مقتل حسین رضی اللہ عنہ کا خلاصہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

مقتل حسین رضی اللہ عنہ کا خلاصہ

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 1 از 4

خلاصہ یہ ہے کہ قتل حسین رضی اللہ عنہ کے جملہ واقعات پر نگاہ غور ڈالنے والا صاف اس نتیجہ پر جا پہنچتا ہے کہ باطنی ہاتھوں سے بنے سازشوں کے اس جال کے پس پردہ بنیادی مقصد یہ ہے کہ قتل حسین کا مسئلہ ہمیشہ لا ینحل رہے اور اس میں بے پناہ غموض اور الجھاؤ پیدا کر کے اسے امت مسلمہ کے عقیدہ و وحدت پر کاری ضرب لگانے کا تباہ کن ہتھیار بنا دیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ بے شمار لوگ اس مسئلہ کے درپے ہی نہیں ہوتے، ہم مانتے ہیں کہ یہ زیادہ سلامتی کی راہ ہے لیکن پھر آخر اس بات کا کیا حل ہے کہ

’’حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دشمنوں نے قتل حسین رضی اللہ عنہ کے واقعہ کو فتنہ سازی اور افتراق و انتشار کا ایک قوی ہتھیار بنا لیا ہے۔‘‘

آخر اس فتنہ انگیزی کا کوئی تو سدباب ہو؟!!

جبکہ دوسری طرف ان واقعات کی توضیح و بیان اور قاتلانِ حسین کی تعیین و تحدید میں بعض علماء کا طرزِ عمل بھی سلبی ہوتا جا رہا ہے۔ چنانچہ:

نہ تو یہ علماء ان سبائیوں کی اباطیل کی تردید کرتے ہیں۔

نہ قتل حسینؓ کے واقعات کو قرار واقعی طور پر کھول کر بیان کرتے ہیں۔

نہ اس امر پر کوئی روشنی ڈالتے ہیں کہ روافض نے قتل حسینؓ کے واقعہ کو امت مسلمہ میں فتنہ انگیزی برپا کرنے اور ان کے دین و عقیدہ کو برباد کرنے کا ذریعہ بنا لیا ہے ۔جبکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس عظیم ابتلاء کے ورق ورق کو خوب کھول کر بیان کیا جائے تاکہ امت مسلمہ کی وحدت و توحید کے دشمنوں کی نامشکور کاوشوں کا سدباب ہو۔

لیکن افسوس کہ یہی علماء ہمیں دوسرے اہم ترین معاملات میں بے حد بیدار مغزی اور موضوعیت کے ساتھ بحث و تدقیق اور جمع و تطبیق کرتے اور ان کی بابت نہایت عادلانہ اور منصفانہ حکم لگاتے نظر آتے ہیں اور جب بات ان خلفائے ثلاثہ رضی اللہ عنہم کے قتل کی آتی ہے، تو بحث و تحقیق کی بساط لپیٹ دی جاتی ہے، موضوعیت کو بالائے طاق رکھ دیا جاتا ہے، بیدار مغزی کی جگہ جذبات اور ولولے لے لیتے ہیں اور ساری نکتہ رسی اور دقت نظری خود ساختہ عقیدتوں کے ریلے میں خس و خاشاک کی طرح بہ جاتی ہے، جس کا یہ حضرات نہایت وسیع پیمانے پر فائدہ اٹھاتے ہیں اور ایسا جذباتی غل مچاتے ہیں کہ ہر کس و ناکس اور عالم و جاہل کے سامنے نبی کریمﷺ کی بس یہی احادیث رہ جاتی ہے:

٭ نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے:

’’حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں، اللہ اس سے محبت کرتا ہے جو حسین سے محبت کرتا ہے حسین میرے نواسوں میں سے ایک نواسہ ہے۔‘‘ (جامع الترمذی: 3775 امام ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے۔ علامہ البانی نے بھی اس حدیث کو حسن کہا ہے۔ (سنن ابن ماجہ: 144) علامہ البانی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے، لیکن اس حدیث کی بابت وہ عقیدہ رکھنا درست نہیں، جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دشمنوں کا عقیدہ ہے، کیونکہ ایسی ہی بات نبی کریمﷺ نے حضرت جُلیَبِیب رضی اللہ عنہ کے بارے میں بھی ارشاد فرمائی ہے۔ چنانچہ آپﷺ نے حضرت جلیـبـیب رضی اللہ عنہ کے بارے میں دو مرتبہ یہ ارشاد فرمایا: ’’یہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں۔‘‘ (صحیح مسلم: 2472) اور اشعریین کے بارے میں ارشاد فرمایا: ’’یہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں۔‘‘ (صحیح البخاری: 2354))

٭ نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے:

’’حسن اور حسین نوجوانانِ جنت کے سردار ہیں۔‘‘ (اس کی تخریج گزشتہ صفحات میں گزر چکی ہے)

٭ نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے:

’’عنقریب بے شمار فتنے ظاہر ہوں گے۔ پس جس نے اس امت کے امر میں تفرقہ پیدا کرنا چاہا، جبکہ وہ ایک ہو تو اس کی گردن مار دو خواہ وہ جو کوئی بھی ہو۔‘‘ (صحیح مسلم: 1852 اس حدیث میں اس شخص سے قتال کرنے کا حکم ہے، جو امام کے خلاف خروج کرے یا مسلمانوں میں تفریق پیدا کرنا چاہتا ہو۔ یہ منع ہے۔ لہٰذا اگر ایسا آدمی باز نہ آئے، تو اس سے قتال کیا جائے اور اگر اس کا شر اس کو قتل کیے بغیر ختم نہ ہوتا ہو تو اس کا خون ہدر (رائیگاں ) ہے۔ لہٰذا اسے فتنہ کی سرکوبی کی خاطر قتل کر دیا جائے گا)

یہ حکم اس وقت ہے جب ایک شخص امام کے خلاف خروج پر مصر ہو جائے، نصیحت قبول نہ کرے اور قتال کیے بنا نہ ٹلے۔ جبکہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے جب اہل کوفہ کے سامنے تین تجاویز رکھ دیں، تو آپ نے ان کے ان سب دلائل کی جڑ کاٹ کر رکھ دی، جن کے سہارے وہ خونِ حسین رضی اللہ عنہ کو مباح سمجھے بیٹھے تھے، بالخصوص جب آپ نے اس بات کا بھی اعلان کر دیا کہ آپ یزید کے ہاتھ پر بیعت کرنے پر تیار ہیں، چنانچہ آپ نے اہل کوفہ سے ارشاد فرمایا:

’’میں یزید کے ہاتھوں میں ہاتھ دیتا ہوں، پھر وہ اپنے اور میرے درمیان جو فیصلہ صحیح سمجھے کر لے۔‘‘ (تاریخ الطبری: جلد، 3 صفحہ 312)

آپ کا یہ ارشاد اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ یزید آپ کے مقام و مرتبہ کی عظمت کو جانتا تھا اور وہ آپ کا حق پہچانتا تھا۔ لیکن جب ان کوفیوں نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی تینوں تجاویز کو رد کر دیا، تو اب ان کے دامن میں سوائے ظلم و ستم کے اور کچھ باقی نہ رہ گیا تھا۔

٭ نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے:

’’جو اپنے امیر میں کوئی ناگوار بات دیکھے، تو اس پر صبر کرے، کیونکہ جو بھی جماعت سے بالشت بھر جدا ہوا اور پھر اسی حال میں مر گیا، تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔‘‘ (صحیح البخاری: 6724)

٭ نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے:

’’اللہ نے اس شخص پر جہنم کی آگ کو حرام کر دیا ہے جو اللہ کی رضا کے لیے لا الٰہ الا اللہ پڑھتا ہے۔‘‘

حضرت محمود بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

’’میں نے یہ حدیث چند لوگوں کو سنائی، جن میں نبی کریمﷺ کے ایک صحابی حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بھی تھے اور ہم سر زمین روم میں اس غزوہ میں نکلے ہوئے تھے، جس میں حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا تھا اور اس وقت یزید بن معاویہؓ ہمارے امیر اور قائد تھے۔‘‘ (فتح الباری لابن حجر رحمۃ اللہ علیہ، فی شرح البخاری: شرح الحدیث رقم، 1130)

صفحہ 1 از 4