اہل کوفہ سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے قاتل ہیں -…

اہل کوفہ سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے قاتل ہیں

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 2 از 4

کسی لشکر کے چار حصے ہی تو سب سے اہم ہوتے ہیں، میمنہ، میسرہ، پیادے اور سوار، ان سب کی زمام کار اور قیادت و نظم و نسق ہمیں انہی لوگوں کے ہاتھ میں نظر آ رہا ہے جو ایک تو کوفی ہیں، دوسرے انہوں نے اہتمام سے خطوط لکھے اور تیسرے انہوں نے شد و مد کے ساتھ عہد اور بیعت کو توڑا اور آخر میں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو قتل کر کے ہی پیچھے ہٹے۔ اگر ان لوگوں کے دل میں سیدنا حسین بن ابی طالب رضی اللہ عنہما کی محبت کا ایک ذرہ بھی ہوتا، تو ان کے امکان میں یہ بات تھی کہ

٭ وہ حضرت حسین رضی اللہ عنہما کی رائے سے اتفاق کرتے اور ان کی مدد و نصرت کے لیے کمربستہ ہو جاتے۔

٭ یہ لوگ امیر کوفہ ابن مرجانہ فارسیہ اور اس کے امراء سے آہنی ہاتھوں سے نبٹ سکتے تھے، لیکن مکر و تلبیس کے اس جذبے کا کیا کیجیے جس کے ہاتھوں یہ کوفی مجبور تھے، جو یہودیانہ عقیدہ و عمل کا منطقی اثر تھا، جو ان کی رگ رگ میں رچ بس گیا ہوا تھا اور اب چاہتے ہوئے بھی یہ کوفی اپنے جیوں کو اس ناپاک جذبے کے اثرات سے پاک نہ کر سکتے تھے۔ چنانچہ ان لوگوں نے کمال مکاری و عیاری کے ساتھ جناب حسین رضی اللہ عنہ کو عداوتِ صحابہ کے اس دھاگے میں پرو دیا، جس میں اس سے قبل اس نوع کے اور بھی متعدد جرائم پروئے ہوئے تھے، تاکہ فتنوں کی بھٹی میں جلائے جانے والی آگ میں اور اضافہ ہو۔

ان غداروں نے ایسا جرم کیا تھا کہ ’’غداری‘‘ کا کلنک قیامت تک کے لیے ان کے ماتھوں کی زینت بن گیا۔ چنانچہ علامہ بغدادی لکھتا ہے:

’’کوفی روافض ’’غدار‘‘ اور ’’بخیل‘‘ کے رسوائے زمانہ ناموں سے جانے پہچانے جاتے ہیں اور اب یہ لوگ غداری اور بخل و خیانت میں مثال بن چکے ہیں۔ چنانچہ اب کسی کو بخیل اور غدار کہنا ہو تو اسے یہ کہا جاتا ہے: ’’ابخل من کوفی‘‘ اور ’’اغدر من کوفی‘‘ ’’تو تو کوفیوں سے بھی زیادہ بخیل ہے۔‘‘ اور ’’تو تو کوفیوں سے بھی زیادہ غدار ہے‘‘ آل بیتِ اطہار رضی اللہ عنہم سے ان کی تین رسوائے زمانہ غداریاں زیادہ مشہور ہیں:

1. سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد ان کوفیوں نے جناب حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے دست حق پرست پر سمع و طاعت کی بیعت کی، پھر غداری کر کے اس بیعت کو توڑ ڈالا اور ساباطِ مدائن میں سنان جعفی نے اندھیرے میں آپ پر کدال کا وار کر کے آپ کو شدید زخمی کر دیا۔

2. ان لوگوں نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو خطوط لکھے کہ آپ کوفہ چلے آئیے ہم یزید کے خلاف آپ کی مدد کریں گے۔ جناب حسین رضی اللہ عنہ ان پر دھوکہ کھا گئے اور کوفہ کے لیے روانہ ہو گئے۔ جب آپ کربلا پہنچے، تو انہوں نے غداری کی اور عبیداللہ بن زیاد کے ساتھ مل گئے حتیٰ کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے اہل بیت کے اکثر افراد کو کربلا میں قتل کر دیا۔

3. ان لوگوں نے زید بن علی بن حسین بن علی بن ابی طالب کے ساتھ بھی غداری کی۔ چنانچہ پہلے ان کی بیعت کی اور جب خروج کے بعد گھمسان کی جنگ ہونے لگی تو عین قتال کے وقت ان کا ساتھ چھوڑ گئے۔‘‘ ( الفرق بین الفرق للبغدادی: صفحہ 37)

جناب محمد بن علی بن ابی طالب بھی ان کوفیوں کو پرلے درجے کا غدار سمجھتے تھے اور وہ سیّدنا علی اور سیّدنا حسن رضی اللہ عنہما کے ساتھ کی جانے والی غداری کی ذمہ داری ان کوفیوں پر ڈالتے تھے۔ جیسا کہ بعد میں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ کی جانے والی غداری کے ذمہ دار بھی انہی کوفیوں کو ٹھہراتے تھے۔ چنانچہ جناب محمد رحمۃ اللہ نے اپنے بھائی سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو وصیت و نصیحت کرتے اور سمجھاتے ہوئے کہا:

’’اے میرے بھائی! ان کوفیوں نے آپ کے والد اور آپ کے بھائی کے ساتھ جو جو غداریاں کی ہیں، وہ آپ جانتے ہی ہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ کہیں آپ کے ساتھ بھی وہی نہ ہو، جو آپ سے پہلوں (یعنی آپ کے والد اور بھائی) کے ساتھ ہوا ہے۔‘‘ (فی رحاب کربلا لحسین کورانی: صفحہ 60-61)

پھر حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ واقعی وہی کچھ ہوا، جس کا محمد بن علی بن ابی طالب رحمۃ اللہ کو ڈر تھا۔

یہی بات فرزدق شاعر نے بھی اس سوال کے جواب میں کہ ’’کوفی شیعوں کا کیا حال ہے؟‘‘ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے کہی تھی کہ

’’ان کے دل تو آپ کے ساتھ ہیں، لیکن ان کی تلواریں آپ کے خلاف ہیں۔‘‘ (منتہی الآمال لعباس القمی: جلد، 1 صفحہ 454 الملہوف لابن طاؤوس: صفحہ 39)

یہ کوفی غدار تھے، قاتل علی رضی اللہ عنہ تھے، قاتل حسین رضی اللہ عنہ تھے اور یہ تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو بھی اپنی طرف سے قتل کر گئے تھے، مگر قسمت نے ان کی یاوری نہ کی اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ بچ گئے۔ جناب حسین رضی اللہ عنہ کو ان کے خائن و غدار ہونے کا پکا یقین ہو گیا تھا۔ ذیل کی نصوص اس کی تائید کرتی ہیں:

٭ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ ان کوفیوں سے فرماتے ہیں:

’’اگر تم لوگوں نے میرا ساتھ نہ دیا اور میرے عہد اور بیعت کو توڑ ڈالا تو میری عمر کی قسم! یہ کوئی تمہارا نیا کام نہیں۔ تم لوگ اس سے پہلے میرے باپ، میرے بھائی اور میرے چچا زاد مسلم بن عقیلؓ کے ساتھ ایسا کر چکے ہو، دھوکے میں پڑا وہی ہے، جو تم لوگوں سے دھوکہ کھائے۔‘‘ (المجالس الفاخرۃ: 79 علی خطی الحسین: صفحہ 100)

٭ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو ان کے خطوط کے بارے میں شک تھا۔ چنانچہ فرماتے ہیں:

’’ان لوگوں نے مجھے خوف زدہ کیا۔ یہ رہے اہل کوفہ کے خطوط اور یہی میرے قاتل ہیں۔‘‘ (معالم المدرستین: جلد، 3 صفحہ 72)

٭ گزشتہ میں شیعہ مصنف حسین کورانی کی رائے کو مفصل ذکر کیا جا چکا ہے کہ ایک تو ان کوفیوں نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا ساتھ چھوڑ دیا، دوسرے جلدی سے کربلا جا پہنچے اور کوفی شیطان کو خوش کرنے اور رب رحمان کو ناراضی کرنے کے لیے جناب حسین رضی اللہ عنہ کے خلاف تلواریں اٹھا لیں۔ چنانچہ عمرو بن حجاج کوفی جو کل تک حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور آل بیت رسولﷺ کا زبردست حامی اور طرف دار تھا آج اپنے لشکر کو یہ کہہ رہا تھا:

’’دین سے نکلنے والے اور جماعت سے جدا ہونے والے اس شخص سے قتال کرو۔‘‘ (مقتل الحسین للمقرم: صفحہ 175)

صفحہ 2 از 4