اہل کوفہ سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے قاتل ہیں
حامد محمد خلیفہ عمانشیعہ و سنی دونوں طبقوں کی معتبر کتب اس بات کی شہادت دیتی ہیں کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے پاکیزہ خون سے ہاتھ رنگنے والا یہ ناہنجار اور پلید طبقہ اہل کوفہ تھے۔ قتل حسین کی پہلی ذمہ داری ان کے سروں پر ہے، یہی لوگ اس سنگین ترین جرم کے مجرم ہیں۔ اہل بیت نے اپنے خطبوں میں ان کوفیوں کو جس قدر ملامت کیا ہے، ان کی غداری و عیاری کو جس طرح طشت از بام کیا ہے اور انہیں جس طرح بددعائیں دی ہیں، یہ خطبے اس بات کا بین اور کافی و شافی ثبوت ہیں کہ شہادت حسین کے المیہ کے ذمہ دار یہ کوفی ہیں، چنانچہ سیدہ زینب بنتِ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما، جو حضرت عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی زوجہ محترمہ ہیں، جن کی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ بے پناہ عزت فرمایا کرتے تھے، جن کا یزید بن معاویہ کے ہاں بڑا رتبہ اور مقام و مرتبہ تھا، وہ بھی اس حسینی قافلہ میں شامل تھیں، جو اہل کوفہ کی غداریوں اور عہد شکنیوں کی نذر ہو گیا تھا۔ سیدہ رضی اللہ عنہا اپنے ایک خطبہ میں قتل حسین رضی اللہ عنہ کے ان مجرموں کو نہایت بلیغ انداز میں سرزنش و ملامت کرتی ہیں اور لطف کی بات یہ ہے کہ سیّدہ زینب رضی اللہ عنہ کا یہ خطبہ خود معتبر شیعہ مؤرخین و مؤلفین نے اپنی کتب میں نقل کیا ہے، چنانچہ سیدہ فرماتی ہیں:
’’اے اہل کوفہ! ذرا خاموش ہو جاؤ، تم ہمارے مردوں کو قتل کرتے ہو اور ہماری عورتوں کو رلاتے ہو، پس ہمارے اور تمہارے درمیان وہ اللہ حاکم ہے جو قیامت کے دن صاف صاف فیصلے کرے گا۔ اے اہل کوفہ! تمہارا برا ہو! تم لوگوں کو کیا ہوا کہ حسین رضی اللہ عنہ کو بے یار و مددگار چھوڑ کر اسے قتل کر دیا، ان کا مال واسباب لوٹ لیا اور ان کی عورتوں کو قیدی بنایا اور انہیں رسوا کیا، تم ہلاک و بربادہوجاؤ۔ کیا تم کو کچھ خبر ہے کہ تم لوگوں نے کس ہلاکت کو دعوت دی؟ کس گناہ کے بوجھ کو اپنی پیٹھوں پر لادا؟ کس کا خون بہایا؟ کس معزز ترین انسان کے خون سے ہاتھ رنگے؟ کن عورتوں کو تم نے دشمنوں کے حوالے کیا اور کون سا مال لوٹا ہے؟‘‘ (لواعج الاشجان لمحسن الامین العاملی: صفحہ 57 الملہوف لابن طاؤوس: صفحہ 91 نفس المہموم لعباس القمی: صفحہ 365 مع الحسین فی نہضتہ لاسد حیدر: صفحہ 295)
گزشتہ صفحات میں شیعہ کتب کے حوالے سے جناب زین العابدین رحمۃ اللہ اور حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے بیانات گزر چکے ہیں کہ جب انہوں نے اہل کوفہ کو قتل حسین پر روتے چلاتے اور آہیں بھرتے دیکھا، تو تعجب سے فرمایا کہ یہ رونا کس لیے؟ تم ہی لوگ تو حسین کے قاتل ہو؟!!
یہ شیعہ کتب کی وہ معتبر روایات ہیں، جن کے ردّ کی شیعہ حضرات کے پاس کوئی وجہ جواز یا دلیلِ انکار نہیں۔ سیدہ زینب بنت علی بن ابی طالب نے ان کوفیوں کو روتے پیٹتے دیکھ کر کہا تھا:
’’سن لو! تم لوگوں نے اپنے آگے (قیامت کے لیے) جو (عمل) بھیجا ہے وہ بے حد برا ہے، اللہ تم پر ناراض ہے اور تم ہمیشہ آخرت کے عذاب میں رہو گے۔‘‘
اہل کوفہ ہی قاتلانِ حسین ہیں۔ اس کی تائید و تاکید شیعہ معتبر کتب کی ان روایات سے ہوتی ہے، جن میں اس قبیح و شنیع فعل کا ذکر ہے کہ انہی کوفیوں نے پہلے خطوط لکھ کر بلایا اور بعد میں غداری کر کے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا۔ چنانچہ روایات میں مذکور ہے کہ جب حر بن یزید الریاحی اور عمر بن سعد نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے عراق آنے کی وجہ پوچھی، تو جناب حسین رضی اللہ عنہ نے کیا سچ فرمایا تھا:
’’مجھے تمہارے شہر کے لوگوں نے ہی تو خطوط لکھ کر بلوایا ہے۔‘‘ (الارشاد، للشیخ المفید: جلد، 2 صفحہ 79 الفتوح: ابن اعثم الکوفی: جلد، 5 صفحہ 85)
ان لوگوں نے خطوط لکھے تھے کہ ہم آپ کے لیے خود کو روکے کھڑے ہیں، ہمارے پاس چلے آئیے۔ (الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ لابن حجر: جلد، 3 صفحہ 49)
حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے اہل کوفہ سے ارشاد فرمایا تھا:
’’اے لوگو! جب تک تم لوگوں کے خطوط اور تمہارے قاصد میرے پاس یہ پیغام لے کر نہیں آئے کہ ہمارے پاس چلے آئیے، کیونکہ ہمارا کوئی امام نہیں ہے، شاید اللہ آپ کے ذریعے سے ہمیں حق و ہدایت پر جمع کر دے، میں تم لوگوں کے پاس نہیں آیا۔‘‘ (الارشاد للمفید: جلد، 2 صفحہ 31)
لیکن ان لوگوں نے بجائے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی مدد کرنے کے، الٹا ان کے خلاف مرنے مارنے پر اتر آئے۔ پھر جس لشکر نے جناب حسین رضی اللہ عنہ کو قتل کیا اور جو شیعانِ علی رضی اللہ عنہ میں سے تھے، اس کے سرکردہ، قائدین اور امراء یہی اہل کوفہ تھے، جس کی تائید شیعہ حضرات کی معتبر کتب تاریخ کی روایات سے ہوتی ہے۔
ذیل میں اس کا ایک مرتب خلاصہ لکھا جاتا ہے:
٭ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو خط لکھنے والوں میں ایک نام عمرو بن حجاج کا ہے اور یہی عمرو بعد میں اس لشکر کے میمنہ پر تعینات تھا، جس نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو خون میں نہلا دیا۔
٭ شمر بن ذی الجوشن شیعی کل تک شیعانِ علی رضی اللہ عنہ میں شمار ہوتا تھا اور اس نے امیر المومنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے شانہ بشانہ جنگیں بھی لڑیں ، لیکن آج وہی شمر اس قاتل لشکر کے میسرہ پر دندناتا نظر آ رہا ہے۔ یہ وہی شمر ہے جس نے یہ رسوائے زمانہ مشورہ دیا تھا کہ حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے صلح کی پیش کش کو ہرگز بھی قبول نہ کیا جائے اور حسین رضی اللہ عنہ کے لیے صرف ایک ہی صورت ہے کہ وہ امیر کوفہ عبیداللہ بن مرجانہ فارسیہ کے حکم پر اتریں۔
٭ جناب حسین رضی اللہ عنہ کو خطوط لکھنے والوں میں عزرہ بن قیس الاحمسی بھی ہے، جس نے بعد میں غداری کی اور کوفی گھڑ سواروں کے اس دستہ کا امیر بنا جس کے ذمہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے خون سے ہاتھ رنگنا تھا۔
٭ شیعہ روایات ایک نام شبث بن ربعی کا بھی ذکر کرتی ہیں، جس نے پہلے خطوط لکھے، پھر بدعہدی کی اور پھر اس کے بعد اپنی شقاوت و بدبختی پر پختہ مہر لگاتے ہوئے پیادوں کے اس دستے کا امیر بنا، جنہوں نے خون حسین رضی اللہ عنہ کے گناہ کو اپنے سر لے کر دنیا و آخرت کی رسوائی کمائی۔ (پوری تفصیل کے لیے دیکھیں : الارشاد للمفید: جلد، 2 صفحہ 95 البدایۃ و النہایۃ: جلد، 8 صفحہ 177 تاریخ الطبری: جلد، 3 صفحہ 313-315)
کسی لشکر کے چار حصے ہی تو سب سے اہم ہوتے ہیں، میمنہ، میسرہ، پیادے اور سوار، ان سب کی زمام کار اور قیادت و نظم و نسق ہمیں انہی لوگوں کے ہاتھ میں نظر آ رہا ہے جو ایک تو کوفی ہیں، دوسرے انہوں نے اہتمام سے خطوط لکھے اور تیسرے انہوں نے شد و مد کے ساتھ عہد اور بیعت کو توڑا اور آخر میں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو قتل کر کے ہی پیچھے ہٹے۔ اگر ان لوگوں کے دل میں سیدنا حسین بن ابی طالب رضی اللہ عنہما کی محبت کا ایک ذرہ بھی ہوتا، تو ان کے امکان میں یہ بات تھی کہ
٭ وہ حضرت حسین رضی اللہ عنہما کی رائے سے اتفاق کرتے اور ان کی مدد و نصرت کے لیے کمربستہ ہو جاتے۔
٭ یہ لوگ امیر کوفہ ابن مرجانہ فارسیہ اور اس کے امراء سے آہنی ہاتھوں سے نبٹ سکتے تھے، لیکن مکر و تلبیس کے اس جذبے کا کیا کیجیے جس کے ہاتھوں یہ کوفی مجبور تھے، جو یہودیانہ عقیدہ و عمل کا منطقی اثر تھا، جو ان کی رگ رگ میں رچ بس گیا ہوا تھا اور اب چاہتے ہوئے بھی یہ کوفی اپنے جیوں کو اس ناپاک جذبے کے اثرات سے پاک نہ کر سکتے تھے۔ چنانچہ ان لوگوں نے کمال مکاری و عیاری کے ساتھ جناب حسین رضی اللہ عنہ کو عداوتِ صحابہ کے اس دھاگے میں پرو دیا، جس میں اس سے قبل اس نوع کے اور بھی متعدد جرائم پروئے ہوئے تھے، تاکہ فتنوں کی بھٹی میں جلائے جانے والی آگ میں اور اضافہ ہو۔
ان غداروں نے ایسا جرم کیا تھا کہ ’’غداری‘‘ کا کلنک قیامت تک کے لیے ان کے ماتھوں کی زینت بن گیا۔ چنانچہ علامہ بغدادی لکھتا ہے:
’’کوفی روافض ’’غدار‘‘ اور ’’بخیل‘‘ کے رسوائے زمانہ ناموں سے جانے پہچانے جاتے ہیں اور اب یہ لوگ غداری اور بخل و خیانت میں مثال بن چکے ہیں۔ چنانچہ اب کسی کو بخیل اور غدار کہنا ہو تو اسے یہ کہا جاتا ہے: ’’ابخل من کوفی‘‘ اور ’’اغدر من کوفی‘‘ ’’تو تو کوفیوں سے بھی زیادہ بخیل ہے۔‘‘ اور ’’تو تو کوفیوں سے بھی زیادہ غدار ہے‘‘ آل بیتِ اطہار رضی اللہ عنہم سے ان کی تین رسوائے زمانہ غداریاں زیادہ مشہور ہیں:
1. سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد ان کوفیوں نے جناب حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے دست حق پرست پر سمع و طاعت کی بیعت کی، پھر غداری کر کے اس بیعت کو توڑ ڈالا اور ساباطِ مدائن میں سنان جعفی نے اندھیرے میں آپ پر کدال کا وار کر کے آپ کو شدید زخمی کر دیا۔
2. ان لوگوں نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو خطوط لکھے کہ آپ کوفہ چلے آئیے ہم یزید کے خلاف آپ کی مدد کریں گے۔ جناب حسین رضی اللہ عنہ ان پر دھوکہ کھا گئے اور کوفہ کے لیے روانہ ہو گئے۔ جب آپ کربلا پہنچے، تو انہوں نے غداری کی اور عبیداللہ بن زیاد کے ساتھ مل گئے حتیٰ کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے اہل بیت کے اکثر افراد کو کربلا میں قتل کر دیا۔
3. ان لوگوں نے زید بن علی بن حسین بن علی بن ابی طالب کے ساتھ بھی غداری کی۔ چنانچہ پہلے ان کی بیعت کی اور جب خروج کے بعد گھمسان کی جنگ ہونے لگی تو عین قتال کے وقت ان کا ساتھ چھوڑ گئے۔‘‘ ( الفرق بین الفرق للبغدادی: صفحہ 37)
جناب محمد بن علی بن ابی طالب بھی ان کوفیوں کو پرلے درجے کا غدار سمجھتے تھے اور وہ سیّدنا علی اور سیّدنا حسن رضی اللہ عنہما کے ساتھ کی جانے والی غداری کی ذمہ داری ان کوفیوں پر ڈالتے تھے۔ جیسا کہ بعد میں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ کی جانے والی غداری کے ذمہ دار بھی انہی کوفیوں کو ٹھہراتے تھے۔ چنانچہ جناب محمد رحمۃ اللہ نے اپنے بھائی سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو وصیت و نصیحت کرتے اور سمجھاتے ہوئے کہا:
’’اے میرے بھائی! ان کوفیوں نے آپ کے والد اور آپ کے بھائی کے ساتھ جو جو غداریاں کی ہیں، وہ آپ جانتے ہی ہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ کہیں آپ کے ساتھ بھی وہی نہ ہو، جو آپ سے پہلوں (یعنی آپ کے والد اور بھائی) کے ساتھ ہوا ہے۔‘‘ (فی رحاب کربلا لحسین کورانی: صفحہ 60-61)
پھر حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ واقعی وہی کچھ ہوا، جس کا محمد بن علی بن ابی طالب رحمۃ اللہ کو ڈر تھا۔
یہی بات فرزدق شاعر نے بھی اس سوال کے جواب میں کہ ’’کوفی شیعوں کا کیا حال ہے؟‘‘ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے کہی تھی کہ
’’ان کے دل تو آپ کے ساتھ ہیں، لیکن ان کی تلواریں آپ کے خلاف ہیں۔‘‘ (منتہی الآمال لعباس القمی: جلد، 1 صفحہ 454 الملہوف لابن طاؤوس: صفحہ 39)
یہ کوفی غدار تھے، قاتل علی رضی اللہ عنہ تھے، قاتل حسین رضی اللہ عنہ تھے اور یہ تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو بھی اپنی طرف سے قتل کر گئے تھے، مگر قسمت نے ان کی یاوری نہ کی اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ بچ گئے۔ جناب حسین رضی اللہ عنہ کو ان کے خائن و غدار ہونے کا پکا یقین ہو گیا تھا۔ ذیل کی نصوص اس کی تائید کرتی ہیں:
٭ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ ان کوفیوں سے فرماتے ہیں:
’’اگر تم لوگوں نے میرا ساتھ نہ دیا اور میرے عہد اور بیعت کو توڑ ڈالا تو میری عمر کی قسم! یہ کوئی تمہارا نیا کام نہیں۔ تم لوگ اس سے پہلے میرے باپ، میرے بھائی اور میرے چچا زاد مسلم بن عقیلؓ کے ساتھ ایسا کر چکے ہو، دھوکے میں پڑا وہی ہے، جو تم لوگوں سے دھوکہ کھائے۔‘‘ (المجالس الفاخرۃ: 79 علی خطی الحسین: صفحہ 100)
٭ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو ان کے خطوط کے بارے میں شک تھا۔ چنانچہ فرماتے ہیں:
’’ان لوگوں نے مجھے خوف زدہ کیا۔ یہ رہے اہل کوفہ کے خطوط اور یہی میرے قاتل ہیں۔‘‘ (معالم المدرستین: جلد، 3 صفحہ 72)
٭ گزشتہ میں شیعہ مصنف حسین کورانی کی رائے کو مفصل ذکر کیا جا چکا ہے کہ ایک تو ان کوفیوں نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا ساتھ چھوڑ دیا، دوسرے جلدی سے کربلا جا پہنچے اور کوفی شیطان کو خوش کرنے اور رب رحمان کو ناراضی کرنے کے لیے جناب حسین رضی اللہ عنہ کے خلاف تلواریں اٹھا لیں۔ چنانچہ عمرو بن حجاج کوفی جو کل تک حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور آل بیت رسولﷺ کا زبردست حامی اور طرف دار تھا آج اپنے لشکر کو یہ کہہ رہا تھا:
’’دین سے نکلنے والے اور جماعت سے جدا ہونے والے اس شخص سے قتال کرو۔‘‘ (مقتل الحسین للمقرم: صفحہ 175)
٭ حسین کورانی نے یہ بھی لکھا ہے کہ عبداللہ بن حوزہ تمیمی جو کل تک شیعانِ علی میں سے تھا اور ممکن ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو خطوط لکھنے والی شبث بن ربعی کی جماعت میں شامل رہا ہو اور یہ پکا کوفی تھا، لیکن آج حسینی قافلہ کے سامنے کھڑا پکار کر یہ کہہ رہا ہے کہ
’’اگر تم میں حسین موجود ہیں، تو انہیں جہنم کی آگ کی بشارت ہو۔‘‘ (ی رحاب کربلا لحسین کورانی: صفحہ 61)
٭ احسائی لکھتا ہے:
’’سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے لڑنے والا یہ لشکر صرف کوفیوں کا ہی تھا، جن کی تعداد تیس ہزار تک بیان کی جاتی ہے اور اس لشکر میں شام، حجاز، سوڈان، مصر، افریقہ، ہندوستان یا پاکستان کا ایک فرد بھی نہ تھا، یہ لوگ مختلف قبائل سے اکٹھے ہو گئے تھے۔‘‘ (عاشوراء لکاظم الاحسائی النجفی: صفحہ 89)
٭ محسن الامین کے بقول حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر کے غداری کرنے والے ان کوفیوں کی تعداد بیس ہزار تھی، جنہوں نے بعد میں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو قتل کر ڈالا۔ (اعیان الشیعۃ لمحسن الامین الشیعی: جلد، 1 صفحہ 24)
٭ گزشتہ میں امام زین العابدین رحمۃ اللہ کا مفصل خطبہ ذکر کیا جا چکا ہے، جس میں وہ اہل کوفہ کو نہایت بلیغ انداز میں سرزنش کرتے ہیں اور ان پر ان کے جرم کی قباحت و شناعت کو خوب اجاگر کرتے ہیں، جس کا خلاصہ یہ ہے:
٭ تم لوگوں نے میرے والد کو خطوط لکھ کر دھوکا دیا۔
٭ عہد کر کے اسے توڑا۔
٭ انہیں بے یار و مددگار چھوڑ کر ان سے قتال کیا اور بالآخر انہیں قتل کر ڈالا۔
٭ یہ عمل دنیا و آخرت میں تمہاری ذلت و رسوائی اور تباہی و بربادی کا قوی سبب ہے۔
٭ اور روز قیامت جناب رسول اللہﷺ کے اس سوال کا جواب دینے کو تیار ہو جاؤ کہ تم لوگوں نے میری عترت کو کیوں قتل کیا اور میری حرمت کو کیوں پامال کیا؟ تم لوگ میری امت میں سے نہیں ہو۔
٭ پھر جب ان کوفیوں نے غداری اور مکاری سے کام لیتے ہوئے جناب امام زین العابدین رحمۃ اللہ کو بھی انہیں یہ یقین دلا کر دھوکہ دینے کی کوشش کی کہ ہم آپ کی سنیں گے اور مانیں گے، تو انہوں نے کوفیوں کی اس بات کا پرزور ردّ کرتے ہوئے، یہ کہا:
’’اے مکار غدارو! دور ہو جاؤ، دور ہو جاؤ، تم لوگوں کو شہوتوں نے اپنا اسیر بنا رکھا ہے، کیا تم لوگ یہ چاہتے ہو کہ میرے ساتھ بھی وہی کرو، جو تم نے میرے باپ دادا کے ساتھ کیا ہے، ناچنے والیوں کے رب کی قسم! ابھی زخم گھلے نہیں یہ کل ہی کی تو بات ہے کہ تم لوگوں نے میرے باپ کو اس کے اہل بیت سمیت قتل کر دیا تھا۔‘‘ (مظالم اہل البیت لصادق مکی: صفحہ 258 الملہوف لابن طاؤوس: صفحہ 92)
٭ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی شہادت بھی بیان ہو چکی ہے، جس کی صدا ہر اس دل میں گونج رہی ہے، جس میں آل بیت رسولﷺ کی ذرّہ بھر بھی محبت ہے۔ چنانچہ جن لوگوں نے کدال کا وار کر کے قتل کرنے کی کوشش کی تھی، حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما انہیں یہ فرماتے ہیں:
’’اللہ کی قسم! میرے نزدیک معاویہ (رضی اللہ عنہ) ان لوگوں سے بہتر ہیں، جو خود کو میرا شیعہ باور کرتے ہیں، جبکہ دوسری طرف مجھے قتل کرنے کے درپے بھی ہیں، ان لوگوں نے میرا مال لوٹ لیا۔ اللہ کی قسم! اگر میں معاویہ (رضی اللہ عنہ) سے ایک عہد لے لوں، جس سے میں اپنا اور اپنے اہل کا خون محفوظ کر لوں، یہ اس بات سے بہتر ہے کہ یہ کوفی مجھے قتل کر کے میرے اہل بیت اور اہل کو ضائع اور برباد کر دیں۔‘‘ (الاحتجاج للطبرسی: جلد، 2 صفحہ 290)
٭ امام محمد باقر رحمۃ اللہ، کوفہ کے شیعیان کے بارے میں کہتے ہیں:
’’اگر یہ سب کے سب لوگ (یعنی سارے اہل کوفہ) ہمارے شیعہ بن جائیں، تو ان میں سے تین چوتھائی تو ہم پر شک کرنے والے ہوں گے، جبکہ ان کا ایک چوتھائی احمقوں کا ٹولہ ہو گا۔‘‘ (رجال الکشی للکشی: صفحہ 179)
٭ امام جناب موسیٰ کاظم رحمۃ اللہ جن کی طرف نسبت رکھنے والے خود کو موسوی کہتے ہیں، کوفیوں کی حقیقت کو بے نقاب کرتے ہوئے کہتے ہیں:
’’اگر میں اپنے شیعہ کو پرکھوں، تو یہ نام کے شیعہ نکلیں، اگر ان کا امتحان لوں تو مرتد نکلیں، اگر ان کو جانچوں تو ہزار میں ایک مخلص نکلے، اگر ان کو چھانوں تو اپنوں کے سوا کوئی نہ بچے، یہ تختوں پر ٹیک لگائے ایک زمانہ سے یہ کہتے آ رہے ہیں کہ ہم شیعانِ علی رضی اللہ عنہ ہیں، لیکن شیعانِ علی رضی اللہ عنہ تو وہ ہیں، جن کا قول و فعل صادق ہے۔‘‘ (الروضۃ للکافی: جلد، 8 صفحہ 191)
یہ ہیں کوفی شیعہ اور ان کے ہم عقیدہ لوگ، جن کی بداعمالیاں پوری امت کے سامنے کھلے بندوں موجود ہیں اور ہر شخص کی انگلی ان کی طرف اٹھ کر یہ کہہ رہی ہے کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اور آل بیت رسولﷺ کے قاتل یہی غدار اور گناہ گار ہیں، جنہوں نے اس امت کو اور خاص طور پر حضرات اہل بیت کو پے درپے ہلاکتوں میں ڈالا۔ یہ لوگ امت مسلمہ اور آل بیت رسول کے خلاف جرائم کے کس قدر رسیا اور خوگر ہیں!!!
ان دین دشمنوں کی شخصیت و کردار کا دوسرا گھناؤ نا ترین پہلو یہ ہے کہ روئے زمین کے معزز و محترم ترین انسانوں کا خون بہانے اور گردنوں تک شرور و فتن اور فسق و فجور کی دلدل میں دھنسے ہونے کے باوجود امت مسلمہ کو آج تک دھوکہ دینے میں جتے ہوئے ہیں، تاکہ خود پر سے جرائم کے ثبوتوں کے داغوں کو مٹا سکیں اور کسی کے دل میں یہ خیال تک نہ آنے دیں کہ
’’خون حسین کے اصل ذمہ دار کون ہیں؟ اور ان سے اس پاکیزہ ترین خون کا مطالبہ کیونکر کیا جائے؟!!‘‘
اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ جو بھی سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے نقش قدم پر چلنے کے لیے جرأت رندانہ کرتے ہوئے میدان جہاد میں اترنا چاہے، اسے اترنے سے قبل ہی سازشوں کے جال میں بری طرح الجھا کر جان سے مار ڈالا جائے۔ پھر اپنی ان بدبختانہ اور شقیانہ کاوشوں میں ایک قدم اور آگے بڑھتے ہوئے امت مسلمہ کو نبی کریمﷺ کی سنتوں اور رب کی کتاب سے دور کر کے یہود و مجوس کے رسوم و رواج میں دھکیلنے کی جہد مسلسل جاری رکھی جائے اور یہ سارا گھناؤ نا کھیل آل بیت رسولﷺ کی محبت کی آڑ میں کیا جائے۔
سب سے خطرناک یہ کہ دین اسلام کے امین، رسول اللہﷺ کے اوّلین اور سچے جاں نثاروں اور اسلام کے پہلے خدمت گاروں ’’حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ‘‘ پر طعن و تشنیع اور سب و شتم کے چھینٹے اڑا کر ان کے پاکیزہ کردار، بے لوث قربانیوں اور مبنی براخلاص جہادی کاوشوں کو مشکوک ٹھہرایا جائے، تاکہ آنے والی نسلوں کا حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر سے اعتبار اٹھ جائے اور ہر کہ و مہ اور ہر بے اوقات اور بے وقار اٹھ کر ان پر زبانِ طعن دراز کرتا پھرے اور جو جی میں آئے ان پر اناپ شناپ بول دے۔
مذکورہ بالا نصوص کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد کسی عاقل اور دانا و بینا پر یہ امر مخفی نہیں رہ سکتا کہ اہل کوفہ ہی دراصل قاتلانِ حسین ہیں، جنہوں نے مقتل حسین رضی اللہ عنہ کو ایک لاعلاج زخم بنا کر رکھ دیا ہے اور آج تک امت اس گہرے گھاؤ کو بھرنے کے لیے اپنی وحدت، امن و سلامتی اور عقیدہ و مذہب کی قربانی کی بھاری قیمت ادا کرتی چلی آ رہی ہے۔
حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے غداری کے نتیجہ میں آج تک بے پناہ لوگ قتل ہوئے ہیں۔ شاید یہ بے محابا خون ریزی و سفاکی نبی کریمﷺ کے اس ارشاد کا مصداق ہے جو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ
’’رب تعالیٰ نے حضرت محمدﷺ کی طرف اس بات کی وحی کی کہ میں نے یحییٰ بن زکریا (علیہ السلام) کے (قتل کے) بدلے میں ستر ہزار لوگوں کو قتل کیا اور میں تیری لخت جگر کے نور نظر کے (قتل کے) بدلے ستر ہزار اور ستر ہزار (مزید) لوگوں کو قتل کروں گا۔‘‘ (المستدرک للحاکم: رقم الحدیث، 4822 علامہ ذہبی ’’التلخیص‘‘ میں لکھتے ہیں: یہ روایت مسلم کی شرط پر ہے)
اگر روزنِ تاریخ سے جھانکا جائے، تو غدارانِ حسین کی قیادت میں بھڑکائی جانے والی فتنوں کی آگ میں آج تک بے شمار مسلمان جل کر خاکستر ہو چکے ہیں۔ بویہیوں، بسا سیریوں، قرامطیوں، ابن علقمی، تاتاریوں اور ہلاکو خان کی سفاکیوں اور خوں ریزیوں سے تعبیر تاریخ اس بات کی شاہد ناطق ہے اور آخر میں اور یہ بالکل آخری واقعہ نہیں، دورِ حاضر میں روافض کا مسلمانوں کے خلاف صلیبیوں اور یہودیوں کی طرف دست تعاون بڑھانا اور ان کی عسکری، فکری، نظریاتی، سیاسی اور اعلامی میدانوں میں بھرپور معاونت کرنا، اس بات کی آفتاب نیم روز کی طرح روشن اور عیاں دلیل ہے کہ یہ لوگ اسلام کے خلاف ہر ظالم، جابر، مستبد، قاہر، غدار، عیار اور مکار کے ہم خیال، دست و بازو اور مدد و معاون ہیں اور ان کے دامے، درمے سخنے قدمے ہر طرح کی مدد کرنے پر ہمہ وقت مستعد و تیار ہیں، گویا امت مسلمہ کو خاک و خون میں نہلانا اور اس کو ہلاکت و دمار کی بَلی چڑھانا ان کی زندگیوں کا مقصد وحید اور نظریاتی و عملی نصب العین ہے۔