندوی اعظم گڑھی میں ملاحظہ فرمائیں