مقتل حسین رضی اللہ عنہ کا خلاصہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

مقتل حسین رضی اللہ عنہ کا خلاصہ

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 2 از 4

ایسے ابرار و اخیار صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ یزید کا ایک لشکر میں ہونا ان روایات کے جھوٹا ہونے کی دلیل ہے، جو یہ بیان کرتی ہیں کہ یزید شراب خوری اور لہو و لعب کا عادی تھا، لیکن اس کے باوجود صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس کے امیر ہونے پر راضی تھے۔ حاشا و کلا کہ اگر یزید ایسی باتوں کا مرتکب ہوتا، جو حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اخلاق کے متناقض ہوتی ہیں، تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جیسا متبع سنت شخص معاصی کے مرتکب ایک امیر کی قیادت میں کسی غزوہ میں کیونکر شریک ہو سکتا تھا؟

بلاشبہ ایسی روایات سے حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی دیانت اور تقویٰ کو موردِ طعن بنایا جاتا ہے کہ یہ لوگ منکرات پر راضی تھے اور دراصل یزید کی کردار کشی کی آڑ میں زیادہ مقصود خود حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی کردار کشی ہوتی ہے۔

دوسرے یہ امر بھی ملحوظ رہے کہ ان روایات کی خود علمی دنیا میں کوئی قدر و قیمت نہیں، چاہے یہ روایات زبانِ زد خلائق ہی ہیں۔

اس طرح حضرت عبداللہ بن زبیر، حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہم جیسے اکابر صحابہ کا اس لشکر میں شریک ہونا جس کی قیادت یزید کر رہا ہو، ( یہ غزوۂ قسطنطنیہ کا ذکر ہے) اس بات کی بہتر دلیل ہے کہ یزید استقامت کی صفت سے متصف تھا، اس میں متعدد صفات حمیدہ جمع تھیں اور اس میں مہمات امور کو سر انجام دینے کی صلاحیتیں موجود تھیں، وگرنہ ایسے افاضل و اکابر صحابہ رضی اللہ عنہم ایک فاسق و فاجر -جیسا کہ زبان زد خلائق ہے- کی زیر قیادت کبھی کسی غزوہ میں نہ نکلتے۔ دوسرے حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مبارک زندگیوں کا صرف ایک ہی مقصد تھا اور وہ تھا ’’اعلائے کلمۃ اللہ۔‘‘

پھر یزید کی بیعت کرنا جناب ابن عمر رضی اللہ عنہما کا کوئی عارضی موقف نہ تھا۔ چنانچہ جب حرہ کا واقعہ پیش آیا اور لوگوں نے یزید کی بیعت ختم کر دی، تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے بچوں کو جمع کیا، پھر کلمہ شہادت پڑھا، پھر فرمایا:

’’اما بعد! ہم نے ان صاحب کی اللہ اور اس کے رسولﷺ کے نام پر بیعت کی ہے، میں نے نبی کریمﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ’’غدر کرنے والے کے لیے روزِ قیامت ایک پرچم نصب کیا جائے گا اور کہا جائے کہ یہ فلاں کی غداری (کا نشان) ہے اور سب سے بڑی غداری یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے کی اللہ اور اس کے رسولﷺ کے نام پر بیعت کرے، پھر اس کی بیعت کو توڑ ڈالے، پس تم میں سے کوئی یزید کی بیعت نہ توڑے اور تم میں سے کوئی اس امر (خلافت) کی طرف نہ دیکھے، وگرنہ اس کے اور میرے درمیان لا تعلقی ثابت ہو جائے گی۔‘‘ (مسند احمد: 5088 شیخ ارناؤ وط کہتے ہیں: اس کی اسناد صحیح ہیں اور شیخین کی شرط پر ہے)

محمد بن حنفیہ رحمۃ اللہ کی شہادت بھی ہمارے سامنے ہے، جو یزید پر لگائے جانے والے اتہامات کے ردّ کا شافی جواب ہیں۔ چنانچہ محمد بن حنفیہ رحمۃ اللہ نے یزید کے خلاف خروج کرنے والے ہر شخص سے علیحدگی اختیار کر لی تھی، جن میں خود ان کے بھائی حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما بھی شامل تھے، حالانکہ محمد رحمۃ اللہ کبھی کسی میدان سے پیچھے رہنے والے نہ تھے۔ یہ وہی محمد رحمۃ اللہ تو ہیں، جو اپنے والد ماجد سیدنا علی ابن ابی طالب امیر المومنین و خلیفہ راشد رضی اللہ عنہ کا پرچم تھامے جمل اور صفین کے میدانوں میں سب سے آگے آگے تھے۔ بہرحال محمد بن حنفیہ رحمۃ اللہ کا موقف ان جھوٹی روایات کو جھٹلاتا ہے، جو یزید کی طرف غیر اسلامی اخلاق کو منسوب کرتی ہیں، جیسے نماز پنجگانہ میں غفلت کرنا وغیرہ اور طعنہ پروروں کے اُڑائے شبہات کو پا درِ ہوا کر دیتا ہے، مشہور مؤرخ بلاذری روایت کرتا ہے:

’’حضرت محمد بن حنفیہ رحمۃ اللہ شام (دمشق) یزید بن معاویہؓ کے پاس تشریف لے گئے۔ چند دن بعد جب لوٹنے کا ارادہ کیا، تو الوداع کہنے یزید بن معاویہؓ کے پاس تشریف لے گئے۔ یزید ان کی بے پناہ عزت کیا کرتا تھا۔ کہنے لگا: اے ابو القاسم! اگر آپ نے مجھ میں کسی ناگوار بات کو دیکھا ہو، تو میں اس سے دست کش ہوتا ہوں اور جو آپ کہیں گے، وہ کرنے کو تیار ہوں۔ محمد بن حنفیہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! اگر میں تم میں کسی منکر کو دیکھتا، تو میں تمہیں اس سے روکے بغیر رہ نہ سکتا تھا، اور اس بارے میں حق بات سے تم کو ضرور آگاہ کرتا، کیونکہ رب تعالیٰ نے اہل علم سے اس بات کا عہد لیا ہے کہ وہ حق بات لوگوں کو ضرور بیان کریں گے اور اس کو چھپا کر نہ رکھیں گے۔ میں نے تم میں خیر کے سوا کچھ نہیں دیکھا۔‘‘ (انساب الاشراف: جلد، 5 صفحہ 17)

امام ابن کثیر رحمۃ اللہ نے روایت کیا ہے کہ حضرت عبداللہ ابن زبیر رضی اللہ عنہما کا مناد عبداللہ بن مطیع چند ساتھیوں کے ساتھ مل کر محمد بن حنفیہ رحمۃ اللہ سے ملنے مدینہ روانہ ہوا۔ ان لوگوں کا ارادہ انہیں یزید کی بیعت توڑنے پر راضی کرنے کا تھا۔ لیکن محمد رحمۃ اللہ نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ اس پر ابن مطیع کہنے لگا: یزید مے خوار اور تارک صلوۃ ہے، وہ کتاب خدا کے حکم سے تجاوز کرتا ہے۔ محمد رحمۃ اللہ نے یہ سن کر کہا:

’’لیکن میں نے اس میں یہ باتیں نہیں دیکھیں، میں اس کے پاس جا کر چند دن قیام کر کے آیا ہوں، میں نے اسے صوم و صلوٰۃ کا پابند، خیر کا متلاشی، علم دین کا سائل اور سنت کا پیرو دیکھا ہے۔‘‘

ابن مطیع بولا: یہ اس نے آپ کو دکھلانے کے لیے کیا تھا (وہ بناوٹ کر رہا تھا)

محمد بولے: ’’بھلا اس کو مجھ سے ڈرنے کی یا مجھ میں کسی بات کے طمع رکھنے کی کیا ضرورت تھی؟ دوسرے مے خواری وغیرہ کی، جو باتیں تم لوگ ذکر کر رہے ہو، کیا یہ باتیں اس نے تمہیں بتلائی ہیں؟ اگر تو اس نے یہ باتیں تمہیں بتلائی ہیں تو تم بھی ان باتوں میں شریک ہو (کہ کل تک اس کی بیعت پر تھے اور آج اس کی بیعت توڑتے ہو) اور اگر یہ باتیں اس نے تمہیں نہیں بتلائیں، تو تمہارے لیے ایسی باتوں کی شہادت دینا جائز نہیں، جن کو تم جانتے نہیں۔‘‘

اس پر ان لوگوں نے کہا: ہم اس بارے میں حق پر ہیں، اگرچہ ہم نے یہ باتیں نہیں بھی دیکھیں۔ محمد بن حنفیہ رحمۃ اللہ نے تب یہ بات کہی:

صفحہ 2 از 4