اگر تمام لوگ محبت علی رضی اللہ عنہ پر جمع ہو جاتے تو اللہﷻ…

اگر تمام لوگ محبت علی رضی اللہ عنہ پر جمع ہو جاتے تو اللہﷻ جہنم کی تخلیق ہی نہ کرتا۔ (تحقیق)

  خادم الحدیث سید محمد عاقب حسین

صفحہ 2 از 2
قال أحمد والنسائی وغيرهما لم يرد فی حق أحد من الصحابة بالأسانيد الجياد أكثر مما جاء فی على وكـأن السبب فی ذلك أنه تأخر ووقع الاختلاف فی زمانه، وكـثر محاربوه و الخارجون عليه فكان ذلك سببًا لانتشار مناقبه لكثرة من كان يرويها من الصحابة ردا على من خـالفـه وإلا فالثلاثة قبله لهم من المناقب ما يوازيه ويزيد عليه۔
امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ اور امام احمد بن شعیب النسائی رحمۃ اللہ اور دیگر ائمہ نے فرمایا کسی بھی صحابی کے جید اسانید کے ساتھ اتنے فضائل مذکور نہیں جتنے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے ہیں گویا اس کا سبب یہ ہے کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ خلفائے ثلاثہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بعد تک حیات رہے آپ کا زمانہ متاخر تھا اور اس زمانہ میں مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقع ہوا اور آپ کے خلاف بغاوت کرنے والے اور جنگ کرنے والوں کی کثرت ہو گئی تھی آپ کے مناقب کے پھیلنے کا یہی سبب تھا کیونکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کثرت سے آپ کی مخالفت کرنے والوں کے جواب میں آپ کے مناقب روایت کیا کرتے تھے ورنہ جہاں تک خلفائے ثلاثہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا تعلق ہے تو وہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے مناقب کے موازی بلکہ ان سے بھی زیادہ ہیں۔
(التوشيح على الجامع الصحيح: جلد، 3 صفحہ، 435)
حجۃ اللہ فی الارضین شیخ الاسلام والمسلمین امیر المؤمنین فی الحدیث حافظ ابنِ حجر عسقلانی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں:
وكان سبب ذلك بغض بنی أمية له فكان كل من كان عنده علم من شئی من مناقبه من الصحابة يثبته۔
ترجمہ: سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے مناقب کا کثرت سے مروی ہونے کا سبب بنو امیہ کا آپ سے بغض رکھنا ہے تو جس بھی صحابی کو حضرت علیالمرتضیٰؓ کے مناقب میں سے جو معلوم ہوتا وہ اس کو ظاہر کرتے تاکہ لوگ بغض چھوڑدیں۔
(كتاب الإصابة فی تمييز الصحابة: جلد، 4 صفحہ، 465)
جس نے حضرت علیؓ سے محبت کی اس نے رسول اللہﷺ سے محبت کی جس نے سیدنا علیؓ سے بغض رکھا اس نے رسول اللہﷺ سے بغض رکھا۔
عن أمِّ سلمةَؓ قالتْ: أَشهدُ أنِّی سمعتُ رسولَ اللهِﷺ يقولُ من أحبَّ علياؓ فقد أحبَّنی ومَن أحبَّنی فقد أحبَّ اللهَ عزَّوجلَّ ومَن أَبغضَ علياؓ فقد أَبغَضَنی ومن أَبغَضَنی فقد أَبغضَ الله۔
ترجمہ: ام المؤمنین حضرت امِ سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں گواہی دیتی ہوں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے سنا جس نے علیؓ سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی اس نے اللہ سے محبت کی اور جس نے علیؓ سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا اور جس نے مجھ سے بغض رکھا اس نے اللہ سے بغض رکھا۔
(كتاب المعجم الكبير للطبرانی: جلد، 23 صفحہ، 380 وسندہ حسن )
(كتاب المخلصيات: جلد، 3 صفحہ، 150)
(كتاب مسند البزار، البحر الزخار، جلد، 9 صفحہ، 323)
(حکم الحدیث، حسن صحیح)
حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے محبت مؤمن کرے گا اور بغض منافق رکھے گا:
قَالَ علیؓ: وَالَّذِی فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ إِنَّهُ لَعَهْدُ النَّبِی الأُمِّیﷺ إِلَی أَنْ لَا يُحِبَّنِی إِلَّا مُؤْمِنٌ وَلَا يُبْغِضَنِي إِلَّا مُنَافِق۔
ترجمہ: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: قسم ہے اس کی جس نے دانہ چیرا پھر اس نے گھاس اگائی اور جان بنائی رسول اللہﷺ نے مجھ سے عہد کیا تھا کہ نہیں محبت رکھے گا مجھ سے مگر مؤمن اور نہیں بغض رکھے گا مجھ سے مگر منافق۔
(صحیح مسلم: رقم الحدیث، 240)
(كتاب المصنف ابنِ أبی شيبة، ت الحوت: رقم الحدیث، 32064)
(كتاب السنن الكبرىٰ النسائی، ط الرسالة: رقم الحدیث: 8431)
(حکم الحدیث: صحیح)
خلاصہ کلام: پوری تحقیق کا حاصل کلام یہ ہوا کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے فضائل میں بے شمار صحیح اور حسن احادیث موجود ہیں لہٰذا آپ کے فضائل میں اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے فضائل میں صحیح اور حسن احادیث بیان کی جائیں تاکہ رافضیوں اور ناصبیوں کو ان عظیم ہستیوں کی ذاتِ بابرکات پر طعن و تبراء کرنے کا موقع نہ ملے۔
فقط واللہ ورسولہ اعلم بالصواب
خادم الحدیث النبویﷺ سید محمد عاقب حسین رضوی
(مؤرخہ 16 ربیع الثانی 1442ھ)

صفحہ 2 از 2