اہل کوفہ سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے قاتل ہیں -…

اہل کوفہ سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے قاتل ہیں

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 1 از 4

شیعہ و سنی دونوں طبقوں کی معتبر کتب اس بات کی شہادت دیتی ہیں کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے پاکیزہ خون سے ہاتھ رنگنے والا یہ ناہنجار اور پلید طبقہ اہل کوفہ تھے۔ قتل حسین کی پہلی ذمہ داری ان کے سروں پر ہے، یہی لوگ اس سنگین ترین جرم کے مجرم ہیں۔ اہل بیت نے اپنے خطبوں میں ان کوفیوں کو جس قدر ملامت کیا ہے، ان کی غداری و عیاری کو جس طرح طشت از بام کیا ہے اور انہیں جس طرح بددعائیں دی ہیں، یہ خطبے اس بات کا بین اور کافی و شافی ثبوت ہیں کہ شہادت حسین کے المیہ کے ذمہ دار یہ کوفی ہیں، چنانچہ سیدہ زینب بنتِ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما، جو حضرت عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی زوجہ محترمہ ہیں، جن کی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ بے پناہ عزت فرمایا کرتے تھے، جن کا یزید بن معاویہ کے ہاں بڑا رتبہ اور مقام و مرتبہ تھا، وہ بھی اس حسینی قافلہ میں شامل تھیں، جو اہل کوفہ کی غداریوں اور عہد شکنیوں کی نذر ہو گیا تھا۔ سیدہ رضی اللہ عنہا اپنے ایک خطبہ میں قتل حسین رضی اللہ عنہ کے ان مجرموں کو نہایت بلیغ انداز میں سرزنش و ملامت کرتی ہیں اور لطف کی بات یہ ہے کہ سیّدہ زینب رضی اللہ عنہ کا یہ خطبہ خود معتبر شیعہ مؤرخین و مؤلفین نے اپنی کتب میں نقل کیا ہے، چنانچہ سیدہ فرماتی ہیں:

’’اے اہل کوفہ! ذرا خاموش ہو جاؤ، تم ہمارے مردوں کو قتل کرتے ہو اور ہماری عورتوں کو رلاتے ہو، پس ہمارے اور تمہارے درمیان وہ اللہ حاکم ہے جو قیامت کے دن صاف صاف فیصلے کرے گا۔ اے اہل کوفہ! تمہارا برا ہو! تم لوگوں کو کیا ہوا کہ حسین رضی اللہ عنہ کو بے یار و مددگار چھوڑ کر اسے قتل کر دیا، ان کا مال واسباب لوٹ لیا اور ان کی عورتوں کو قیدی بنایا اور انہیں رسوا کیا، تم ہلاک و بربادہوجاؤ۔ کیا تم کو کچھ خبر ہے کہ تم لوگوں نے کس ہلاکت کو دعوت دی؟ کس گناہ کے بوجھ کو اپنی پیٹھوں پر لادا؟ کس کا خون بہایا؟ کس معزز ترین انسان کے خون سے ہاتھ رنگے؟ کن عورتوں کو تم نے دشمنوں کے حوالے کیا اور کون سا مال لوٹا ہے؟‘‘ (لواعج الاشجان لمحسن الامین العاملی: صفحہ 57 الملہوف لابن طاؤوس: صفحہ 91 نفس المہموم لعباس القمی: صفحہ 365 مع الحسین فی نہضتہ لاسد حیدر: صفحہ 295)

گزشتہ صفحات میں شیعہ کتب کے حوالے سے جناب زین العابدین رحمۃ اللہ اور حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے بیانات گزر چکے ہیں کہ جب انہوں نے اہل کوفہ کو قتل حسین پر روتے چلاتے اور آہیں بھرتے دیکھا، تو تعجب سے فرمایا کہ یہ رونا کس لیے؟ تم ہی لوگ تو حسین کے قاتل ہو؟!!

یہ شیعہ کتب کی وہ معتبر روایات ہیں، جن کے ردّ کی شیعہ حضرات کے پاس کوئی وجہ جواز یا دلیلِ انکار نہیں۔ سیدہ زینب بنت علی بن ابی طالب نے ان کوفیوں کو روتے پیٹتے دیکھ کر کہا تھا:

’’سن لو! تم لوگوں نے اپنے آگے (قیامت کے لیے) جو (عمل) بھیجا ہے وہ بے حد برا ہے، اللہ تم پر ناراض ہے اور تم ہمیشہ آخرت کے عذاب میں رہو گے۔‘‘

اہل کوفہ ہی قاتلانِ حسین ہیں۔ اس کی تائید و تاکید شیعہ معتبر کتب کی ان روایات سے ہوتی ہے، جن میں اس قبیح و شنیع فعل کا ذکر ہے کہ انہی کوفیوں نے پہلے خطوط لکھ کر بلایا اور بعد میں غداری کر کے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا۔ چنانچہ روایات میں مذکور ہے کہ جب حر بن یزید الریاحی اور عمر بن سعد نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے عراق آنے کی وجہ پوچھی، تو جناب حسین رضی اللہ عنہ نے کیا سچ فرمایا تھا:

’’مجھے تمہارے شہر کے لوگوں نے ہی تو خطوط لکھ کر بلوایا ہے۔‘‘ (الارشاد، للشیخ المفید: جلد، 2 صفحہ 79 الفتوح: ابن اعثم الکوفی: جلد، 5 صفحہ 85)

ان لوگوں نے خطوط لکھے تھے کہ ہم آپ کے لیے خود کو روکے کھڑے ہیں، ہمارے پاس چلے آئیے۔ (الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ لابن حجر: جلد، 3 صفحہ 49)

حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے اہل کوفہ سے ارشاد فرمایا تھا:

’’اے لوگو! جب تک تم لوگوں کے خطوط اور تمہارے قاصد میرے پاس یہ پیغام لے کر نہیں آئے کہ ہمارے پاس چلے آئیے، کیونکہ ہمارا کوئی امام نہیں ہے، شاید اللہ آپ کے ذریعے سے ہمیں حق و ہدایت پر جمع کر دے، میں تم لوگوں کے پاس نہیں آیا۔‘‘ (الارشاد للمفید: جلد، 2 صفحہ 31)

لیکن ان لوگوں نے بجائے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی مدد کرنے کے، الٹا ان کے خلاف مرنے مارنے پر اتر آئے۔ پھر جس لشکر نے جناب حسین رضی اللہ عنہ کو قتل کیا اور جو شیعانِ علی رضی اللہ عنہ میں سے تھے، اس کے سرکردہ، قائدین اور امراء یہی اہل کوفہ تھے، جس کی تائید شیعہ حضرات کی معتبر کتب تاریخ کی روایات سے ہوتی ہے۔

ذیل میں اس کا ایک مرتب خلاصہ لکھا جاتا ہے:

٭ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو خط لکھنے والوں میں ایک نام عمرو بن حجاج کا ہے اور یہی عمرو بعد میں اس لشکر کے میمنہ پر تعینات تھا، جس نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو خون میں نہلا دیا۔

٭ شمر بن ذی الجوشن شیعی کل تک شیعانِ علی رضی اللہ عنہ میں شمار ہوتا تھا اور اس نے امیر المومنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے شانہ بشانہ جنگیں بھی لڑیں ، لیکن آج وہی شمر اس قاتل لشکر کے میسرہ پر دندناتا نظر آ رہا ہے۔ یہ وہی شمر ہے جس نے یہ رسوائے زمانہ مشورہ دیا تھا کہ حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے صلح کی پیش کش کو ہرگز بھی قبول نہ کیا جائے اور حسین رضی اللہ عنہ کے لیے صرف ایک ہی صورت ہے کہ وہ امیر کوفہ عبیداللہ بن مرجانہ فارسیہ کے حکم پر اتریں۔

٭ جناب حسین رضی اللہ عنہ کو خطوط لکھنے والوں میں عزرہ بن قیس الاحمسی بھی ہے، جس نے بعد میں غداری کی اور کوفی گھڑ سواروں کے اس دستہ کا امیر بنا جس کے ذمہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے خون سے ہاتھ رنگنا تھا۔

٭ شیعہ روایات ایک نام شبث بن ربعی کا بھی ذکر کرتی ہیں، جس نے پہلے خطوط لکھے، پھر بدعہدی کی اور پھر اس کے بعد اپنی شقاوت و بدبختی پر پختہ مہر لگاتے ہوئے پیادوں کے اس دستے کا امیر بنا، جنہوں نے خون حسین رضی اللہ عنہ کے گناہ کو اپنے سر لے کر دنیا و آخرت کی رسوائی کمائی۔ (پوری تفصیل کے لیے دیکھیں : الارشاد للمفید: جلد، 2 صفحہ 95 البدایۃ و النہایۃ: جلد، 8 صفحہ 177 تاریخ الطبری: جلد، 3 صفحہ 313-315)

صفحہ 1 از 4