امیر المؤمنین کی طرف سے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے نام خط
علی محمد الصلابیجب سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ حدود عراق سے متصل ’’شراف‘‘ میں پہنچنے ہی والے تھے تبھی آپ کے پاس سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا خط پہنچا اس میں آپؓ کو ہدایت دی گئی تھی کہ فارس کی طرف آگے بڑھو، خط کا مضمون یہ تھا: ’’اپنے ساتھ مسلم افواج کو لے کر شراف سے فارس کی طرف بڑھو، اللہ پر بھروسا کرو، اور اپنے تمام کاموں میں اسی سے مدد مانگو، جان لو تم ایک ایسی قوم سے لڑنے جا رہے ہو جو تعداد میں تم سے زیادہ ہے، اس کے ہتھیار تم سے بہتر ہیں وہ بڑی بہادر ہے اور ایک ایسے ملک میں داخل ہو رہے ہو جو اگرچہ سر سبز و شاداب ہے لیکن دریاؤں، نہروں، وادیوں اور دشوار گزار گھاٹیوں سے فصیل بند ہے۔ جب دشمن کی فوج یا اس کا کوئی سپاہی تم سے مقابل ہو تو اس کے حملہ کا انتظار کیے بغیر اس پر ٹوٹ پڑو، دشمن کے ساتھ کسی قسم کی گفتگو یا مناظرہ نہ کرو، وہ تمہیں دھوکا نہ دے دیں، کیونکہ وہ بہت دھوکا باز اور مکار قوم ہے، اس کا معاملہ تم سے مختلف ہے۔ تم اسی وقت کامیاب ہو گے جب پوری لگن اور ہمت سے اس کا مقابلہ کرو اور جب قادسی (قادسیہ زمانہ جاہلیت میں اہل فارس کا دروازہ تھا) پہنچو تو مسلح دستے اس کے راستوں پر منتشر ہو جائیں اور باقی لوگ پیچھے ہوں۔ (یعنی صحرا اور آبادیوں میں ہوں) تمہاری فوج مغرب میں صحرائے عرب اور مشرق میں آبادی کے درمیان کھلے میدان میں خیمہ زن ہو، پھر اپنی جگہ ڈٹے رہو، وہاں سے مٹ ہٹنا، جب دشمن دیکھے گا کہ تم نے اپنے شب خون حملوں سے ان کی زندگی اجیرن کر دی ہے تو وہ اپنا لاؤ لشکر لے کر تم پر زبردست حملہ کرے گا۔اس میں اس کے گھوڑے ہوں گے، رسالے ہوں گے اور پیادہ پا مسلح طاقت ہو گی۔ اگر دشمن کے اس حملہ پر تم نے صبر کیا، ثواب کی خاطر سچے دل سے لڑائی لڑی اور پوری امانت داری برتی تو مجھے امید ہے کہ تمہیں فتح ملے گی۔ دشمن شکست کھا کر پھر کبھی اتنی بڑی تعداد میں مقابلہ نہ کر سکے گا اور اگر کیا بھی تو اس کے حوصلے پست ہوں گے اور اگر تمہاری شکست ہوتی ہے تو صحراء عرب تمہارے عقب میں ہو گا، تم آبادی سے ہٹ کر اپنے صحرائی علاقہ کی طرف پلٹ سکو گے اور چونکہ تم اس علاقہ کے بارے میں دشمن سے زیادہ واقف ہو گے، لہٰذا وہاں پہنچ کر تمہاری ہمتیں بھی بلند ہوں گی اور وہ دہشت زدہ و بزدل ہوں گے۔‘‘
اسلامی لشکر کے پڑاؤ ڈالنے کی جگہ کے انتخاب سے متعلق حضرت عمرؓ کی یہ ہدایت حضرت مثنیٰؓ کی اس وصیت کے عین مطابق ہے جو انہوں نے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو کی تھی۔ جگہ کے انتخاب کے بارے میں عمر اور مثنیٰ رضی اللہ عنہما کی رائے یکساں تھی، حضرت مثنیٰؓ کی نصیحت در حقیقت فارسیوں کے خلاف ان کی تین سالہ جنگی مہارت کا نتیجہ تھی۔ سیدنا عمرؓ کی مذکورہ ہدایت اس بات کی واضح دلیل ہے کہ آپ کو جنگی منصوبہ سازی میں مہارت و کمال حاصل تھا حالانکہ سرزمین عراق پر ابھی آپ کے قدم بھی نہ پڑے تھے۔
حضرت سعدؓ کے نام فاروقی پیغام اس بات کو بھی متضمن ہے کہ لشکر کو ہمیشہ دشمن کی گرفت سے دور رکھنا چاہیے اور دشمن پر ترکتاز حملے کرنے چاہیے جو ان کی زندگی کو اجیرن کر دے، اس کے ماتحتوں کو اپنوں کے خلاف بغاوت پر آمادہ کر دے تاکہ مسلمان انہیں اپنی پسند کی زمین میں لا سکیں۔
(التاریخ الإسلامی: جلد 10 صفحہ 379)