اہل کوفہ سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے قاتل ہیں -…

اہل کوفہ سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے قاتل ہیں

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 4 از 4

سب سے خطرناک یہ کہ دین اسلام کے امین، رسول اللہﷺ کے اوّلین اور سچے جاں نثاروں اور اسلام کے پہلے خدمت گاروں ’’حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ‘‘ پر طعن و تشنیع اور سب و شتم کے چھینٹے اڑا کر ان کے پاکیزہ کردار، بے لوث قربانیوں اور مبنی براخلاص جہادی کاوشوں کو مشکوک ٹھہرایا جائے، تاکہ آنے والی نسلوں کا حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر سے اعتبار اٹھ جائے اور ہر کہ و مہ اور ہر بے اوقات اور بے وقار اٹھ کر ان پر زبانِ طعن دراز کرتا پھرے اور جو جی میں آئے ان پر اناپ شناپ بول دے۔

مذکورہ بالا نصوص کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد کسی عاقل اور دانا و بینا پر یہ امر مخفی نہیں رہ سکتا کہ اہل کوفہ ہی دراصل قاتلانِ حسین ہیں، جنہوں نے مقتل حسین رضی اللہ عنہ کو ایک لاعلاج زخم بنا کر رکھ دیا ہے اور آج تک امت اس گہرے گھاؤ کو بھرنے کے لیے اپنی وحدت، امن و سلامتی اور عقیدہ و مذہب کی قربانی کی بھاری قیمت ادا کرتی چلی آ رہی ہے۔

حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے غداری کے نتیجہ میں آج تک بے پناہ لوگ قتل ہوئے ہیں۔ شاید یہ بے محابا خون ریزی و سفاکی نبی کریمﷺ کے اس ارشاد کا مصداق ہے جو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ

’’رب تعالیٰ نے حضرت محمدﷺ کی طرف اس بات کی وحی کی کہ میں نے یحییٰ بن زکریا (علیہ السلام) کے (قتل کے) بدلے میں ستر ہزار لوگوں کو قتل کیا اور میں تیری لخت جگر کے نور نظر کے (قتل کے) بدلے ستر ہزار اور ستر ہزار (مزید) لوگوں کو قتل کروں گا۔‘‘ (المستدرک للحاکم: رقم الحدیث، 4822 علامہ ذہبی ’’التلخیص‘‘ میں لکھتے ہیں: یہ روایت مسلم کی شرط پر ہے)

اگر روزنِ تاریخ سے جھانکا جائے، تو غدارانِ حسین کی قیادت میں بھڑکائی جانے والی فتنوں کی آگ میں آج تک بے شمار مسلمان جل کر خاکستر ہو چکے ہیں۔ بویہیوں، بسا سیریوں، قرامطیوں، ابن علقمی، تاتاریوں اور ہلاکو خان کی سفاکیوں اور خوں ریزیوں سے تعبیر تاریخ اس بات کی شاہد ناطق ہے اور آخر میں اور یہ بالکل آخری واقعہ نہیں، دورِ حاضر میں روافض کا مسلمانوں کے خلاف صلیبیوں اور یہودیوں کی طرف دست تعاون بڑھانا اور ان کی عسکری، فکری، نظریاتی، سیاسی اور اعلامی میدانوں میں بھرپور معاونت کرنا، اس بات کی آفتاب نیم روز کی طرح روشن اور عیاں دلیل ہے کہ یہ لوگ اسلام کے خلاف ہر ظالم، جابر، مستبد، قاہر، غدار، عیار اور مکار کے ہم خیال، دست و بازو اور مدد و معاون ہیں اور ان کے دامے، درمے سخنے قدمے ہر طرح کی مدد کرنے پر ہمہ وقت مستعد و تیار ہیں، گویا امت مسلمہ کو خاک و خون میں نہلانا اور اس کو ہلاکت و دمار کی بَلی چڑھانا ان کی زندگیوں کا مقصد وحید اور نظریاتی و عملی نصب العین ہے۔


صفحہ 4 از 4