مقتل حسین رضی اللہ عنہ کا خلاصہ
حامد محمد خلیفہ عمانخلاصہ یہ ہے کہ قتل حسین رضی اللہ عنہ کے جملہ واقعات پر نگاہ غور ڈالنے والا صاف اس نتیجہ پر جا پہنچتا ہے کہ باطنی ہاتھوں سے بنے سازشوں کے اس جال کے پس پردہ بنیادی مقصد یہ ہے کہ قتل حسین کا مسئلہ ہمیشہ لا ینحل رہے اور اس میں بے پناہ غموض اور الجھاؤ پیدا کر کے اسے امت مسلمہ کے عقیدہ و وحدت پر کاری ضرب لگانے کا تباہ کن ہتھیار بنا دیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ بے شمار لوگ اس مسئلہ کے درپے ہی نہیں ہوتے، ہم مانتے ہیں کہ یہ زیادہ سلامتی کی راہ ہے لیکن پھر آخر اس بات کا کیا حل ہے کہ
’’حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دشمنوں نے قتل حسین رضی اللہ عنہ کے واقعہ کو فتنہ سازی اور افتراق و انتشار کا ایک قوی ہتھیار بنا لیا ہے۔‘‘
آخر اس فتنہ انگیزی کا کوئی تو سدباب ہو؟!!
جبکہ دوسری طرف ان واقعات کی توضیح و بیان اور قاتلانِ حسین کی تعیین و تحدید میں بعض علماء کا طرزِ عمل بھی سلبی ہوتا جا رہا ہے۔ چنانچہ:
نہ تو یہ علماء ان سبائیوں کی اباطیل کی تردید کرتے ہیں۔
نہ قتل حسینؓ کے واقعات کو قرار واقعی طور پر کھول کر بیان کرتے ہیں۔
نہ اس امر پر کوئی روشنی ڈالتے ہیں کہ روافض نے قتل حسینؓ کے واقعہ کو امت مسلمہ میں فتنہ انگیزی برپا کرنے اور ان کے دین و عقیدہ کو برباد کرنے کا ذریعہ بنا لیا ہے ۔جبکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس عظیم ابتلاء کے ورق ورق کو خوب کھول کر بیان کیا جائے تاکہ امت مسلمہ کی وحدت و توحید کے دشمنوں کی نامشکور کاوشوں کا سدباب ہو۔
لیکن افسوس کہ یہی علماء ہمیں دوسرے اہم ترین معاملات میں بے حد بیدار مغزی اور موضوعیت کے ساتھ بحث و تدقیق اور جمع و تطبیق کرتے اور ان کی بابت نہایت عادلانہ اور منصفانہ حکم لگاتے نظر آتے ہیں اور جب بات ان خلفائے ثلاثہ رضی اللہ عنہم کے قتل کی آتی ہے، تو بحث و تحقیق کی بساط لپیٹ دی جاتی ہے، موضوعیت کو بالائے طاق رکھ دیا جاتا ہے، بیدار مغزی کی جگہ جذبات اور ولولے لے لیتے ہیں اور ساری نکتہ رسی اور دقت نظری خود ساختہ عقیدتوں کے ریلے میں خس و خاشاک کی طرح بہ جاتی ہے، جس کا یہ حضرات نہایت وسیع پیمانے پر فائدہ اٹھاتے ہیں اور ایسا جذباتی غل مچاتے ہیں کہ ہر کس و ناکس اور عالم و جاہل کے سامنے نبی کریمﷺ کی بس یہی احادیث رہ جاتی ہے:
٭ نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے:
’’حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں، اللہ اس سے محبت کرتا ہے جو حسین سے محبت کرتا ہے حسین میرے نواسوں میں سے ایک نواسہ ہے۔‘‘ (جامع الترمذی: 3775 امام ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے۔ علامہ البانی نے بھی اس حدیث کو حسن کہا ہے۔ (سنن ابن ماجہ: 144) علامہ البانی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے، لیکن اس حدیث کی بابت وہ عقیدہ رکھنا درست نہیں، جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دشمنوں کا عقیدہ ہے، کیونکہ ایسی ہی بات نبی کریمﷺ نے حضرت جُلیَبِیب رضی اللہ عنہ کے بارے میں بھی ارشاد فرمائی ہے۔ چنانچہ آپﷺ نے حضرت جلیـبـیب رضی اللہ عنہ کے بارے میں دو مرتبہ یہ ارشاد فرمایا: ’’یہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں۔‘‘ (صحیح مسلم: 2472) اور اشعریین کے بارے میں ارشاد فرمایا: ’’یہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں۔‘‘ (صحیح البخاری: 2354))
٭ نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے:
’’حسن اور حسین نوجوانانِ جنت کے سردار ہیں۔‘‘ (اس کی تخریج گزشتہ صفحات میں گزر چکی ہے)
٭ نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے:
’’عنقریب بے شمار فتنے ظاہر ہوں گے۔ پس جس نے اس امت کے امر میں تفرقہ پیدا کرنا چاہا، جبکہ وہ ایک ہو تو اس کی گردن مار دو خواہ وہ جو کوئی بھی ہو۔‘‘ (صحیح مسلم: 1852 اس حدیث میں اس شخص سے قتال کرنے کا حکم ہے، جو امام کے خلاف خروج کرے یا مسلمانوں میں تفریق پیدا کرنا چاہتا ہو۔ یہ منع ہے۔ لہٰذا اگر ایسا آدمی باز نہ آئے، تو اس سے قتال کیا جائے اور اگر اس کا شر اس کو قتل کیے بغیر ختم نہ ہوتا ہو تو اس کا خون ہدر (رائیگاں ) ہے۔ لہٰذا اسے فتنہ کی سرکوبی کی خاطر قتل کر دیا جائے گا)
یہ حکم اس وقت ہے جب ایک شخص امام کے خلاف خروج پر مصر ہو جائے، نصیحت قبول نہ کرے اور قتال کیے بنا نہ ٹلے۔ جبکہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے جب اہل کوفہ کے سامنے تین تجاویز رکھ دیں، تو آپ نے ان کے ان سب دلائل کی جڑ کاٹ کر رکھ دی، جن کے سہارے وہ خونِ حسین رضی اللہ عنہ کو مباح سمجھے بیٹھے تھے، بالخصوص جب آپ نے اس بات کا بھی اعلان کر دیا کہ آپ یزید کے ہاتھ پر بیعت کرنے پر تیار ہیں، چنانچہ آپ نے اہل کوفہ سے ارشاد فرمایا:
’’میں یزید کے ہاتھوں میں ہاتھ دیتا ہوں، پھر وہ اپنے اور میرے درمیان جو فیصلہ صحیح سمجھے کر لے۔‘‘ (تاریخ الطبری: جلد، 3 صفحہ 312)
آپ کا یہ ارشاد اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ یزید آپ کے مقام و مرتبہ کی عظمت کو جانتا تھا اور وہ آپ کا حق پہچانتا تھا۔ لیکن جب ان کوفیوں نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی تینوں تجاویز کو رد کر دیا، تو اب ان کے دامن میں سوائے ظلم و ستم کے اور کچھ باقی نہ رہ گیا تھا۔
٭ نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے:
’’جو اپنے امیر میں کوئی ناگوار بات دیکھے، تو اس پر صبر کرے، کیونکہ جو بھی جماعت سے بالشت بھر جدا ہوا اور پھر اسی حال میں مر گیا، تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔‘‘ (صحیح البخاری: 6724)
٭ نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے:
’’اللہ نے اس شخص پر جہنم کی آگ کو حرام کر دیا ہے جو اللہ کی رضا کے لیے لا الٰہ الا اللہ پڑھتا ہے۔‘‘
حضرت محمود بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’’میں نے یہ حدیث چند لوگوں کو سنائی، جن میں نبی کریمﷺ کے ایک صحابی حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بھی تھے اور ہم سر زمین روم میں اس غزوہ میں نکلے ہوئے تھے، جس میں حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا تھا اور اس وقت یزید بن معاویہؓ ہمارے امیر اور قائد تھے۔‘‘ (فتح الباری لابن حجر رحمۃ اللہ علیہ، فی شرح البخاری: شرح الحدیث رقم، 1130)
ایسے ابرار و اخیار صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ یزید کا ایک لشکر میں ہونا ان روایات کے جھوٹا ہونے کی دلیل ہے، جو یہ بیان کرتی ہیں کہ یزید شراب خوری اور لہو و لعب کا عادی تھا، لیکن اس کے باوجود صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس کے امیر ہونے پر راضی تھے۔ حاشا و کلا کہ اگر یزید ایسی باتوں کا مرتکب ہوتا، جو حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اخلاق کے متناقض ہوتی ہیں، تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جیسا متبع سنت شخص معاصی کے مرتکب ایک امیر کی قیادت میں کسی غزوہ میں کیونکر شریک ہو سکتا تھا؟
بلاشبہ ایسی روایات سے حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی دیانت اور تقویٰ کو موردِ طعن بنایا جاتا ہے کہ یہ لوگ منکرات پر راضی تھے اور دراصل یزید کی کردار کشی کی آڑ میں زیادہ مقصود خود حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی کردار کشی ہوتی ہے۔
دوسرے یہ امر بھی ملحوظ رہے کہ ان روایات کی خود علمی دنیا میں کوئی قدر و قیمت نہیں، چاہے یہ روایات زبانِ زد خلائق ہی ہیں۔
اس طرح حضرت عبداللہ بن زبیر، حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہم جیسے اکابر صحابہ کا اس لشکر میں شریک ہونا جس کی قیادت یزید کر رہا ہو، ( یہ غزوۂ قسطنطنیہ کا ذکر ہے) اس بات کی بہتر دلیل ہے کہ یزید استقامت کی صفت سے متصف تھا، اس میں متعدد صفات حمیدہ جمع تھیں اور اس میں مہمات امور کو سر انجام دینے کی صلاحیتیں موجود تھیں، وگرنہ ایسے افاضل و اکابر صحابہ رضی اللہ عنہم ایک فاسق و فاجر -جیسا کہ زبان زد خلائق ہے- کی زیر قیادت کبھی کسی غزوہ میں نہ نکلتے۔ دوسرے حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مبارک زندگیوں کا صرف ایک ہی مقصد تھا اور وہ تھا ’’اعلائے کلمۃ اللہ۔‘‘
پھر یزید کی بیعت کرنا جناب ابن عمر رضی اللہ عنہما کا کوئی عارضی موقف نہ تھا۔ چنانچہ جب حرہ کا واقعہ پیش آیا اور لوگوں نے یزید کی بیعت ختم کر دی، تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے بچوں کو جمع کیا، پھر کلمہ شہادت پڑھا، پھر فرمایا:
’’اما بعد! ہم نے ان صاحب کی اللہ اور اس کے رسولﷺ کے نام پر بیعت کی ہے، میں نے نبی کریمﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ’’غدر کرنے والے کے لیے روزِ قیامت ایک پرچم نصب کیا جائے گا اور کہا جائے کہ یہ فلاں کی غداری (کا نشان) ہے اور سب سے بڑی غداری یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے کی اللہ اور اس کے رسولﷺ کے نام پر بیعت کرے، پھر اس کی بیعت کو توڑ ڈالے، پس تم میں سے کوئی یزید کی بیعت نہ توڑے اور تم میں سے کوئی اس امر (خلافت) کی طرف نہ دیکھے، وگرنہ اس کے اور میرے درمیان لا تعلقی ثابت ہو جائے گی۔‘‘ (مسند احمد: 5088 شیخ ارناؤ وط کہتے ہیں: اس کی اسناد صحیح ہیں اور شیخین کی شرط پر ہے)
محمد بن حنفیہ رحمۃ اللہ کی شہادت بھی ہمارے سامنے ہے، جو یزید پر لگائے جانے والے اتہامات کے ردّ کا شافی جواب ہیں۔ چنانچہ محمد بن حنفیہ رحمۃ اللہ نے یزید کے خلاف خروج کرنے والے ہر شخص سے علیحدگی اختیار کر لی تھی، جن میں خود ان کے بھائی حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما بھی شامل تھے، حالانکہ محمد رحمۃ اللہ کبھی کسی میدان سے پیچھے رہنے والے نہ تھے۔ یہ وہی محمد رحمۃ اللہ تو ہیں، جو اپنے والد ماجد سیدنا علی ابن ابی طالب امیر المومنین و خلیفہ راشد رضی اللہ عنہ کا پرچم تھامے جمل اور صفین کے میدانوں میں سب سے آگے آگے تھے۔ بہرحال محمد بن حنفیہ رحمۃ اللہ کا موقف ان جھوٹی روایات کو جھٹلاتا ہے، جو یزید کی طرف غیر اسلامی اخلاق کو منسوب کرتی ہیں، جیسے نماز پنجگانہ میں غفلت کرنا وغیرہ اور طعنہ پروروں کے اُڑائے شبہات کو پا درِ ہوا کر دیتا ہے، مشہور مؤرخ بلاذری روایت کرتا ہے:
’’حضرت محمد بن حنفیہ رحمۃ اللہ شام (دمشق) یزید بن معاویہؓ کے پاس تشریف لے گئے۔ چند دن بعد جب لوٹنے کا ارادہ کیا، تو الوداع کہنے یزید بن معاویہؓ کے پاس تشریف لے گئے۔ یزید ان کی بے پناہ عزت کیا کرتا تھا۔ کہنے لگا: اے ابو القاسم! اگر آپ نے مجھ میں کسی ناگوار بات کو دیکھا ہو، تو میں اس سے دست کش ہوتا ہوں اور جو آپ کہیں گے، وہ کرنے کو تیار ہوں۔ محمد بن حنفیہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! اگر میں تم میں کسی منکر کو دیکھتا، تو میں تمہیں اس سے روکے بغیر رہ نہ سکتا تھا، اور اس بارے میں حق بات سے تم کو ضرور آگاہ کرتا، کیونکہ رب تعالیٰ نے اہل علم سے اس بات کا عہد لیا ہے کہ وہ حق بات لوگوں کو ضرور بیان کریں گے اور اس کو چھپا کر نہ رکھیں گے۔ میں نے تم میں خیر کے سوا کچھ نہیں دیکھا۔‘‘ (انساب الاشراف: جلد، 5 صفحہ 17)
امام ابن کثیر رحمۃ اللہ نے روایت کیا ہے کہ حضرت عبداللہ ابن زبیر رضی اللہ عنہما کا مناد عبداللہ بن مطیع چند ساتھیوں کے ساتھ مل کر محمد بن حنفیہ رحمۃ اللہ سے ملنے مدینہ روانہ ہوا۔ ان لوگوں کا ارادہ انہیں یزید کی بیعت توڑنے پر راضی کرنے کا تھا۔ لیکن محمد رحمۃ اللہ نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ اس پر ابن مطیع کہنے لگا: یزید مے خوار اور تارک صلوۃ ہے، وہ کتاب خدا کے حکم سے تجاوز کرتا ہے۔ محمد رحمۃ اللہ نے یہ سن کر کہا:
’’لیکن میں نے اس میں یہ باتیں نہیں دیکھیں، میں اس کے پاس جا کر چند دن قیام کر کے آیا ہوں، میں نے اسے صوم و صلوٰۃ کا پابند، خیر کا متلاشی، علم دین کا سائل اور سنت کا پیرو دیکھا ہے۔‘‘
ابن مطیع بولا: یہ اس نے آپ کو دکھلانے کے لیے کیا تھا (وہ بناوٹ کر رہا تھا)
محمد بولے: ’’بھلا اس کو مجھ سے ڈرنے کی یا مجھ میں کسی بات کے طمع رکھنے کی کیا ضرورت تھی؟ دوسرے مے خواری وغیرہ کی، جو باتیں تم لوگ ذکر کر رہے ہو، کیا یہ باتیں اس نے تمہیں بتلائی ہیں؟ اگر تو اس نے یہ باتیں تمہیں بتلائی ہیں تو تم بھی ان باتوں میں شریک ہو (کہ کل تک اس کی بیعت پر تھے اور آج اس کی بیعت توڑتے ہو) اور اگر یہ باتیں اس نے تمہیں نہیں بتلائیں، تو تمہارے لیے ایسی باتوں کی شہادت دینا جائز نہیں، جن کو تم جانتے نہیں۔‘‘
اس پر ان لوگوں نے کہا: ہم اس بارے میں حق پر ہیں، اگرچہ ہم نے یہ باتیں نہیں بھی دیکھیں۔ محمد بن حنفیہ رحمۃ اللہ نے تب یہ بات کہی:
’’رب تعالیٰ نے اہل شہادت کو ایسا کرنے سے روکا ہے اور میرا تمہارے اوپر کوئی اختیار نہیں۔‘‘ (البدایۃ و النہایۃ: جلد، 8 صفحہ 233 تاریخ الاسلام، حوادث السنۃ: 61-80 مختصر تاریخ دمشق: جلد، 1 صفحہ 3756)
محمد بن حنفیہ رحمۃ اللہ کا یہ موقف ان لوگوں کی تادیب و سرزنش اور تنبیہ و تاکید کے لیے کافی ہے، جنہوں نے ایک ایسے شخص کے خلاف اتہام بازی اور تہمت طرازی کے میدان میں اپنی زبان اور قلم کو بگٹٹ گھوڑے کی طرح سرپٹ دوڑا رکھا ہے، جس کی بیعت پر امت کی طرف سے ’’شبہ اجماع‘‘ ثابت ہے اور جب ہم محمد بن حنفیہ کے اس موقف کے ساتھ اپنے زمانہ کے ’’شیخ الصحابہ‘‘ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جیسے جلیل القدر اور رفیع المرتبت صحابی رسولﷺ کے موقف کو بھی ملا لیتے ہیں، جو اس اجماع کے خلاف خروج کرنے والوں کو شدت کے ساتھ ڈراتے ہیں اور انہیں گناہ گار اور اوزار و آثام کا بوجھ اٹھانے والا قرار دیتے ہیں، تو اس بہتان بازی کی قباحت میں اور بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔
یہی موقف امام زین العابدین علی بن حسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما کا بھی تھا، جنہوں نے اپنے کسی قول یا فعل کے ساتھ یزید کے خلاف خروج کرنے والوں کا ساتھ نہ دیا تھا اور نہ بنی عبدالمطلب میں سے ہی کسی نے ایسا کیا تھا۔ اگر مؤرخین کی بیان کردہ یہ باتیں درست ہوتی، تو امام زین العابدین رحمہما اللہ سے بڑھ کر اور کون ہو سکتا تھا، جو ان باتوں پر خاموش رہتا اور یزید کے خلاف خروج نہ کرتا؟
مزید یہ کہ نبی کریمﷺ کا یہ ارشاد اس بات کو واجب کرتا ہے کہ اٹکل سے حکم بیان کرنے سے قبل خوب غور و خوض ضرور کر لیا جائے۔ نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے:
’’قیصر کے شہر سے میری امت کا جو پہلا لشکر جہاد کرے گا، وہ مغفور (بخشش کیا ہوا) ہے۔‘‘ (صحیح البخاری: 2766)
یعنی اس کے لیے مغفرت اور بخشش کی بشارت ہے۔
قیصر کے شہر سے مراد قسطنطنیہ ہے۔ یزید بن معاویہؓ نے اپنے والد ماجد جناب امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں بلاد روم میں جہاد کیا اور قسطنطنیہ تک جا پہنچا۔ اس غزوہ میں اس کے ہمراہ کبار صحابہ اور اشراف و اکابر تھے، جیسے حضرت ابن عمر، حضرت ابن عباس اور حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہم وغیرہ، جنہوں نے اسی غزوہ میں وفات پائی اور قسطنطنیہ کی فصیل کے قریب دفن کیے گئے۔ ان کی قبر آج بھی مشہور و معروف اور مرجع خلائق ہے۔ یہ 52 ہجری کے قریب قریب کا قصہ ہے جس کا انکار صرف ایک ہٹ دھرم، بے انصاف اور موضوعیت سے محروم انسان ہی کر سکتا ہے۔
اس حدیث میں اس لشکر کی منقبت بھی ہے اور ان کے لیے لسان نبوت سے مغفرت کی بشارت بھی ہے۔ جب نیکوں کا ہم مجلس بھی محروم نہیں رہتا، تو یاد رکھیے کہ پھر اس لشکر میں شریک ہر انسان چاہے وہ امیر تھا یا مامور، رب تعالیٰ کے کرم کا طلب گار اور نبی کریمﷺ کی بشارت کا خواست گار تھا۔
اہل سنت و الجماعت کے علماء جو یزید پر سب و شتم کے جواز کے قائل ہیں، تو اس کی وجہ ان کے علم و فہم کا قصور اور کوتاہی ہے۔ جس کے اصولی طور پر تین ہی اسباب ہو سکتے ہیں:
1۔ یا تو یہ نادان دوست بھی اعدائے صحابہ کے بچھائے مکر و فریب کے جالوں میں جا پھنسے ہیں۔
2۔ یا پھر یہ اس شدید جذباتی اور حساس ماحول کا نتیجہ ہے جس میں یہ علماء رہ رہے ہوتے ہیں۔
3۔ یا پھر تحقیق و تدقیق کا ذہول انہیں سب و شتم کے جواز کے دروازے پر لے جاتا ہے۔ حالانکہ اگر یہ لوگ تحقیق کرنا چاہیں تو کر بھی سکتے ہیں اور یہ امر انہیں نبی کریمﷺ کے ساتھ محبت و ولا رکھنے میں زیادہ پاکیزگی کا باعث بنے گا۔
لیکن جنہوں نے حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کو لعن طعن کے تیروں کی آماج گاہ بنا لیا اور اس کی دلیل آل بیت رسولﷺ کی محبت بیان کی کہ ان کا کام ہی امت میں کتاب و سنت کی بابت تشکیک پھیلانا ہے۔ ان کے لیے ہلاکت و بربادی ہو، انہوں نے بے شمار حوادث و واقعات کو ایسے طلسماتی رنگ میں پیش کیا ہے اور ان کی ایسی فاسد توجیہات اور ان کی بابت ایسے بارد اقوال پیش کیے ہیں، جن کو روافض، مستشرقین اور لامذہب ملحدین نے امت کی وحدت پر حملہ کرنے کا تباہ کن ہتھیار بنا لیا ہے اور آج اس ہتھیار کو لے کر یہ نامراد طبقے حق کی بیخ کنی میں لگے ہیں۔
اس طبقہ کی جانب داری، غفلت، سوء فہم، کج فکری اور حالات و واقعات کی خلاف واقعہ منظر کشی کی عادت کی اس سے بڑھ کر اور کیا دلیل ہو سکتی ہے کہ جب بات حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کی آتی ہے، جو میدان کربلا میں شہید ہوئے نہ کہ کسی مسجد اور اس کے محراب میں، تو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے نام کی غیرت پر وہ شور مچایا جاتا ہے کہ آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں۔ لیکن جب بات آتی ہے شہید منبر و محراب، جناب محمد مصطفی احمد مجتبیٰﷺ کے وزیر و نصیر، خلیفہ راشد، امیر المومنین عمر بن خطاب الفاروق رضی اللہ عنہ کے قاتل کی، جن کو بلا دلیل و تاویل غدر کرتے ہوئے، ایک باقاعدہ منصوبہ کے تحت نماز کے دوران میں عین مسجد نبوی میں اور محراب رسول میں ظلمًا شہید کر دیا گیا، جو ان کے زمانہ میں روئے زمین کے ہر فرد بشر سے افضل و بزرگ تھے، تو ان کی غیرت و حمیت پیوند خاک ہو جاتی ہے اور خلیفہ مسلمین پر ہونے والے اس ظلم و ستم کے بارے میں ایک حرف بھی ان کے لبوں پر نہیں آتا، جنہوں نے امت مسلمہ کو رفعتوں اور عزتوں کی چوٹیوں پر جا بٹھایا تھا۔
قاتلان حسینؓ پر بے محابا غل مچانے والوں کا مشیر رسول کے مجوسی قاتل ابو لولو فیروز دیلمی پر لبوں کو سی لینا کسی اور امر کی غمازی کرتا ہے اور ان کے اس ’’فکری سکوت‘‘ کے تانے بانے کہیں اور جا ملتے ہیں!!
صورتِ حال یوں ہے کہ
اب نہ تو یہاں کوئی شور و غل ہے نہ ہنگامہ
نہ اظہار غم ہے اور نہ رونا دھونا
نہ جلوس ہیں اور نہ قاتل فاروق پر سب و شتم اور لعن طعن!!
تو کیا اس کی وجہ کہیں یہ تو نہیں کہ
’’وہ قاتل ’’مجوسی ایرانی اور فارسی‘‘ تھا۔
کیا اب بھی تاریخ کا آئینہ صاف نہیں ہوتا اور اس کے سامنے سے تشکیک کی اڑائی گرد نہیں چھٹتی اور یہ بات الم نشرح ہو کر سامنے نہیں آتی کہ مذہبی رجحانات کے پیچھے اصل مقصد اسلام کی تاریخ میں علمی اور فکری تشکیک پیدا کرنا ہے۔
ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ ان کے کھیتوں سے ایک بکری بھی گزر جائے تو اسے مار بھگانے کو دوڑ پڑتے ہیں، لیکن امت مسلمہ پر قیامت بھی گزر جائے تو عقل کے پتلے بن کر دوسروں کو یہ فہمائش کرتے نظر آتے ہیں کہ جی! جابر و قاہر بادشاہوں پر لب کشائی موت کو دعوت دینا ہے، اس لیے جو ہو رہا ہے، ہونے دو، عافیت اسی میں ہے کہ چپ رہو۔
ان اعدائے صحابہ کا یہی موقف قرآن کے اوراق کے سامنے شہید کر دئیے جانے والے خلیفہ راشد امیر المومنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اور مسجد میں دھوکہ سے شہید کر دئیے جانے والے خلیفہ راشد امیر المومنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے بارے میں بھی ہے۔ انہی فتنہ پردازوں نے جناب حسین رضی اللہ عنہ کو جھوٹے خطوط بھیج بھیج کر اپنے مقتل کی طرف نکلنے پر مجبور کیا۔ پھر جو ہوا سو ہوا اور امت آج تک اس دل فگاروجگر پاش اور روح فرسا واقعہ کی پاداش میں بدترین تفرقہ اور اختلاف کا شکار چلی آ رہی ہے، اس کی وحدت کا شیرازہ بکھر گیا ہے، اس کے عقائد میں وہ دراڑیں ڈال دی گئی ہیں، جو بھرنے میں نہیں آ رہی ہیں اور امت سنت و الجماعت کا بے علم اور جاہل طبقہ ان کے خود ساختہ عقائد کی بلی چڑھتا جا رہا ہے۔ خونِ حسین رضی اللہ عنہ کی آڑ میں صدیوں سے امت مسلمہ کے صلحاء، اتقیاء، علماء اور قائدین کا بے محابا خون بہایا جا رہا ہے۔ ان جملہ تفصیلات کی روشنی میں ہم پورے وثوق کے ساتھ یہ کہہ سکتے ہیں کہ
٭ قتل حسین رضی اللہ عنہ کی پہلی ذمہ داری کوفی سبائی رافضیوں کے سر ہے۔
٭ پھر امیر کوفہ ابن مرجانہ فارسیہ عبیداللہ کے سر پر ہے، جو انہی غوغائی رافضی سبائیوں کے عقائد و اخلاق کی فضاؤں میں پلا بڑھا اور جوان ہو کر انہی کے رنگ میں پوری طرح رنگا گیا۔ جس نے ان کوفیوں سے سب سے زیادہ جو بات سیکھی، وہ تھی حضرات صحابہ کرام اور آل بیت رسولﷺ سے بغض و عداوت اور اسی بغض و عداوت نے اس کے سامنے نواسہ رسول کے قتل کو مزین کر کے پیش کیا اور بالآخر وہ یہ کام کر گزرا۔
اس کے بعد یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ جو بھی ان دونوں طبقوں کو اس جرم سے بری قرار دینے کی کوشش کرتا ہے، وہ دراصل باطل کے دفاع میں لگا ہے تاکہ امت فتنوں کی بھول بھلیوں میں بھٹکتی اور سر پٹکتی رہے اور کینوں کی دلدل میں دھنسی رہے، جبکہ دوسری طرف حقیقی مجرم فتنوں کی آگ کو مزید بھڑکانے اور سازشوں کے جال بچھانے کے لیے آزاد دندناتا پھرے۔