Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی نگاہ میں فتح ونصرت کے معنوی اسباب

  علی محمد الصلابی

 سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کے نام خط لکھ کر انہیں فتح و نصرت کے معنوی اسباب سے خبردار کیا، جن کو اولیت اور اساسی حیثیت حاصل ہے۔ آپ نے خط میں تحریر فرمایا: ’’اپنے دل کی حفاظت و اصلاح کرتے رہو، لشکر کو اخلاق و سچی لگن سے لڑنے اور جہاد کے ذریعہ سے ثواب حاصل کرنے کی تلقین کرو، جن کے دل میں جہاد کی حقیقی تڑپ نہ ہو ان میں یہ جذبہ پیدا کیا جائے۔ صبر و ہمت سے کام لیتے رہو، کیونکہ جس مقدار میں نیت میں خلوص اور طلب ثواب کی تڑپ ہوتی ہے اسی مقدار میں اللہ کی مدد نازل ہوتی ہے، اپنے ماتحتوں پر کسی قسم کی سختی و زیادتی سے بچتے رہنا، اپنے فرائض کی انجام دہی میں کوتاہی نہ کرنا، اللہ سے سلامتی وعافیت کی دعا مانگو اور زیادہ سے زیادہ ’’  لَاحول لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ‌ ‘‘پڑھا کرو، مجھے لکھو کہ تمہاری معلومات کے مطابق فارسی لشکر کہاں تک پہنچا ہے اور اس کا سپہ سالار کون ہے جو تم سے ٹکرائے گا۔ موقع و محل اور دشمن کے حالات سے لا علمی کے باعث بہت سی باتیں جو میں لکھنا چاہتا تھا نہیں لکھ سکتا، اس لیے تم اسلامی فوج کے مورچوں اور اپنے اور مدائن کے درمیانی شہروں کے حالات اس تفصیل سے لکھو کہ گویا وہ میری آنکھوں کے سامنے ہیں اور اپنے حالات کو واضح طور پر مجھ سے بیان کرو، اللہ سے ڈرتے رہو، اسی سے فتح کی امید رکھو اور اپنی تیاری یا طاقت پر غرور نہ کرو، تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ نے تمہاری فتح کا ذمہ لیا ہے اور اس کا وعدہ کیا ہے، وہ اپنے وعدہ کے کبھی خلاف نہیں کرتا۔ کوئی بات ایسی نہیں ہونی چاہیے جس کی پاداش میں وہ تمہیں فتح سے محروم کر دے اور تمہارے بجائے کسی دوسری قوم کو اپنی عنایات کا مستحق بنا لے۔‘‘

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 315) اس خط میں سیدنا عمر فاروقؓ دل کی حفاظت و اصلاح کا حکم دیتے ہیں، کیونکہ دل ہی جسم کا وہ حصہ ہے جو تمام اعضاء کو حرکت میں لاتا ہے، اور تمام اعضاء اسی کے ماتحت ہیں، پس اگر دل درست ہے تو پورا جسم درست ہو گا۔ پھر اپنی فوج کو نصیحت کرنے، اس میں تعلق باللہ اور خلوص و للہیت کا آغاز کرنے اور خوشنودی الہٰی کا طلب گار ہونے پر ابھارتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ انہی اسباب پر اللہ کی نصرت و تائید منحصر ہے۔ حضرت سعدؓ کو خبردار کرتے ہیں کہ اپنی موجودہ ذمہ داری یا مستقبل کی فتوحات میں کوتاہی اور انتہا پسندی سے باز رہیں اور فوج اللہ کی اطاعت و خوف سے غافل نہ ہو، کیونکہ ان کی قوت کا اصل سبب اللہ کی توفیق و تائید ہے۔ امیر لشکر کو بھی چاہیے کہ اللہ سے خائف رہے اور اس کے احسانات و غیبی امداد کا منتظر اور پر امید رہے، اس لیے کہ یہ توحید کا بہت اونچا مقام ہے۔ امیر المؤمنین، حضرت سعدؓ کو تنبیہ کرتے ہیں کہ خبردار کسی نیک عمل پر یا لوگوں کی تعریف سن کر غرور و تکبر سے پھول نہ جانا کہ اللہ کی شان میں گستاخی کرو، انہیں اللہ کا وعدہ یاد دلاتے ہیں کہ اس نے اسلام اور مسلمانوں کی مدد اور کفر و طاغوت کے اقتدار کے زوال کا وعدہ کیا ہے۔ نصرت الہٰی کے جو اسباب ہیں انہیں حاصل کرنے میں قطعاً کوئی سستی نہ ہو، کہ اللہ کی مدد سے محرومی ہو اور وہ دوسروں کو ان پر مسلط کر دے اور یہ کام اللہ تعالیٰ اپنے دوسرے بندوں سے لے۔

(التاریخ الإسلامی: جلد 10 صفحہ 379)