اہل کوفہ سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے قاتل ہیں -…

اہل کوفہ سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے قاتل ہیں

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 3 از 4

٭ حسین کورانی نے یہ بھی لکھا ہے کہ عبداللہ بن حوزہ تمیمی جو کل تک شیعانِ علی میں سے تھا اور ممکن ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو خطوط لکھنے والی شبث بن ربعی کی جماعت میں شامل رہا ہو اور یہ پکا کوفی تھا، لیکن آج حسینی قافلہ کے سامنے کھڑا پکار کر یہ کہہ رہا ہے کہ

’’اگر تم میں حسین موجود ہیں، تو انہیں جہنم کی آگ کی بشارت ہو۔‘‘ (ی رحاب کربلا لحسین کورانی: صفحہ 61)

٭ احسائی لکھتا ہے:

’’سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے لڑنے والا یہ لشکر صرف کوفیوں کا ہی تھا، جن کی تعداد تیس ہزار تک بیان کی جاتی ہے اور اس لشکر میں شام، حجاز، سوڈان، مصر، افریقہ، ہندوستان یا پاکستان کا ایک فرد بھی نہ تھا، یہ لوگ مختلف قبائل سے اکٹھے ہو گئے تھے۔‘‘ (عاشوراء لکاظم الاحسائی النجفی: صفحہ 89)

٭ محسن الامین کے بقول حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر کے غداری کرنے والے ان کوفیوں کی تعداد بیس ہزار تھی، جنہوں نے بعد میں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو قتل کر ڈالا۔ (اعیان الشیعۃ لمحسن الامین الشیعی: جلد، 1 صفحہ 24)

٭ گزشتہ میں امام زین العابدین رحمۃ اللہ کا مفصل خطبہ ذکر کیا جا چکا ہے، جس میں وہ اہل کوفہ کو نہایت بلیغ انداز میں سرزنش کرتے ہیں اور ان پر ان کے جرم کی قباحت و شناعت کو خوب اجاگر کرتے ہیں، جس کا خلاصہ یہ ہے:

٭ تم لوگوں نے میرے والد کو خطوط لکھ کر دھوکا دیا۔

٭ عہد کر کے اسے توڑا۔

٭ انہیں بے یار و مددگار چھوڑ کر ان سے قتال کیا اور بالآخر انہیں قتل کر ڈالا۔

٭ یہ عمل دنیا و آخرت میں تمہاری ذلت و رسوائی اور تباہی و بربادی کا قوی سبب ہے۔

٭ اور روز قیامت جناب رسول اللہﷺ کے اس سوال کا جواب دینے کو تیار ہو جاؤ کہ تم لوگوں نے میری عترت کو کیوں قتل کیا اور میری حرمت کو کیوں پامال کیا؟ تم لوگ میری امت میں سے نہیں ہو۔

٭ پھر جب ان کوفیوں نے غداری اور مکاری سے کام لیتے ہوئے جناب امام زین العابدین رحمۃ اللہ کو بھی انہیں یہ یقین دلا کر دھوکہ دینے کی کوشش کی کہ ہم آپ کی سنیں گے اور مانیں گے، تو انہوں نے کوفیوں کی اس بات کا پرزور ردّ کرتے ہوئے، یہ کہا:

’’اے مکار غدارو! دور ہو جاؤ، دور ہو جاؤ، تم لوگوں کو شہوتوں نے اپنا اسیر بنا رکھا ہے، کیا تم لوگ یہ چاہتے ہو کہ میرے ساتھ بھی وہی کرو، جو تم نے میرے باپ دادا کے ساتھ کیا ہے، ناچنے والیوں کے رب کی قسم! ابھی زخم گھلے نہیں یہ کل ہی کی تو بات ہے کہ تم لوگوں نے میرے باپ کو اس کے اہل بیت سمیت قتل کر دیا تھا۔‘‘ (مظالم اہل البیت لصادق مکی: صفحہ 258 الملہوف لابن طاؤوس: صفحہ 92)

٭ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی شہادت بھی بیان ہو چکی ہے، جس کی صدا ہر اس دل میں گونج رہی ہے، جس میں آل بیت رسولﷺ کی ذرّہ بھر بھی محبت ہے۔ چنانچہ جن لوگوں نے کدال کا وار کر کے قتل کرنے کی کوشش کی تھی، حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما انہیں یہ فرماتے ہیں:

’’اللہ کی قسم! میرے نزدیک معاویہ (رضی اللہ عنہ) ان لوگوں سے بہتر ہیں، جو خود کو میرا شیعہ باور کرتے ہیں، جبکہ دوسری طرف مجھے قتل کرنے کے درپے بھی ہیں، ان لوگوں نے میرا مال لوٹ لیا۔ اللہ کی قسم! اگر میں معاویہ (رضی اللہ عنہ) سے ایک عہد لے لوں، جس سے میں اپنا اور اپنے اہل کا خون محفوظ کر لوں، یہ اس بات سے بہتر ہے کہ یہ کوفی مجھے قتل کر کے میرے اہل بیت اور اہل کو ضائع اور برباد کر دیں۔‘‘ (الاحتجاج للطبرسی: جلد، 2 صفحہ 290)

٭ امام محمد باقر رحمۃ اللہ، کوفہ کے شیعیان کے بارے میں کہتے ہیں:

’’اگر یہ سب کے سب لوگ (یعنی سارے اہل کوفہ) ہمارے شیعہ بن جائیں، تو ان میں سے تین چوتھائی تو ہم پر شک کرنے والے ہوں گے، جبکہ ان کا ایک چوتھائی احمقوں کا ٹولہ ہو گا۔‘‘ (رجال الکشی للکشی: صفحہ 179)

٭ امام جناب موسیٰ کاظم رحمۃ اللہ جن کی طرف نسبت رکھنے والے خود کو موسوی کہتے ہیں، کوفیوں کی حقیقت کو بے نقاب کرتے ہوئے کہتے ہیں:

’’اگر میں اپنے شیعہ کو پرکھوں، تو یہ نام کے شیعہ نکلیں، اگر ان کا امتحان لوں تو مرتد نکلیں، اگر ان کو جانچوں تو ہزار میں ایک مخلص نکلے، اگر ان کو چھانوں تو اپنوں کے سوا کوئی نہ بچے، یہ تختوں پر ٹیک لگائے ایک زمانہ سے یہ کہتے آ رہے ہیں کہ ہم شیعانِ علی رضی اللہ عنہ ہیں، لیکن شیعانِ علی رضی اللہ عنہ تو وہ ہیں، جن کا قول و فعل صادق ہے۔‘‘ (الروضۃ للکافی: جلد، 8 صفحہ 191)

یہ ہیں کوفی شیعہ اور ان کے ہم عقیدہ لوگ، جن کی بداعمالیاں پوری امت کے سامنے کھلے بندوں موجود ہیں اور ہر شخص کی انگلی ان کی طرف اٹھ کر یہ کہہ رہی ہے کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اور آل بیت رسولﷺ کے قاتل یہی غدار اور گناہ گار ہیں، جنہوں نے اس امت کو اور خاص طور پر حضرات اہل بیت کو پے درپے ہلاکتوں میں ڈالا۔ یہ لوگ امت مسلمہ اور آل بیت رسول کے خلاف جرائم کے کس قدر رسیا اور خوگر ہیں!!!

ان دین دشمنوں کی شخصیت و کردار کا دوسرا گھناؤ نا ترین پہلو یہ ہے کہ روئے زمین کے معزز و محترم ترین انسانوں کا خون بہانے اور گردنوں تک شرور و فتن اور فسق و فجور کی دلدل میں دھنسے ہونے کے باوجود امت مسلمہ کو آج تک دھوکہ دینے میں جتے ہوئے ہیں، تاکہ خود پر سے جرائم کے ثبوتوں کے داغوں کو مٹا سکیں اور کسی کے دل میں یہ خیال تک نہ آنے دیں کہ

’’خون حسین کے اصل ذمہ دار کون ہیں؟ اور ان سے اس پاکیزہ ترین خون کا مطالبہ کیونکر کیا جائے؟!!‘‘

اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ جو بھی سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے نقش قدم پر چلنے کے لیے جرأت رندانہ کرتے ہوئے میدان جہاد میں اترنا چاہے، اسے اترنے سے قبل ہی سازشوں کے جال میں بری طرح الجھا کر جان سے مار ڈالا جائے۔ پھر اپنی ان بدبختانہ اور شقیانہ کاوشوں میں ایک قدم اور آگے بڑھتے ہوئے امت مسلمہ کو نبی کریمﷺ کی سنتوں اور رب کی کتاب سے دور کر کے یہود و مجوس کے رسوم و رواج میں دھکیلنے کی جہد مسلسل جاری رکھی جائے اور یہ سارا گھناؤ نا کھیل آل بیت رسولﷺ کی محبت کی آڑ میں کیا جائے۔

صفحہ 3 از 4