Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سعد رضی اللہ عنہ کا قادسیہ کے جغرافیائی محل وقوع اور وہاں کے حالات سے امیر المؤمنین کو آگاہ کرنا اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا جوابی خط

  علی محمد الصلابی

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے قادسیہ پہنچ کر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے نام خط لکھا، جو علاقہ فیصلہ کن جنگ کے لیے میدان کارزار بن سکتا تھا اس کے جغرافیائی حالات سے آپ کو مطلع کیا اور لکھا کہ: ’’سواد عراق کے باشندے جنہوں نے پہلے مسلمانوں سے مصالحت کی تھی وہ پھر ایرانیوں سے جا ملے ہیں اور ہمارے خلاف جنگ کو تیار ہیں، ہم سے مقابلہ کرنے کے لیے ان کی فوجی کمان رستم اور اس جیسے دیگر ممتاز فوجی افسران کے ہاتھوں میں ہے۔ وہ پورے لاؤ لشکر سے حملہ کر کے ہمارے دلوں کو دہلانے اور ہمیں پیچھے دھکیلنے کی کوشش میں ہیں اور ہم انہیں مرعوب کرنے اور ان پر غالب آنے کی کوشش میں ہیں۔ اللہ کا جو فیصلہ ہو گا وہ ہو کر رہے گا۔ ہم اس کے ہر فیصلہ پر خواہ ہمارے مفاد میں ہو یا نقصان میں، بہرحال راضی ہیں۔ ہم اللہ سے بہتر فیصلہ اور عافیت و سلامتی کے طلب گار ہیں۔‘‘

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 38) حضرت عمر فاروقؓ نے خط پڑھ کر جواب میں تحریر کیا کہ: ’’تمہارا خط موصول ہوا، حالات معلوم ہوئے، جہاں ہو وہیں ٹھہرے رہو، حتیٰ کہ دشمن تم پر حملہ آور ہو۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اس جنگ کے بعد اور بھی لڑائیاں ہوں گی اگر اللہ کے فضل سے دشمن پسپا ہو تو اس کا تعاقب کرنا اور اس کے پایہ تخت مدائن میں گھس جانا، اللہ نے چاہا تو مدائن تباہ ہو گا۔‘‘ 

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 38) سیدنا عمرؓ کے خط سے واضح ہوتا ہے کہ آپؓ نے موقع کی نزاکت دیکھتے ہوئے صحیح فیصلہ لیا، وہ یہ کہ انہیں اپنی جگہ پر ٹھہر جانے اور وہاں سے آگے نہ بڑھنے کا حکم فرمایا۔ جنگ میں دشمن سے پیش قدمی کرنے سے حضرت سعدؓ کو روک دیا اور حکم دیا کہ فتح و نصرت کو مفید تر بنانے کی کوشش کریں اور دشمن کا مدائن تک تعاقب کریں اللہ تعالیٰ فتح عطا فرمائے گا۔

(الفن العسکری الإسلامی: صفحہ 253)

فتح و غلبہ کے لیے مادی وسائل و اسباب کو جمع کرنے کے ساتھ حضرت عمرؓ فتح کے معنوی پہلوؤں سے غافل نہ ہوئے، دشمن کے گھر اور اس کی شوکت و سلطنت کی حدود میں گھس کر اس پر نفسیاتی جنگ کا بگل بجا دیا اور حضرت سعدؓ کو لکھا کہ: ’’مجھے الہام ہوا ہے کہ دشمن کو تمہارے مقابلہ میں شکست ہو گی، پس شک و شبہ کو دل سے نکال دو اور خشیت الہٰی کو اس کی جگہ دو، تمہارا کوئی فوجی اگر مذاق میں بھی کسی فارسی کو امان دے دے یا اشارہ کرے جس کا مطلب امان ہو، یا زبان سے ایسا لفظ نکالے جسے فارسی اگرچہ نہ سمجھتا ہو لیکن اس کے ملک میں امان کی علامت سمجھا جاتا ہو تو اس دیے ہوئے امان کی پاس داری کرو اور وفاداری کا ثبوت دو کیونکہ وفاداری، بے وفائی کے موقع پر بھی اچھا اثر دکھاتی ہے، لیکن غداری اگر غلطی سے بھی کی جائے تو اس کا انجام ہلاکت ہے۔ اس سے تمہاری طاقت کمزور ہو گی اور دشمن کی طاقت بڑھے گی۔‘‘  (إتمام الوفاء فی سیرۃ الخلفاء: صفحہ 73)

سیدنا عمرؓ ہمہ وقت اپنے جذبات و احساسات کے ساتھ اسلامی لشکر کے ساتھ ہوتے، ہمیشہ ان کی فکر میں ڈوبے رہتے۔ اگر ان کی خبریں آنے میں تاخیر ہو جاتی تو غم سے نڈھال ہو جاتے اور پل پل کی خبریں سننے کے لیے بے چین و بے قرار رہتے۔ گویا یہ الہام الہٰی حضرت عمرؓ کے غم کے بوجھ کو ہلکا کرنے اور مسلمانوں کو ثابت قدمی اور دل جمعی کی دعوت دینے آیا تھا۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ حضرت عمر فاروقؓ نے مسلمانوں کو فتح و نصرت کے معنوی اسباب اختیار کرنے کی نصیحت کی، انہیں کلمہ ’’ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ۔‘‘کی عظمت کا احساس دلایا، قول میں صداقت اور عہد و پیمان میں وفاداری کی تعلیم دی اگرچہ مسلمان کا کوئی ادنیٰ فرد ہی دشمن کو امان دیا ہو، بہرحال اسے امان ملے گی اگرچہ سمجھنے میں غلطی ہوئی ہو، مسلمان نے کوئی کلمہ زبان سے کہا یا کوئی اشارہ کیا جس سے اس کا مقصود امان دینا نہیں تھا لیکن دشمن نے اسے امان سمجھا اسے امان ہی پر محمول کیا جائے اور اسلامی فوج اس کی پابند ہو گی۔

(التاریخ الإسلامی: جلد 10 صفحہ 371)