Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

ارتداد سے سچی توبہ کرنے والوں سے استعانت

  علی محمد الصلابی

 سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جنگ ارتداد اور دوسری کسی بھی فتوحات میں کبھی کسی مرتد سے مدد نہیں لی، لیکن سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو جب ان کی سچی توبہ کا یقین ہو گیا، ان کا ظاہر درست ہو گیا اور اسلامی تربیت سے بہرہ مند ہو گئے تو آپ نے انہیں کاروان جہاد میں شرکت کا حکم دے دیا البتہ ان میں سے کسی کو بھی ذمہ دار نہیں بنایا۔

(التاریخ الإسلامی: جلد 10 صفحہ 375) ایک روایت میں ہے کہ آپ نے طلیحہ بن خویلد اسدیؓ اور عمرو بن معدیکرب زبیدیؓ کے بارے میں حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو ہدایت دی تھی کہ ان سے مدد ضرور لو، لیکن کبھی سو آدمیوں پر ان کو امیر نہ بنانا۔

 (التاریخ الإسلامی: جلد 10 صفحہ 375) چنانچہ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما دونوں خلفائے راشدینؓ کی سنت سے ہمیں یہ رہنمائی ملتی ہے

(سنن الترمذی: المناقب: باب: 52 حدیث 3742)

کہ جو شخص اسلام لانے کے بعد مرتد ہو جائے اور پھر صدق دل سے توبہ کر لے تو اس کی توبہ مقبول ہے، اس کا خون اور مال معصوم و محفوظ ہو گا، اسے وہ سارے حقوق ملیں گے جو ایک مسلمان کے ہوتے ہیں اور اس پر ان تمام چیزوں کی پابندی ضروری ہوگی جو دوسرے مسلمانوں پر عائد ہیں، البتہ وہ مسلمانوں کے کسی بھی اہم معاملے کا ذمہ دار نہیں بنایا جا سکتا۔ بالخصوص قیادت تو اس کو کبھی نہیں سونپی جائے گی۔ اس استثناء کی وجہ یہ ہے کہ ممکن ہے اس کی توبہ میں کہیں نفاق کا شائبہ ہو چنانچہ اگر ایسی بات ہو گئی اور کسی اہم معاملے میں مسلمانوں کی قیادت بالخصوص جنگی قیادت اس کے ہاتھ میں چلی گئی تو وہ زمین کو فتنہ و فساد سے بھر دے گا، پُرسکون زندگی کا پیمانہ الٹ دے گا، اپنے جیسے منافقوں کو قریب بٹھائے گا اور سچے مومنوں کو دور بھگائے گا۔ اسلامی معاشرہ کو ایسے گھناؤنے معاشرہ میں تبدیل کر دے گا جس کی باگ ڈور جاہلیت کے نمائندوں کے ہاتھ میں ہوگی۔ پس دونوں باعظمت خلفائے راشدینؓ کی یہ پاک باز سنت اسی مقصد سے وجود میں آئی کہ اس کے ذریعہ سے اسلامی معاشرہ کی قیادت و رہنمائی میں شرانگیزوں و فتنہ پردازوں کو گھسنے سے روکا جائے اور شاید یہ حکمت بھی پیش نظر رہی ہو کہ مرتدین میں سے جو لوگ اقتدار پر قابض ہونے اور قیادت کرنے کی نیت سے مرتد ہوتے ہیں انہیں ان کی نیتوں کے خلاف سزا دی جائے کہ اگرچہ وہ بظاہر توبہ کر لیں اور اسلام میں داخل ہو جائیں لیکن وہ اقتدار اور عوامی نمائندگی سے محروم ہی رہیں گے۔ گویا مرتدین اور ان سب سے لوگوں کے لیے جن کے دل میں یہ بات کھٹکے کہ اسلامی زندگی سے کٹ کر اسلام دشمنی کے ذریعہ سے قیادت و سرداری حاصل کرنی چاہیے یہ سزا ایک تہدید آمیز پیش بندی تھی۔

(التاریخ الإسلامی: جلد 10 صفحہ 376)